سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى الْمَوْتِ
باب: موت پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4164
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ:" عَلَى الْمَوْتِ".
یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے کہا: حدیبیہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ لوگوں نے کس چیز پر بیعت کی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4164]
حضرت یزید بن ابی عبید رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حدیبیہ کے دن تم (یعنی صحابہ) نے کس بات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی؟ انہوں نے فرمایا: موت پر۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 110 (2960)، المغازي 35 (4169)، الأحکام 43 (7206)، 44 (7208)، صحیح مسلم/الإمارة 18 (1860)، سنن الترمذی/السیر 34 (1592)، (تحفة الأشراف: 4536)، مسند احمد (4/47، 51، 54) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: موت کسی کے اختیار میں نہیں ہے، اس لیے موت پر بیعت کرنے کا مطلب میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت ہے، ہاں میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر کبھی موت بھی ہو سکتی ہے، اسی لیے بعض لوگوں نے کہا کہ ”موت پر بیعت کی“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
9. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى الْجِهَادِ
باب: جہاد پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4165
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ابْنَ أَخِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي أُمَيَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ , وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ".
یعلیٰ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فتح مکہ کے دن ابوامیہ کو لے کر آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے باپ نے ہجرت پر بیعت کر لی ہے۔ تو آپ نے فرمایا: ”میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں اور ہجرت کا سلسلہ تو بند ہو گیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4165]
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں فتح مکہ کے دن اپنے والد حضرت امیہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے والد سے ہجرت کی بیعت لے لیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان سے جہاد کی بیعت لیتا ہوں۔ ہجرت تو اب ختم ہوچکی۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11843)، وأعادہ المؤلف برقم 4173 (ضعیف) (اس کے راوی ’’عمرو بن عبدالرحمن‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مکہ سے ہجرت کا سلسلہ بند ہو گیا کیونکہ مکہ تو دارالاسلام بن چکا ہے، البتہ دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عمرو بن عبد الرحمن بن أمية مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده. ولبعض الحديث شواهد صحيحة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 352
حدیث نمبر: 4166
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ , وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ:" تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا , وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَّى فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ". خَالَفَهُ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اور اس وقت آپ کے اردگرد صحابہ کی ایک جماعت تھی): ”تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنے بچوں کو قتل نہیں کرو گے، اور اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر بہتان نہیں لگاؤ گے، کسی معروف (بھلی بات) میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔ (بیعت کے بعد) جو ان باتوں کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، تم میں سے کسی نے کوئی غلطی کی ۱؎ اور اسے اس کی سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس نے غلطی کی اور اللہ نے اسے چھپائے رکھا تو اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہو گا، اگر وہ چاہے تو معاف کر دے اور چاہے تو سزا دے۔ احمد بن سعید نے اسے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4166]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد صحابہ کرام کی ایک جماعت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، کسی پر اپنی طرف سے گھڑ کر جھوٹ و بہتان نہیں باندھو گے اور کسی نیکی کے کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے، پھر جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا، اس کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ اور تم میں سے جس شخص نے ان میں سے کوئی کام کر لیا اور اس کو (دنیا میں) اس کی سزا مل گئی تو وہ سزا اس کے گناہ کو مٹا دے گی۔ اور جس شخص نے ان میں سے کوئی کام کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، چاہے معاف فرمائے، چاہے سزا دے۔“ احمد بن سعید نے (عبید اللہ بن سعد کی) مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 11 (18)، مناقب الأنصار 43 (3892)، المغازي 12 (3999)، تفسیرالممتحنة 3 (4894)، الحدود 8 (6784)، 14 (6801)، الدیات 2 (6873)، الأحکام 49 (7213)، التوحید31 (7468)، صحیح مسلم/الحدود 10 (1709)، سنن الترمذی/الحدود 12 (1439)، (تحفة الأشراف: 5094)، مسند احمد (5/314)، سنن الدارمی/السیر 17 (2497)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1483، و4215، و5005 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی شرک کے علاوہ، کیونکہ توبہ کے سوا شرک کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ ۲؎: یہ اختلاف اس طرح ہے کہ احمد بن سعید کی روایت (جو آگے آ رہی ہے) میں صالح بن کیسان اور زہری کے درمیان حارث بن فضیل کا اضافہ ہے، اور زہری اور عبادہ بن صامت کے درمیان ابوادریس خولانی کا اضافہ نہیں ہے، اس اختلاف سے اصل حدیث کی صحت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4167
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَلَا تُبَايِعُونِي عَلَى مَا بَايَعَ عَلَيْهِ النِّسَاءُ، أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ"، قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ أَصَابَ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا فَنَالَتْهُ عُقُوبَةٌ فَهُوَ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ لَمْ تَنَلْهُ عُقُوبَةٌ , فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم مجھ سے ان باتوں پر بیعت نہیں کرو گے جن پر عورتوں نے بیعت کی ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرو گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے، نہ اپنے بچوں کو قتل کرو گے اور نہ خود سے گھڑ کر بہتان لگاؤ گے، اور نہ کسی معروف (اچھے کام) میں میری نافرمانی کرو گے؟“، ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! چنانچہ ہم نے ان باتوں پر آپ سے بیعت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس کے بعد کوئی گناہ کیا اور اسے اس کی سزا مل گئی تو وہی اس کا کفارہ ہے، اور جسے اس کی سزا نہیں ملی تو اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہے، اگر چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا اور چاہے گا تو سزا دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4167]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ان کاموں کی مجھ سے بیعت نہیں کرتے جن کی عورتوں نے بیعت کی ہے؟ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، کسی پر اپنی طرف سے گھڑ کر بہتان نہیں باندھو گے اور کسی اچھے کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ (ہم بیعت کریں) پھر ہم نے ان کاموں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بعد جس نے ان میں سے کوئی کام کیا اور اس کو سزا مل گئی تو وہ سزا اس کے گناہ کو مٹا دے گی اور جس کو (دنیا میں) سزا نہ ملی تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، چاہے وہ اسے معاف فرما دے، چاہے سزا دے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
10. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى الْهِجْرَةِ
باب: ہجرت پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4168
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَقَدْ تَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ، قَالَ:" ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ سے ہجرت پر بیعت کروں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے چھوڑا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم ان کے پاس واپس جاؤ اور انہیں جس طرح تم نے رلایا ہے اسی طرح ہنساؤ“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4168]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے آیا ہوں جبکہ میں اپنے ماں باپ کو روتا چھوڑ آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا اور جیسے تو نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنسا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 33 (2528)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 12 (2782)، (تحفة الأشراف: 8640)، مسند احمد (2/160، 194، 197، 198، 204) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت پر بیعت کرنے سے انکار نہیں کیا، صرف اس آدمی کے مخصوص حالات کی بنا پر ہجرت کی بجائے ماں باپ کی خدمت میں لگے رہنے کی ہدایت کی، اس لیے اس حدیث سے ہجرت پر بیعت لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
11. بَابُ: شَأْنِ الْهِجْرَةِ
باب: ہجرت کے معاملہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4169
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ؟، فَقَالَ:" وَيْحَكَ , إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہارا برا ہو۔ ہجرت کا معاملہ تو سخت ہے۔ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ان کی زکاۃ نکالتے ہو؟“ کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ، پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4169]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے! ہجرت بہت مشکل کام ہے۔ کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ان کی زکاۃ دیتا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بستیوں سے باہر رہ کر نیکی کے کام کرتا رہ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ (ہجرت نہ کرنے کی بنا پر) تیرے عمل کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 36 (1452)، الہبة 35 (2633)، مناقب الأنصار 45 (3923)، الأدب 95 (6165)، صحیح مسلم/الإمارة 20 (87)، سنن ابی داود/الجہاد 1 (2474)، (تحفة الأشراف: 4153)، مسند احمد (3/14، 64 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مفہوم یہ ہے کہ تمہاری جیسی نیت ہے اس کے مطابق تمہیں ہجرت کا ثواب ملے گا تم خواہ کہیں بھی رہو۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت ان لوگوں پر واجب ہے جو اس کی طاقت رکھتے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
12. بَابُ: هِجْرَةِ الْبَادِي
باب: اعرابی (دیہاتی) کی ہجرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4170
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ: هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي، فَأَمَّا الْبَادِي، فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! کون سی ہجرت زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ تمام چیزیں چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناپسند ہیں“، اور فرمایا: ”ہجرت دو قسم کی ہے: ایک شہری کی ہجرت اور ایک اعرابی (دیہاتی) کی ہجرت، رہا اعرابی تو وہ جب بلایا جاتا ہے آ جاتا ہے اور اسے جو حکم دیا جاتا ہے مانتا ہے، لیکن شہری کی آزمائش زیادہ ہوتی ہے، اور اسی (حساب سے) اس کو بڑھ کر ثواب ملتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4170]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہجرت کون سی افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو ان کاموں کو چھوڑ دے جنہیں تیرا رب تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے۔“ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک تو شہری کی ہجرت، دوسری بدوی (اعرابی) کی ہجرت۔ بدوی کا کام یہ ہے کہ جب اسے بلایا جائے تو وہ آ جائے اور جب اسے حکم دیا جائے تو وہ اطاعت کرے لیکن شہری کو مشقت بھی زیادہ ہے اور ثواب بھی۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8630)، مسند احمد (3/160، 191، 193، 194، 195) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حقیقی ہجرت تو اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں سے روکا ہے اس کا چھوڑنا ہی ہے، خود ترک وطن بھی ممنوع چیزوں سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے، اور شہر میں رہنے والے سے زیادہ اعرابی (دیہاتی) کے لیے وطن چھوڑنا آسان ہے، کیونکہ آبادی میں رہنے والوں کے معاشرتی مسائل بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے ترک وطن بڑا ہی تکلیف دہ معاملہ ہوتا ہے، اور اسی لیے ان کی ہجرت (ترک وطن) کا ثواب بھی زیادہ ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
13. بَابُ: تَفْسِيرِ الْهِجْرَةِ
باب: ہجرت کی شرح و تفسیر۔
حدیث نمبر: 4171
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، لِأَنَّهُمْ هَجَرُوا الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ مُهَاجِرُونَ، لِأَنَّ الْمَدِينَةَ كَانَتْ دَارَ شِرْكٍ، فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر مہاجرین میں سے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے مشرکین (ناطے داروں) کو چھوڑ دیا تھا۔ انصار میں سے (بھی) بعض مہاجرین تھے اس لیے کہ مدینہ کفار و مشرکین کا گڑھ تھا اور یہ لوگ (شرک کو چھوڑ کر) عقبہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4171]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اس لیے مہاجر تھے کہ انہوں نے مشرکین (اور ان کے علاقے) کو چھوڑ دیا تھا، اور انصار میں سے بھی لوگ مہاجر تھے کیونکہ مدینہ بھی (آپ کی تشریف آوری سے پہلے) شرک اور مشرکین کا علاقہ تھا، چنانچہ کچھ انصار عقبہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مکہ مکرمہ) چلے آئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5390) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: ہجرت کے اصل معنی کے لحاظ سے مہاجرین و انصار دونوں ہی ”مہاجرین“ تھے۔ ترک وطن کا مقصد اصلی شرک کی جگہ چھوڑنا ہی تو ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
14. بَابُ: الْحَثِّ عَلَى الْهِجْرَةِ
باب: ہجرت کی ترغیب دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4172
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ أَبَا فَاطِمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ؟، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكَ بِالْهِجْرَةِ، فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهَا".
ابوفاطمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا کام بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم پر ہجرت لازم ہے کیونکہ اس جیسا کوئی کام نہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4172]
حضرت ابو فاطمہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جس پر میں قائم رہوں اور اسے جاری رکھوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت کر، (اس وقت تیرے حق میں) اس کے برابر کوئی اور کام نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4172]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12078)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 201 (1422)، مسند احمد (3/428) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ فرمان ابوفاطمہ اور ان جیسے لوگوں کے حالات کے لحاظ سے انہیں کے ساتھ خاص تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے اعمال و افعال کو سائل کے حالات کے لحاظ سے زیادہ بہتر اور اچھا بتایا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
15. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ فِي انْقِطَاعِ الْهِجْرَةِ
باب: ہجرت کے ختم ہو جانے کے سلسلے میں اختلاف روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4173
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى، قَالَ: جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ , وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے والد کے ساتھ آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے باپ سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان سے جہاد پر بیعت لوں گا، (کیونکہ) ہجرت تو ختم ہو چکی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4173]
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن اپنے والد محترم کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے والد سے ہجرت کی بیعت لے لیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان سے جہاد کی بیعت لیتا ہوں۔ ہجرت تو اب ختم ہو چکی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4165 (ضعیف) (اس کے راوی ’’عمرو بن عبدالرحمن‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (4165) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 352