سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ: الْبَيْعَةِ فِيمَا يَسْتَطِيعُ الإِنْسَانُ
باب: طاقت بھر حاکم کی سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) کی بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4194
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَلَقَّنَنِي:" فِيمَا اسْتَطَعْتَ , وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت (حکم سننے اور اس پر عمل کرنے) پر بیعت کی تو آپ نے مجھے ”جتنی میری طاقت ہے“ کہنے کی تلقین کی، نیز میں نے ہر مسلمان کی خیر خواہی پر بیعت کی۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4194]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے سمع اور اطاعت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو آپ نے مجھے (یہ کہنے کی) تلقین فرمائی: ”اپنی استطاعت کے مطابق اور ہر مسلمان سے خیر خواہی کروں گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4179 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4195
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، قَالَتْ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَنَا:" فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ".
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے عورتوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے ہم سے فرمایا: ”جتنی تم استطاعت اور قدرت رکھتی ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4195]
حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم چند عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، آپ نے ہمیں فرمایا: ”تمھاری استطاعت اور طاقت کے مطابق (یہ بیعت تم پر لاگو ہوگی)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4186 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
25. بَابُ: ذِكْرِ مَا عَلَى مَنْ بَايَعَ الإِمَامَ وَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ
باب: جو کسی امام سے بیعت کر لے اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیدے اور اخلاص کا عہد کرے تو اس پر کیا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 4196
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ , وَالنَّاسُ عَلَيْهِ مُجْتَمِعُونَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ نَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشْرَتِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعْنَا، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنَا، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ، أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ , وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ، وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا، وَإِنَّ آخِرَهَا سَيُصِيبُهُمْ بَلَاءٌ وَأُمُورٌ يُنْكِرُونَهَا تَجِيءُ فِتَنٌ، فَيُدَقِّقُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ فَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، ثُمَّ تَجِيءُ، فَيَقُولُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ، أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ، وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَوْتَتُهُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُنَازِعُهُ , فَاضْرِبُوا رَقَبَةَ الْآخَرِ"، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
عبدالرحمٰن بن عبد رب الکعبہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، وہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، لوگ ان کے پاس اکٹھا تھے، میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا: اسی دوران جب کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا، تو ہم میں سے بعض لوگ خیمہ لگانے لگے، بعض نے تیر اندازی شروع کی، بعض جانور چرانے لگے، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے پکارا: نماز کھڑی ہونے والی ہے، چنانچہ ہم اکٹھا ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہمیں مخاطب کیا اور آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہ تھا جس پر ضروری نہ رہا ہو کہ جس چیز میں وہ بھلائی دیکھے اس کو وہ اپنی امت کو بتائے، اور جس چیز میں برائی دیکھے، انہیں اس سے ڈرائے، اور تمہاری اس امت کی خیر و عافیت شروع (کے لوگوں) میں ہے، اور اس کے آخر کے لوگوں کو طرح طرح کی مصیبتیں اور ایسے مسائل گھیر لیں گے جن کو یہ ناپسند کریں گے، فتنے ظاہر ہوں گے جو ایک سے بڑھ کر ایک ہوں گے، پھر ایک ایسا فتنہ آئے گا کہ مومن کہے گا: یہی میری ہلاکت و بربادی ہے، پھر وہ فتنہ ٹل جائے گا، پھر دوبارہ فتنہ آئے گا، تو مومن کہے گا: یہی میری ہلاکت و بربادی ہے۔ پھر وہ فتنہ ٹل جائے گا۔ لہٰذا تم میں سے جس کو یہ پسند ہو کہ اسے جہنم سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو ضروری ہے کہ اسے موت ایسی حالت میں آئے جب وہ اللہ، اور آخرت (کے دن) پر ایمان رکھتا ہو اور چاہیئے کہ وہ لوگوں سے اس طرح پیش آئے جس طرح وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ پیش آیا جائے۔ اور جو کسی امام سے بیعت کرے اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیدے اور اخلاص کے ساتھ دے تو طاقت بھر اس کی اطاعت کرے، اب اگر کوئی اس سے (اختیار چھیننے کے لیے) جھگڑا کرے تو اس کی گردن اڑا دو، یہ سن کر میں نے ان سے قریب ہو کر کہا: کیا یہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے؟ کہا: ہاں، پھر (پوری) حدیث ذکر کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4196]
حضرت عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا، وہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے ارد گرد جمع تھے۔ میں نے انہیں فرماتے سنا کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ ہم ایک منزل میں اترے، ہم میں سے کوئی شخص ابھی خیمہ لگا رہا تھا، کوئی (بطور مشق) تیر اندازی کر رہا تھا اور کوئی اپنے جانوروں کو چرانے کے لیے نکال رہا تھا کہ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» ”نماز کے لیے اکٹھے ہو جاؤ“، چنانچہ ہم سب اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ نے (خطبہ کے دوران میں) فرمایا: ”جو بھی نبی مجھ سے پہلے گزرے ہیں، ان پر ضروری تھا کہ اپنی امت کی ان باتوں کی طرف رہنمائی فرمائیں جنہیں وہ ان کے لیے بہتر سمجھتے تھے، اور انہیں ان چیزوں سے ڈرائیں جنہیں وہ ان کے لیے برا سمجھتے تھے، اور تمہاری اس امت کی خیر و بھلائی اس کے ابتدائی لوگوں میں رکھ دی گئی ہے، بعد میں آنے والوں پر بڑی آزمائشیں آئیں گی اور ایسے حالات طاری ہوں گے جنہیں وہ ناپسند کریں گے۔ بے شمار فتنے آئیں گے جو ایک دوسرے کے مقابلے میں ہلکے معلوم ہوں گے (ایک سے بڑھ کر ایک ہو گا)۔ ایک فتنہ آئے گا، مومن سمجھے گا کہ یہ مجھے ہلاک کر ڈالے گا، پھر وہ فتنہ ٹل جائے گا اور اس کی جگہ اور بڑا فتنہ آئے گا۔ مومن کہے گا: یہ ہلاک کن ہے (اس سے تو میں بچ ہی نہیں سکتا) پھر وہ بھی ٹل جائے گا، چنانچہ تم میں سے جو شخص چاہتا ہے کہ اسے آگ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا جائے تو اس کو موت اس حال میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ خود پسند کرتا ہے کہ میرے ساتھ کیا جائے۔ جو شخص کسی امام (امیر) کی بیعت کرے، اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے اور اس سے دلی طور پر (خلوص کا) عہد کرے تو جہاں تک ہو سکے، وہ اس کی اطاعت کرے، پھر اگر کوئی دوسرا شخص (مسلمہ) امیر سے حکومت چھیننے کی کوشش کرے تو اس کی گردن مار دو۔“ (راوی نے کہا:) میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے قریب ہو کر پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب باتیں فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! (یقینا)۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة (1844)، سنن ابی داود/الفتن 1(4248)، سنن ابن ماجہ/الفتن 9(3956)، (تحفة الأشراف: 8881) مسند احمد (2/161، 191، 192، 193) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا آخری حصہ مؤلف نے نہیں ذکر کیا، امام مسلم نے اس کو ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ”عبدالرحمٰن بن عبد رب کعبہ نے عرض کیا: معاویہ رضی اللہ عنہ ایسا ویسا کر رہے ہیں، اس پر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم معروف (بھلی بات) میں ان کی اطاعت کرتے رہو، اگر کسی منکر (برے کام) کا حکم دیں تو تم انکار کر دو، لیکن ان کے خلاف بغاوت مت کرو (خلاصہ) یہ کہ یہ حدیث سلف صالحین کے اس منہج اور طریقے کی تائید کرتی ہے کہ کسی مسلمان حاکم کے بعض منکر کاموں کی وجہ سے ان کو اختیار سے بے دخل کر دینے کے لیے ان کے خلاف تحریک نہیں چلائی جا سکتی، معروف کے سارے کام اس کی ماتحتی میں کئے جاتے رہیں گے۔ اور منکر کے سلسلے میں صرف زبانی نصیحت کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
26. بَابُ: الْحَضِّ عَلَى طَاعَةِ الإِمَامِ
باب: امام کی اطاعت پر ابھارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4197
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدَّتِي، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا".
یحییٰ بن حصین کی دادی (ام الحصٰن الاحمسیۃ رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے ہوئے سنا: اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنا دیا جائے جو تمہیں کتاب اللہ کے مطابق چلائے تو تم اس کی سنو اور اطاعت کرو۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4197]
حضرت یحییٰ بن حصین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی دادی رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا: ”اگر تم پر ایک حبشی غلام امیر بنا دیا جائے جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب (شریعت اسلامیہ) کے مطابق چلائے تو تم اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 51 (1298)، والإمارة 8 (1838)، والجہاد 39 (2861) سنن ابن ماجہ/الجہاد 39 (2861)، (تحفة الأشراف: 18311)، مسند احمد (4/69، 5/381، 6/402، 403) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
27. بَابُ: التَّرْغِيبِ فِي طَاعَةِ الإِمَامِ
باب: امام کی اطاعت کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4198
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی تو اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4198]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے میری اطاعت کی، درحقیقت اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ اور جس شخص نے میری نافرمانی کی، اس نے درحقیقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ (اسی طرح) جس شخص نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی، اس نے درحقیقت میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی، اس نے درحقیقت میری نافرمانی کی۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 8 (1835)، (تحفة الأشراف: 15138)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 9 10 (2957)، الأحکام 1 (7137)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 1(3)، الجہاد 39 (2859)، مسند احمد 2/511 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
28. بَابُ: قَوْلِهِ تَعَالَى {وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ}
باب: آیت کریمہ: ”اور فرمانبرداری کو رسول (صلی للہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی“ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4199
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ سورة النساء آية 59، قَالَ:" نَزَلَتْ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ، بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ «يا أيها الذين آمنوا أطيعوا اللہ وأطيعوا الرسول» ”اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو“ (النساء: ۵۹) یہ آیت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں اتری، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ میں بھیجا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4199]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ آیت: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ﴾ [سورة النساء: 59] ”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو“ حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر میں (امیر بنا کر) بھیجا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرسورة النساء 11 (4584)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1834)، سنن ابی داود/الجہاد 96 (2624)، سنن الترمذی/الجہاد 3 (1672)، تحفة الأشراف: 5651)، مسند احمد 1/337) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ اس سریہ میں کسی بات پر اپنے ماتحتوں پر ناراض ہو گئے تو آگ جلانے کا حکم دیا، اور جب آگ جلا دی گئی تو سب کو حکم دیا کہ اس میں کود جائیں، اس پر بعض ماتحتوں نے کہا: ہم تو آگ ہی سے بچنے کے لیے اسلام میں داخل ہوئے ہیں تو پھر آگ میں کیوں داخل ہوں، پھر معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کرنے کی بات آئی، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اولیٰ الامر سے مراد امراء ہیں نہ کہ علماء اور اگر علماء بھی شامل ہیں تو مقصود یہ ہو گا کہ ایسے امور جن کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح تعلیمات موجود نہ ہوں ان میں ان کی طرف رجوع کیا جائے۔ ”ائمہ اربعہ کے بارے میں خاص طور پر اس آیت کے نازل ہونے کی بات تو قیاس سے بہت زیادہ بعید ہے کیونکہ اس وقت تو ان کا وجود ہی نہیں تھا۔ اور ان کی تقلید جامد تو بقول شاہ ولی اللہ دہلوی چوتھی صدی کی پیداوار ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
29. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي عِصْيَانِ الإِمَامِ
باب: امام اور حاکم کی نافرمانی کی شناعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4200
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ، وَأَطَاعَ الْإِمَامَ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَتَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ، وَأَمَّا مَنْ غَزَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، وَعَصَى الْإِمَامَ، وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَا يَرْجِعُ بِالْكَفَافِ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جہاد دو طرح کے ہیں: ایک تو یہ کہ کوئی خالص اللہ کی رضا کے لیے لڑے، امام کی اطاعت کرے، اپنے سب سے پسندیدہ مال کو خرچ کرے اور فساد سے دور رہے تو اس کا سونا جاگنا سب عبادت ہے، دوسرے یہ کہ کوئی شخص دکھاوے اور شہرت کے لیے جہاد کرے، امام کی نافرمانی کرے، اور زمین میں فساد برپا کرے، تو وہ برابر سراسر بھی نہ لوٹے گا“ (بلکہ عذاب کا مستحق ہو گا)۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4200]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگ دو قسم کی ہوتی ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی نیت کرے، امام کی اطاعت کرے اور قیمتی مال (جہاد میں) صرف کرے اور فساد سے بچے تو اس کا سونا جاگنا سب اس کے لیے ثواب کا ذریعہ ہیں۔ لیکن جو شخص ریاکاری اور شہرت کے لیے لڑائی کرے، امام کی نافرمانی کرے اور زمین میں فساد پھیلائے، وہ تو پہلی حالت میں بھی واپس نہیں لوٹے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3190 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
30. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَجِبُ لِلإِمَامِ وَمَا يَجِبُ عَلَيْهِ
باب: امام اور حاکم کے حقوق و واجبات اور ذمہ داریوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4201
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ، يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ، وَيُتَّقَى بِهِ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَعَدَلَ، فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا، وَإِنْ أَمَرَ بِغَيْرِهِ، فَإِنَّ عَلَيْهِ وِزْرًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام ایک ڈھال ہے جس کے زیر سایہ ۱؎ سے لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے جان بچائی جاتی ہے۔ لہٰذا اگر وہ اللہ سے تقویٰ کا حکم دے اور انصاف کرے تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور اگر وہ اس کے علاوہ کا حکم دے تو اس کا وبال اسی پر ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4201]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام ڈھال ہے، اس کی آڑ میں لڑا جائے اور اس کی مدد کے ساتھ دشمن سے بچا جائے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے حکم دے اور انصاف کرے تو اس کو اس کا ثواب ملے گا اور اگر وہ اس طرح حکم نہ دے تو اسے گناہ ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 109(2957)، (تحفة الأشراف: 3741)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 9 (1841)، سنن ابی داود/الجہاد 163 (2757) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی رائے سے اور اس کی قیادت میں جنگ لڑی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
31. بَابُ: النَّصِيحَةِ لِلإِمَامِ
باب: امام اور حاکم کے لیے خیر خواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4202
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَأَلْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، قُلْتُ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِيكَ، قَالَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي حَدَّثَ أَبِي، حَدَّثَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ: عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ"، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ , وَعَامَّتِهِمْ".
تمیم الداری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین نصیحت خیر خواہی کا نام ہے“، آپ نے کہا: (نصیحت و خیر خواہی) کس کے لیے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے اماموں کے لیے اور عوام کے لیے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4202]
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین تو بس خلوص و خیر خواہی کا نام ہے۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کس سے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے، اس کی کتاب سے، اس کے رسول سے، مسلمانوں کے حکام سے اور عوام الناس سے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 23 (55)، سنن ابی داود/الأدب 67 (4944)، (تحفة الأشراف: 2053)، مسند احمد (4/102) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اللہ کے لیے خیر خواہی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ کی وحدانیت کا قائل ہو اور اس کی ہر عبادت خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ کتاب اللہ (قرآن) کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ اس پر ایمان لائے اور عمل کرے۔ رسول کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ نبوت و رسالت محمدیہ کی تصدیق کرنے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن چیزوں کا حکم دیں اسے بجا لائے اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز رہے، اور آپ کی تعلیمات کو عام کرے، مسلمانوں کے حاکموں کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ حق بات میں ان کی تابعداری کی جائے اور کسی شرعی وجہ کے بغیر ان کے خلاف بغاوت کا راستہ نہ اپنایا جائے۔ اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہی یہ ہے کہ ان میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائے، اور ان کے مصالح کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4203
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ"، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ , وَعَامَّتِهِمْ".
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین خیر خواہی کا نام ہے“ لوگوں نے عرض کیا: کس کے لیے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب (قرآن) کے لیے، اس کے رسول (محمد) کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ اور عوام کے لیے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4203]
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین تو ہے ہی اخلاص کا نام۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کس کے ساتھ اخلاص؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ، اس کی کتاب کے ساتھ، اس کے رسول کے ساتھ، مسلمانوں کے حکام کے ساتھ اور عام مسلمانوں کے ساتھ۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن