🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ: بَيْعَةِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کی بیعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4184
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: لَمَّا أَرَدْتُ، أَنْ أُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَةً أَسْعَدَتْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَأَذْهَبُ فَأُسْعِدُهَا ثُمَّ أَجِيئُكَ فَأُبَايِعُكَ؟، قَالَ:" اذْهَبِي فَأَسْعِدِيهَا"، قَالَتْ: فَذَهَبْتُ فَسَاعَدْتُهَا ثُمَّ جِئْتُ فَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنی چاہی تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک عورت نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ (سوگ منانے) میں میری مدد کی تھی تو مجھے اس کے یہاں جا کر نوحہ میں اس کی مدد کرنی چاہیئے، پھر میں آ کر آپ سے بیعت کر لوں گی۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ اس کی مدد کرو“، چنانچہ میں نے جا کر اس کی مدد کی، پھر آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4184]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک عورت نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں مدد کی تھی۔ میں جاکر اس کی مدد کر کے آتی ہوں، پھر آکر آپ کی بیعت کروں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا، اس کی مدد کر آ۔“ میں گئی اور میں نے اس کی مدد کا اسے بدلہ دیا، پھر میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18099)، مسند احمد (6/408) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ بیعت کے بعد وہ نوحہ میں مدد نہیں کر سکتی تھیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی صراحت آ رہی ہے، یہ اجازت صرف ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص تھی اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کو یہ حق نہیں کہ شریعت کے کسی حکم کو کسی کے لیے خاص کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4185
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْعَةَ عَلَى أَنْ لَا نَنُوحَ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی کہ ہم نوحہ نہیں کریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4185]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 45 (1306 مطولا)، الأحکام 49 (7215)، صحیح مسلم/الجنائز 10 (936)، (تحفة الأشراف: 18097) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4186
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ نُبَايِعُهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيكَ فِي مَعْرُوفٍ. قَالَ:" فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ، وَأَطَقْتُنَّ"، قَالَتْ: قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا , هَلُمَّ نُبَايِعْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي: لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ، أَوْ مِثْلُ قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ".
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں انصار کی چند عورتوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تاکہ ہم بیعت کریں، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے، نہ چوری کریں گے، نہ زنا کریں گے، اور نہ ایسی کوئی الزام تراشی کریں گے جسے ہم خود اپنے سے گھڑیں، نہ کسی معروف (بھلے کام) میں ہم آپ کی نافرمانی کریں گے، آپ نے فرمایا: ”اس میں جس کی تمہیں استطاعت ہو یا قدرت ہو“، ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر زیادہ مہربان ہیں، آئیے ہم آپ سے بیعت کریں، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، میرا سو عورتوں سے کہنا ایک عورت سے کہنے کی طرح ہے یا ایک ایک عورت سے کہنے کے مانند ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4186]
حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں کچھ انصاری عورتوں کی معیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، ہم آپ سے بیعت ہونا چاہتی تھیں۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کرتی ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی نیک کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق (تم پابند ہوگی)۔“ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر (ہم سے بھی) زیادہ مہربان اور رحم فرمانے والے ہیں۔ اے اللہ کے رسول! اجازت دیجیے کہ ہم آپ کے دست مبارک پر بیعت کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا۔ میرا زبانی طور پر سو عورتوں سے (بیعت کی) بات چیت کرنا ایسے ہی ہے جیسے ہر ہر عورت سے الگ طور پر بات چیت کروں۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/السیر 37 (1597)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 2 (2874)، (تحفة الأشراف: 15781)، موطا امام مالک/البیعة 1(2)، مسند احمد (6/357)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4195 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: بَيْعَةِ مَنْ بِهِ عَاهَةٌ
باب: کسی بھیانک بیماری والے کی بیعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4187
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الشَّرِيدِ، يُقَالُ لَهُ عَمْرٌو , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْتُكَ".
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا کہ ”لوٹ جاؤ، میں نے تمہاری بیعت لے لی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4187]
آلِ شرید کے ایک شخص عمرو کے والد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی شخص بھی آیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھیجا: ”واپس چلے جاؤ (میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں) میں نے تیری بیعت قبول کرلی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 36 (2231)، سنن ابن ماجہ/الطب 44 (3544)، (تحفة الأشراف: 4837)، مسند احمد (4/389، 390) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اچھی طرح سے یہ جانتے تھے کہ اس کے آنے سے لوگ گھن محسوس کریں گے اور ممکن ہے کہ بعض کمزور ایمان والے وہم میں بھی مبتلا ہو جائیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا کہ تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں میں نے تمہاری بیعت لے لی۔ خود آپ کو گھن نہیں آئی، نہ آپ کو کسی وہم میں مبتلا ہونے کا ڈر تھا، آپ سے بڑھ کر صاحب ایمان کون ہو سکتا ہے؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: بَيْعَةِ الْغُلاَمِ
باب: نابالغ لڑکے کی بیعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4188
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ:" مَدَدْتُ يَدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا غُلَامٌ لِيُبَايِعَنِي , فَلَمْ يُبَايِعْنِي".
ہرماس بن زیاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھایا تاکہ آپ مجھ سے بیعت لے لیں، میں ایک نابالغ لڑکا تھا تو آپ نے مجھ سے بیعت نہیں لی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4188]
حضرت ہرماس بن زیاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے (بیعت کے لیے) اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھایا جبکہ میں اس وقت (نابالغ) بچہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیعت نہیں لی۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4188]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11727) (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ بیعت میں کسی بات کا عہد و پیمان لیا جاتا ہے، جب کہ نابالغ پر کسی عہد و پیمان کی پابندی واجب نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: بَيْعَةِ الْمَمَالِيكِ
باب: غلاموں کی بیعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4189
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ , فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ , وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ , فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْنِيهِ" , فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا , حَتَّى يَسْأَلَهُ:" أَعَبْدٌ هُوَ؟".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام نے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، آپ یہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ یہ غلام ہے، پھر اس کا مالک اسے ڈھونڈتے ہوئے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے ہاتھ بیچ دو“، چنانچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے بدلے خرید لیا، پھر آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی یہاں تک کہ آپ اس سے معلوم کر لیتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4189]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام آیا اور اس نے ہجرت پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہیں تھا کہ وہ غلام ہے۔ کچھ دیر بعد اس کا مالک آگیا، وہ اسے لے جانا چاہتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ غلام مجھے بیچ دے۔“ پھر آپ نے دو کالے غلام دے کر اس کو خریدا۔ اس کے بعد آپ کسی سے بیعت نہ لیتے حتیٰ کہ پوچھ لیتے: ”وہ غلام تو نہیں؟“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 23 (1602)، سنن ابی داود/البیوع 17 (3358مختصرا)، سنن الترمذی/البیوع 22 (1239)، السیر 36 (1596)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 41 (2896)، (تحفة الأشراف: 2904)، یأتي عند المؤلف في البیوع 66 (برقم4625) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: غلام اپنے مالک کا تابع ہے، تو وہ کیسے ہجرت کر سکتا ہے اس لیے آپ غلاموں سے بیعت نہیں لیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: اسْتِقَالَةِ الْبَيْعَةِ
باب: بیعت توڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4190
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي؟ فَأَبَى , ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي؟ فَأَبَى , فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَتَنْصَعُ طِيبَهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر اس کو مدینے میں بخار آ گیا، تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میری بیعت توڑ دیجئیے ۱؎، آپ نے انکار کیا، اس نے پھر آپ کے پاس آ کر کہا: میری بیعت توڑ دیجئیے، آپ نے انکار کیا، تو اعرابی چلا گیا ۲؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ تو بھٹی کی طرح ہے جو اپنی گندگی کو نکال پھینکتا ہے اور پاکیزہ کو اور خالص بنا دیتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4190]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر قبولِ اسلام کی بیعت کی، پھر اس اعرابی کو مدینہ منورہ میں تپ چڑھ گیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری بیعت واپس فرما دیجیے۔ آپ نے انکار کر دیا، وہ دوبارہ آیا اور پھر کہنے لگا: میری بیعت واپس فرما دیجیے۔ آپ نے پھر انکار فرمایا۔ آخر وہ اعرابی (بلا اجازت) چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے، میل کچیل کو نکالتا رہتا ہے اور خالص چیز کو باقی رکھتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل المدینة 10 (1883)، الأحکام 45 (7209)، 47 (7211)، 5 (7216)، الاعتصام 16 (7322)، صحیح مسلم/الحج 88 (1381)، سنن الترمذی/المناقب 68 (3920)، (تحفة الأشراف: 3071)، موطا امام مالک/الجامع 2 (4)، مسند احمد (3/306، 365، 392) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ وہ اس بیماری کو بیعت کی نحوست سمجھ بیٹھا تھا۔ ۲؎: یعنی مدینہ سے چلا گیا، تاکہ اپنے خیال میں اس نحوست سے نجات پا جائے، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی خلیفہ (حکمراں) سے خلافت کی بیعت، یا کسی خاص بات کو توڑنا جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: الْمُرْتَدِّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ
باب: ہجرت کے بعد کسی کا اپنے گاؤں لوٹ آنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4191
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ، ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ، وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا , وَبَدَوْتَ. قَالَ: لَا , وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَذِنَ لِي فِي الْبُدُوِّ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجاج کے پاس گئے تو اس نے کہا: ابن الاکوع! کیا آپ (ہجرت کی جگہ سے) ایڑیوں کے بل لوٹ گئے، اور ایک ایسا کلمہ کہا جس کے معنی ہیں کہ آپ بادیہ (دیہات) چلے گئے۔ انہوں نے کہا: نہیں، مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادیہ (دیہات) میں رہنے کی اجازت دی تھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4191]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ حجاج کے پاس تشریف لے گئے، اس نے کہا: اے ابن اکوع! تم مرتد ہو گئے ہو اور ایک کلمہ کہا جس کے معنیٰ تھے کہ (مدینہ چھوڑ کر) بادیہ میں رہنے لگے ہو؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اپنے بعد) بادیہ میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الفتن 14 (7087)، صحیح مسلم/الإمارة 19 (1862)، (تحفة الأشراف: 4539)، مسند احمد (4/47، 54) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گناہ کبیرہ میں سے ایک گناہ ”ہجرت کے بعد ہجرت والی جگہ کو چھوڑ دینا“ بھی ہے (اس سلسلے میں احادیث مروی ہیں) اسی کی طرف حجاج نے اشارہ کر کے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے یہ بات کہی، جب کہ بات یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمہ کے قبیلہ والوں کو فتنہ سے بچنے کے لیے اس کی اجازت پہلے ہی دے دی تھی، اسی لیے امام بخاری نے اس حدیث پر «التعرب فی الفتنۃ» ”فتنہ کے زمانہ میں دیہات میں چلا جانا“ کا باب باندھا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: الْبَيْعَةِ فِيمَا يَسْتَطِيعُ الإِنْسَانُ
باب: طاقت بھر حاکم کی سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) کی بیعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4192
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ. ح وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ:" فِيمَا اسْتَطَعْتَ". وَقَالَ عَلِيٌّ:" فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ فرماتے تھے: ”جتنی تمہاری طاقت ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4192]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کیا کرتے تھے کہ آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ ”اپنی طاقت کے مطابق۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 22 (1867)، سنن الترمذی/السیر 34 (1593)، (تحفة الأشراف: 7127، 7174)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأحکام 43 (7202)، موطا امام مالک/البیعة 1(1)، مسند احمد (2/62، 81، 101، 139) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دین اسلام کی طبیعت ہی اللہ تعالیٰ نے یہی رکھی ہے کہ بن دوں پر ان کی طبعی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے۔ قرآن میں ارشاد ربانی ہے: «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها» ”اللہ تعالیٰ نے کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے“ (البقرة: 286)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4193
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا حِينَ نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ , يَقُولُ لَنَا:" فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتے تھے تو آپ ہم سے فرماتے تھے: ”جتنی تمہاری طاقت ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4193]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم سمع و طاعت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں فرماتے تھے: ”تمہاری طاقت کے مطابق۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7257) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں