🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. بَابُ: عَقْلِ الأَصَابِعِ
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4850
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ لَمَّا وُجِدَ الْكِتَابُ الَّذِي عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الَّذِي ذَكَرُوا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لَهُمْ , وَجَدُوا فِيهِ:" وَفِيمَا هُنَالِكَ مِنْ الْأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انہیں جب وہ کتاب ملی جو عمرو بن حزم کی اولاد کے پاس تھی، جس کے بارے میں ان لوگوں نے بتایا کہ وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی تھی تو انہوں نے اس میں لکھا ہوا پایا کہ ”انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4850]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب میں نے وہ دستاویز دیکھی جو عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی اولاد کے پاس تھی اور جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تحریر خود لکھوا کر ان کو دی، اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ: ”انگلیوں کی دیت دس دس اونٹ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10726)، وانظرأرقام: 4857-4861 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4851
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ، يَعْنِي الْخِنْصَرَ، وَالْإِبْهَامَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اور یہ دیت میں برابر برابر ہیں“، یعنی انگوٹھا اور چھنگلی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4851]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اور یہ برابر ہیں۔“ یعنی انگوٹھا اور چھنگلی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 20 (6895)، سنن ابی داود/الدیات 20 (4558)، سنن الترمذی/الدیات 4 (1392)، سنن ابن ماجہ/الدیات 18 (2652)، (تحفة الأشراف: 6187)، مسند احمد (1/339، 345)، سنن الدارمی/الدیات 15 (2415) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: انگوٹھا اور چھنگلی دونوں کی دیت برابر (دس اونٹ) ہے ان میں بڑائی چھوٹائی کا لحاظ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4852
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" فَهَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ: الْإِبْهَامُ، وَالْخِنْصَرُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ اور یہ دیت میں برابر برابر ہیں یعنی انگوٹھا اور چھنگلی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4852]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”یہ اور یہ، (یعنی) انگوٹھا اور چھنگلی (دیت کے لحاظ سے) برابر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4853
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" الْأَصَابِعُ عَشْرٌ عَشْرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: انگلیاں یعنی ان کی دیت دس دس اونٹ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4853]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سب انگلیوں کی دیت دس دس اونٹ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6202) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4854
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ:" وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: ”انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4854]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کیا تو اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: ”انگلیوں کی دیت دس دس اونٹ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 20 (4562)، (تحفة الأشراف: 8684)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 18 (2653)، مسند احمد (2/207) (حسن، صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4855
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ , وَابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ , وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ:" الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا اور آپ اپنی پیٹھ کعبے سے ٹیکے ہوئے تھے: ”انگلیاں دیت میں برابر برابر ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4855]
حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے، وہ (شعیب) اپنے دادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے ساتھ اپنی پشت کی ٹیک لگا رکھی تھی: ”تمام انگلیاں (دیت کے لحاظ سے) برابر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8693) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. بَابُ: الْمَوَاضِحِ
باب: ہڈی تک پہنچنے والے زخم کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4856
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ:" وَفِي الْمَوَاضِحِ خَمْسٌ خَمْسٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کیا تو خطبے میں فرمایا: ”ہر اس زخم میں جس میں ہڈی کھل جائے، دیت پانچ پانچ اونٹ ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4856]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کیا تو اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: ”ہڈی کو ننگا کر دینے والے زخموں میں دیت پانچ پانچ اونٹ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 20 (4566)، سنن الترمذی/الدیات 3 (1390)، (تحفة الأشراف: 8680)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 19 (2655)، مسند احمد (2/179، 189، 207، 212)، سنن الدارمی/الدیات 16 (2417) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بشرطیکہ یہ زخم چہرہ اور سر پر ہو، اگر ان کے علاوہ کسی اور جگہ میں ہے تو اس کا حکم دوسرا ہے، اور وہ یہ ہے کہ قاضی یا پنچ اپنی صوابدید سے جو فیصلہ کریں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. بَابُ: ذِكْرِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ وَاخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لَهُ
باب: دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4857
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ كِتَابًا فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ هَذِهِ نُسْخَتُهَا:" مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ , وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ , وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، قَيْلِ ذِيِ رُعَيْنٍ وَمَعَافِرَ , وَهَمْدَانَ أَمَّا بَعْدُ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ:" أَنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ , فَإِنَّهُ قَوَدٌ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، وَأَنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَأَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ". خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ.
عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے ایک کتاب لکھی، اس میں فرائض و سنن اور دیتوں کا ذکر کیا، وہ کتاب عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجی، چنانچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی، اس کا مضمون یہ تھا: نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال کے نام جو رعین، معافر اور ہمدان کے والی تھے۔ امابعد، اس کتاب میں لکھا تھا: جو بلا وجہ کسی مومن کو مار ڈالے اور اس کا ثبوت ہو تو اس سے قصاص لیا جائے گا سوائے اس کے کہ مقتول کے اولیاء معاف کر دیں، اور ایک جان کی دیت سو اونٹ ہے۔ ناک پوری کٹ جائے تو پوری دیت ہے، اور زبان میں دیت ہے، دونوں ہونٹوں میں دیت ہے، دونوں فوطوں میں دیت ہے، عضو تناسل میں دیت ہے، پیٹھ میں دیت ہے، آنکھوں میں دیت ہے، ایک پاؤں کی دیت آدھی ہے، جو زخم دماغ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے۔ جو زخم پیٹ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے، اور جس زخم سے ہڈی سرک جائے اس میں دیت پندرہ اونٹ ہیں۔ اور ہاتھ پاؤں کی ہر انگلی میں دیت دس اونٹ ہیں۔ دانت میں دیت پانچ اونٹ ہیں، اس زخم میں جس سے ہڈی کھل جائے دیت پانچ اونٹ ہیں، اور مرد عورت کے بدلے قتل کیا جائے اور سونا والے لوگوں پر ہزار دینار ہیں۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) محم بن بکار بن بلال نے اس سے اختلاف کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4857]
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کی طرف ایک تحریر لکھوا کر بھیجی جس میں فرائض و سنن اور دیت کے مسائل تھے۔ آپ نے وہ تحریر حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجی تھی۔ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی۔ اس کی عبارت یوں تھی: ”یہ تحریر نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال کی طرف ہے، جو ذو رعین، معافر اور ہمدان کے سردار ہیں۔ «أَمَّا بَعْدُ» ”امابعد!“ (اس تحریر میں بہت سی باتیں تھیں) اس تحریر میں یہ بات بھی تھی کہ جو شخص کسی مومن کو بے گناہ قتل کر دے اور گواہ موجود ہوں تو اس کو قصاصاً قتل کر دیا جائے گا الا یہ کہ مقتول کے ورثاء راضی ہو جائیں۔ اور ہر انسانی جان کی دیت سو اونٹ ہے۔ اگر پوری ناک کاٹ دی جائے تو اس میں مکمل دیت (سو اونٹ) ہوگی۔ زبان پوری کاٹ دی جائے تو اس میں بھی پوری دیت ہوگی۔ دونوں ہونٹ کاٹے جانے کی صورت میں بھی پوری دیت ہوگی۔ خصیتین مکمل کاٹ دیے جائیں تو پوری دیت ہوگی۔ ذکر پورا کاٹ دیا جائے تو پوری دیت ہوگی۔ کمر (ریڑھ) کی ہڈی توڑ دی جائے تو پوری دیت ہوگی۔ دونوں آنکھیں پھوڑ یا نکال دی جائیں تو پوری دیت ہوگی۔ ایک پاؤں کی نصف دیت ہوگی۔ دماغ تک پہنچ جانے والے زخم میں تہائی دیت ہوگی۔ پیٹ کے اندر تک پہنچ جانے والے زخم میں تہائی دیت ہوگی۔ ہڈی کو توڑ دینے والے زخم کی دیت پندرہ اونٹ ہوں گے۔ ہاتھ پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہوگی۔ ہر دانت کی دیت پانچ اونٹ ہوگی۔ ہڈی کو ننگا کرنے والے زخم کی دیت پانچ اونٹ ہوگی۔ آدمی عورت کو قتل کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص سونے کی صورت میں دیت دینا چاہے تو دیت ایک ہزار دینار ہوگی۔“ محمد بن بکار بن بلال نے اس کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4850 (ضعیف) (اس کے راوی ”سلیمان‘‘ (جو حقیقت میں ’’ابن داود‘‘ نہیں بلکہ ’’ابن ارقم‘‘ ہیں، متروک الحدیث ہیں، صحیح سن دوں سے یہ حدیث زہری سے مرسلاً ہی مروی ہے، بہر حال اس کے اکثر مشمولات کے صحیح شواہد موجود ہیں)»
وضاحت: ۱؎: محمد بن بکار نے حکم بن موسیٰ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے یحییٰ سے انہوں نے سلیمان بن ارقم سے روایت کی ہے، اور یہی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان بن داود صوابه سليمان بن أرقم،انظر الحديث الآتي (4858) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4858
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عِمْرَانَ الْعَنْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ هَذِهِ نُسْخَتُهُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَفِي الْعَيْنِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْيَدِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ , وَسُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ مُرْسَلًا.
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو ایک کتاب لکھی جس میں فرائض، سنن اور دیات کا ذکر تھا۔ اسے عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجا، چنانچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: ایک آنکھ میں دیت آدھی ہے۔ ایک ہاتھ میں آدھی دیت ہے اور ایک پاؤں میں دیت آدھی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ قرین صواب ہے۔ واللہ اعلم۔ اور سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں، اس حدیث کو یونس نے زہری سے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4858]
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کی طرف ایک تحریر لکھ کر بھیجی جس میں فرائض و سنن اور دیت کے مسائل تھے۔ آپ نے یہ تحریر حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجی تھی اور یہ یمن والوں کو پڑھ کر سنائی گئی۔ یہ اس کا مضمون ہے۔ پھر راوی نے سابقہ روایت کی طرح بیان کیا مگر اس نے کہا: ”ایک آنکھ میں نصف دیت (پچاس اونٹ) ہے۔ ایک ہاتھ میں نصف دیت ہے اور ایک پاؤں میں نصف دیت ہے۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت درست ہونے کے زیادہ قریب ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ!» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے!“ اور سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہے۔ اور یہی روایت یونس (بن یزید) نے امام زہری رحمہ اللہ سے مرسلاً بیان کی ہے جیسا کہ درج ذیل روایت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2850 (ضعیف) (سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: اور یہی زیادہ صحیح ہے، ان کی روایت آگے آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (4857) سليمان بن أرقم ضعيف، (تقريب: 2532) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4859
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَتَبَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِينَ بَعَثَهُ عَلَى نَجْرَانَ , وَكَانَ الْكِتَابُ عِنْدَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ وَكَتَبَ الْآيَاتِ مِنْهَا حَتَّى بَلَغَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ سورة المائدة آية 1 - 4" , ثُمَّ كَتَبَ:" هَذَا كِتَابُ الْجِرَاحِ , فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ" , نَحْوَهُ.
محمد بن شہاب زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کتاب پڑھی جو آپ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی جب انہیں نجران کا والی بنا کر بھیجا، کتاب ابوبکر بن حزم کے پاس تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا تھا: یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے: «يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود» ”اے ایمان والو! عہد و پیماں پورے کرو“ (المائدہ: ۱) اور اس کے بعد کی آیات لکھیں یہاں تک کہ آپ «إن اللہ سريع الحساب» ”اللہ جلد حساب لینے والا ہے“ (المائدہ: ۴) تک پہنچے۔ پھر لکھا تھا: یہ زخموں کی کتاب ہے، ایک جان کی دیت سو اونٹ ہیں، پھر آگے اسی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4859]
حضرت ابن شہاب (زہری) رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تحریر پڑھی ہے جو آپ نے حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو نجران کا حاکم بناتے وقت لکھ کر دی تھی۔ یہ تحریر حضرت ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ کے پاس تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا تھا کہ ”یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے (احکام کا) بیان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾ [سورة المائدة: 1] ”اے ایمان والو! عہد پورے کرو۔“”پھر آپ نے چند آیات لکھیں، حتیٰ کہ یہاں تک پہنچے: ﴿إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [سورة المائدة: 4] ”بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔“ پھر آپ نے تحریر فرمایا تھا کہ ”یہ زخموں وغیرہ (کی دیت) کے بارے میں ایک تحریر ہے، جان (ختم کر دینے کی صورت) میں دیت سو اونٹ ہوگی۔“ باقی روایت حسب سابق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4850 (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں