سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ: كَمْ دِيَةُ الْكَافِرِ
باب: کافر کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4810
أَخْبَرَنَا عُمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَقْلُ أَهْلِ الذِّمَّةِ، نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ، وَهُمْ الْيَهُودُ , وَالنَّصَارَى".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذمیوں کی دیت مسلمانوں کی دیت کی آدھی ہے، اور ذمیوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4810]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذمی کی دیت مسلمان سے نصف ہے۔ ذمی سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8714) مسند احمد (2/183، 224) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث صحیح ہے، اور اسی پر جمہور کا عمل ہے، حنفیہ کا قول ہے کہ مسلم کافر ذمی سب کی دیت (خون بہا) برابر ہے، ان کا استدلال «دیۃ المعاہد دیۃ الحر المسلم» سے ہے جو مرسل اور ضعیف ہے، جب کہ باب کی یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی حکمت یہ ہے کہ مسلم کو کافر پر برتری حاصل ہے جس کے اظہار کا یہ بھی ایک ذریعہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4811
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عَقْلُ الْكَافِرِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُؤْمِنِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کی دیت مومن کی دیت کی آدھی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4811]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کی دیت مومن کی دیت سے نصف ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدیات 17 (1413)، (تحفة الأشراف: 8658) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
38. بَابُ: دِيَةِ الْمُكَاتَبِ
باب: مکاتب غلام کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4812
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يُقْتَلُ بِدِيَةِ الْحُرِّ عَلَى قَدْرِ مَا أَدَّى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب کے بارے میں حکم کیا کہ مکاتب غلام اگر قتل ہو جائے تو اس کی دیت اتنے حصے میں جو وہ بدل کتابت کے طور پر ادا کر چکا ہے آزاد کی دیت کے مثل ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4812]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب کے بارے میں، جسے قتل کر دیا جائے، فیصلہ فرمایا کہ ”جس قدر وہ مکاتبت ادا کر چکا ہے، اتنی آزاد کی دیت دی جائے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 22 (4581)، (تحفة الأشراف: 6242)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 35 (1259)، مسند احمد (1/222، 226، 260، 292، 363) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4581) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
حدیث نمبر: 4813
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَضَى فِي الْمُكَاتَبِ أَنْ يُودَى بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ دِيَةَ الْحُرِّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب غلام کے بارے میں فیصلہ فرمایا: ”اس کی اتنے حصے کی دیت جس قدر وہ آزاد ہو چکا ہو آزاد کی دیت کے مثل ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4813]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ (اگر وہ قتل کر دیا جائے تو) ”جس قدر وہ آزاد ہو چکا ہے، اتنی دیت آزاد کی دی جائے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، انظر الحديث السابق (4812) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
حدیث نمبر: 4814
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يُودَى بِقَدْرِ مَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْعَبْدِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب غلام کے بارے میں فیصلہ کیا کہ جس قدر اس نے مکاتبت کا بدل ادا کر دیا ہو، اتنے کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہو گی، اور جس کی ادائیگی باقی ہو اس کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4814]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب کے بارے میں فیصلہ فرمایا: ”مکاتب غلام جس قدر مال مکاتبت ادا کر چکا ہے، اس کی اتنی دیت آزاد کے حساب سے دی جائے گی اور باقی غلام کے لحاظ سے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4812 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، انظر الحديثين السابقين (4812،4813) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
حدیث نمبر: 4815
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ النَّقَّاشِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُكَاتَبُ يَعْتِقُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى، وَيُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ، وَيَرِثُ بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکاتب اسی قدر آزاد ہو گا جتنا اس نے بدلِ مکاتبت ادا کر دیا ہو اور اس پر حد بھی اسی قدر نافذ ہو گی جس قدر وہ آزاد ہو چکا ہو، اور وہ وارث بھی اسی قدر ہو گا جس قدر آزاد ہو چکا ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4815]
سندِ حدیث۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4815]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10086)، وحدیث أیوب عن عکرمة، قد أخرجہ: سنن ابی داود/الدیات 22 (4582)، سنن الترمذی/البیوع 35 (1259)، (تحفة الأشراف: 5993) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4816
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ مُكَاتَبًا قُتِلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَ أَنْ يُودَى مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ , وَمَالًا دِيَةَ الْمَمْلُوكِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مکاتب کا قتل ہو گیا تو آپ نے حکم دیا کہ جتنا وہ بدل مکاتبت ادا کر چکا ہے اسی قدر اس کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہو گی، اور جس قدر آزاد نہیں ہوا ہے اسی کے مطابق اس کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4816]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں ایک مکاتب کو قتل کر دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”جس قدر وہ مالِ مکاتبت ادا کر چکا ہے، اتنے حصے کی دیت آزاد کے حساب سے دی جائے اور باقی کی غلام کے لحاظ سے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4815 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
39. بَابُ: دِيَةِ جَنِينِ الْمَرْأَةِ
باب: عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4817
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ امْرَأَةً خَذَفَتِ امْرَأَةً , فَأَسْقَطَتْ ," فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَلَدِهَا خَمْسِينَ شَاةً، وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ" أَرْسَلَهُ أَبُو نَعِيمٍ.
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک عورت کو پتھر پھینک کر مارا جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے کی (دیت) پچاس بکریاں ۱؎ طے کیں اور اس دن سے آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرما دیا۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) اسے ابونعیم نے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (ان کی روایت آگے آ رہی ہے) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4817]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے دوسری عورت کو پتھر دے مارا جس سے اس کا حمل ضائع ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں بچے کی دیت پچاس بکریاں مقرر کیں اور اس دن آپ نے «الْخَذْفِ» سے بھی منع فرمایا۔ ابو نعیم رحمہ اللہ نے اس روایت کو مرسل بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4817]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 21 (4578)، (تحفة الأشراف: 2006، 18884) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: سنن ابوداؤد میں اسی سند سے اس حدیث کے الفاظ ہیں ”پانچ سو بکریاں“ جیسا کہ اگلی روایت میں ہے ”پانچ سو“ کی طرح یہ لفظ بھی کسی راوی کا وہم معلوم ہوتا ہے، واضح رہے کہ مؤلف کی اگلی روایت کی طرح ابوداؤد کی روایت مرسل نہیں بلکہ مرفوع متصل ہے، (واللہ اعلم بالصواب)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4818
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ: أَنَّ امْرَأَةً خَذَفَتِ امْرَأَةً , فَأَسْقَطَتِ الْمَخْذُوفَةُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَجَعَلَ عَقْلَ وَلَدِهَا خَمْسَ مِائَةٍ مِنَ الْغُرِّ، وَنَهَى يَوْمَئِذٍ عَنِ الْخَذْفِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا وَهْمٌ , وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ أَرَادَ مِائَةً مِنَ الْغُرِّ، وَقَدْ رُوِيَ النَّهْيُ عَنِ الْخَذْفِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ.
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک عورت کو پتھر پھینک کر مارا، پتھر لگی عورت کا حمل گر گیا، چنانچہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا، تو آپ نے اس بچے کی دیت پانچ سو بکریاں ۱؎ مقرر کیں، اور اس دن سے آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ وہم ہے، صحیح سو بکریاں ہیں، (پانچ سو نہیں) اور پتھر پھینکنے کی ممانعت سے متعلق حدیث عبداللہ بن بریدہ ہی کے واسطہ سے: عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (جو آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4818]
حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نے دوسری عورت کو پتھر دے مارا جس سے اس کا حمل ضائع ہو گیا، یہ مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس بچے کی دیت پانچ سو بکریاں مقرر فرمائی، نیز اس دن آپ نے «الْخَذْفِ» ”کنکری پھینکنے“ سے روک دیا۔ امام ابوعبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ وہم ہے، ہو سکتا ہے کہ ان کا ارادہ ”ایک سو بکریاں“ کہنے کا ہو (لیکن غلطی سے پانچ سو بکریاں کہہ دیں)۔ اور «الْخَذْفِ» ”کنکری پھینکنے“ کی ممانعت تو عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کی حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (اور وہ اگلی حدیث: 4819 ہی میں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (یہ مرسل ہے، لیکن سابقہ روایت سے یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: اگلی روایات (رقم ۴۸۲۰ و ۴۸۲۱) میں ”ایک غرہ“ یعنی ایک غلام یا باندی کا ذکر ہے، ہو سکتا ہے اس وقت ایک غلام یا باندی کی قیمت سو بکریوں کے مساوی ہوتی ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4819
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ، فَقَالَ: لَا تَخْذِفْ , فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ، أَوْ يَكْرَهُ الْخَذْفَ". شَكَّ كَهْمَسٌ.
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو پتھر پھینکتے دیکھا تو کہا: مت پھینکو، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پتھر پھینکنے سے منع فرماتے تھے، یا پتھر پھینکنا آپ کو پسند نہ تھا، یہ کہمس کا شک ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4819]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو «الْخَذْفَ» ”خذف“ کرتے دیکھا تو فرمایا: «الْخَذْفَ» ”خذف“ نہ کر کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الْخَذْفَ» ”خذف“ سے منع فرمایا ہے“ یا ”آپ اسے ناپسند فرماتے تھے۔“ کَھْمَس کو شک ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرسورة الفتح 5 (4841)، الذبائح 5 (5479)، الأدب122(6220)، صحیح مسلم/الذبائح 10 (1954)، (تحفة الأشراف: 9659)، سنن ابن ماجہ/الصید 11 (3226)، مسند احمد 4/86 و5/ 56، 57، سنن الدارمی/المقدمة 40 (453) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه