سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ: هَلْ يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِجَرِيرَةِ غَيْرِهِ
باب: کیا کسی کو دوسرے کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 4840
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ: أَنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ أَصَابُوا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ قَتَلَتْ فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى"، قَالَ شُعْبَةُ: أَيْ لَا يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِأَحَدٍ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
اسود بن ہلال (انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد پایا تھا) بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ بنو ثعلبہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ تو ایک صحابی رسول نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ ہیں، جنہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نفس کا قصور کسی دوسرے پر نہیں ہو گا“۔ شعبہ کہتے ہیں: یعنی کسی کے بدلے کسی اور سے مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4840]
بنو ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت ہے کہ بنو ثعلبہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ ہیں، انھوں نے فلاں (صحابی) کو قتل کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کا جرم کسی دوسرے کے نام نہیں لگ سکتا۔“ (راویِ حدیث) شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: یعنی کسی کو کسی اور شخص کے جرم میں گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4840]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4841
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَعْنِي لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى نَفْسٍ".
بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ گفتگو فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یعنی کسی کا قصور کسی پر نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4841]
بنو ثعلبہ بن یربوع کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ خطاب فرما رہے تھے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے فلاں شخص (صحابی رسول رضی اللہ عنہ) کو قتل کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ یعنی کسی شخص کا جرم کسی دوسرے پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4841]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4842
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ , فَقَامَ إِلَيْهِ نَاسٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَؤُلَاءِ بَنُو فُلَانٍ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
بنی یربوع کے ایک شخص کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے، کچھ لوگوں نے آپ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی فلاں ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”کسی نفس پر کسی کا قصور نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4842]
بنی یربوع کے ایک آدمی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے۔ (ہمیں دیکھ کر) کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! یہ فلاں قبیلے کے لوگ ہیں، انہوں نے فلاں صحابی کو قتل کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ایک شخص کا جرم دوسرے کے ذمے نہیں لگایا جا سکتا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4842]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4843
أخبرنا يوسف بن عيسى قال أنبأنا الفضل بن موسى قال أنبأنا يزيد وهو بن زياد بن أبي الجعد عن جامع بن شداد عن طارق المحاربي أن رجلا قال: يا رسول الله هؤلاء بنو ثعلبة الذين قتلوا فلانا في الجاهلية فخذ لنا بثأرنا فرفع يديه حتى رأيت بياض إبطيه وهو يقول لا تجني أم على ولد مرتين
طارق محاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ ہیں جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں کو قتل کیا تھا، لہٰذا آپ ہمارا بدلہ دلائیے، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، آپ فرما رہے تھے: ”کسی ماں کا قصور کسی بیٹے پر نہیں ہو گا“ ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4843]
حضرت طارق محاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ ہیں جنہوں نے اپنے دورِ جاہلیت میں فلاں کو قتل کیا تھا۔ ان سے ہمیں قصاص دلوا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک اٹھائے حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ فرمایا: «لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ» ”کسی ماں کا جرم اس کے بیٹے کے گلے نہیں پڑتا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4843]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4989)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 26 (2670) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
42. بَابُ: الْعَيْنِ الْعَوْرَاءِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا إِذَا طُمِسَتْ
باب: بے نور آنکھ جو اپنی جگہ پر ہو، اگر اسے کوئی پھوڑ دے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4844
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَائِذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَضَى فِي الْعَيْنِ الْعَوْرَاءِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا إِذَا طُمِسَتْ بِثُلُثِ دِيَتِهَا، وَفِي الْيَدِ الشَّلَّاءِ إِذَا قُطِعَتْ بِثُلُثِ دِيَتِهَا، وَفِي السِّنِّ السَّوْدَاءِ إِذَا نُزِعَتْ بِثُلُثِ دِيَتِهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آنکھ کے بارے میں جس سے نظر نہ آتا ہو اور وہ اپنی جگہ پر ہو پھر اگر کوئی اسے پھوڑ دے یا نکال دے تو صحیح سالم آنکھ کی تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا، اور شل ہاتھ جب کاٹ دیا جائے تو اس میں صحیح سالم ہاتھ کی دیت کے تہائی کا، اور کالے دانت میں جب وہ اکھاڑ دیا جائے تو صحیح سالم دانت کی تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4844]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ: ”جو کانی (بے نور) آنکھ اپنی جگہ قائم ہو، اگر پھوڑ دی جائے تو آنکھ کی ایک تہائی دیت دی جائے گی، اور بے جان ہاتھ اگر کاٹ دیا جائے تو ہاتھ کی تہائی دیت دے دی جائے گی، اور وہ دانت جو سیاہ ہو چکا ہو، اکھاڑ دیا جائے تو دانت کی تہائی دیت ہوگی۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4844]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 20 (4567)، (تحفة الأشراف: 8770) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
43. بَابُ: عَقْلِ الأَسْنَانِ
باب: دانتوں کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4845
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الْأَسْنَانِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دانتوں میں ہر ایک کی دیت پانچ اونٹ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4845]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دانتوں میں پانچ اونٹ ہیں۔“ یعنی ہر دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4845]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 20 (4563)، (تحفة الأشراف: 8685) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4846
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَسْنَانُ سَوَاءٌ خَمْسًا خَمْسًا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام دانت برابر ہیں، ہر ایک میں دیت پانچ پانچ اونٹ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4846]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب دانت (دیت میں) برابر ہیں۔“ یعنی ہر ایک میں پانچ پانچ اونٹ۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8805)، مسند احمد (2/215)، سنن الدارمی/الدیات 16 (2417) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
44. بَابُ: عَقْلِ الأَصَابِعِ
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4847
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4847]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیوں میں (ہر انگلی کے) دس دس اونٹ ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 20 (4556، 4557)، سنن ابن ماجہ/الدیات 18 (2654)، (تحفة الأشراف: 9030)، مسند احمد (4/397، 398)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4848، 4849) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4848
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ عَشْرًا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں برابر برابر ہیں، ہر ایک میں دیت دس دس اونٹ ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4848]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگلیاں سب برابر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4848]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4849
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَلْخِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى , قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الْأَصَابِعَ سَوَاءٌ عَشْرًا عَشْرًا مِنَ الْإِبِلِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”انگلیاں سب برابر برابر ہیں، ہر ایک میں دیت دس دس اونٹ ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4849]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”انگلیاں سب برابر ہیں، (ہر ایک کی دیت) دس دس اونٹ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4847 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن