سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ: صِفَةِ شِبْهِ الْعَمْدِ
باب: قتل شبہ عمد کی تشریح اور اس بات کا بیان کہ بچے کی اور شبہ عمد کی دیت کس پر ہو گی اور اس بابت مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4830
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ هُذَيْلٍ كَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ , فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ فَأَسْقَطَتْ، فَقِيلَ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَا أَكَلْ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ؟ فَقَالَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟"، فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ , وَجُعِلَتْ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ". أَرْسَلَهُ الْأَعْمَشُ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا، جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا، عرض کیا گیا: جس نے نہ کھایا، نہ پیا، جو نہ چیخا نہ چلایا، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ تو دیہاتیوں کی سی سجع ہے؟“ پھر آپ نے اس میں ایک «غرہ» یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا، اور اس کی ذمہ داری (قاتل) عورت کے کنبے والوں پر ٹھہرائی۔ اعمش نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ (ان کی روایت آگے آ رہی ہے) [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4830]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہذیل کے ایک آدمی کی دو بیویاں تھیں۔ ایک نے دوسری کو خیمے کا ستون دے مارا اور اس کا حمل گرا دیا۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی دیت بیان فرمائی تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: بتائیں تو بھلا جس بچے نے نہ پیا نہ کھایا، نہ چیخا نہ چلایا (کیا اس کی بھی دیت ہوگی؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا اعرابیوں جیسی تک بندی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت «غُرَّة»، یعنی ایک غلام یا لوندی مقرر فرمائی اور اسے عورت کے نسبی رشتہ داروں کے ذمے ڈال دیا۔ اعمش نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4825 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4831
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِحَجَرٍ وَهِيَ حُبْلَى , فَقَتَلَتْهَا،" فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً، وَجَعَلَ عَقْلَهَا عَلَى عَصَبَتِهَا"، فَقَالُوا: نُغَرَّمُ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلْ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ؟ فَقَالَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟، هُوَ مَا أَقُولُ لَكُمْ".
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو جو حمل سے تھی پتھر مارا، اور وہ مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیٹ کے بچے کی دیت ایک «غرہ» (یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی) ٹھہرائی اور اس کی دیت اس کے کنبے والوں کے ذمے ڈالی، وہ بولے: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا نہ کھایا اور نہ چلایا اس جیسا خون تو لغو ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ دیہاتیوں کی سی سجع ہے، حکم وہی ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4831]
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو پتھر مارا جبکہ وہ حاملہ تھی جس سے وہ مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیٹ کے بچے کی دیت «غُرَّة» ”غلام یا لونڈی“ مقرر فرمائی اور مقتولہ کی دیت قاتلہ کے نسبی رشتہ داروں کے ذمے ڈال دی۔ انھوں نے کہا: ہم ایسے بچے کی دیت بھریں جس نے پیا نہ کھایا، نہ چوں چاں کی؟ ایسے بچے کا تو کوئی معاوضہ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعرابیوں کی طرح تک بندی کرتے ہو؟ اصل حکم وہی ہے جو میں کہتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4825 (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ ابراہیم نخعی اور نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے درمیان صحابی کا ذکر نہیں ہے لیکن پچھلی روایات مرفوع متصل ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4832
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَسْبَاطَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَتِ امْرَأَتَانِ جَارَتَانِ كَانَ بَيْنَهُمَا صَخَبٌ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيْتًا، وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ،" فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ"، فَقَالَ عَمُّهَا: إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ: إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلْ فَمِثْلُهُ يُطَلَّ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ؟، وَكِهَانَتِهَا إِنَّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَتْ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ , وَالْأُخْرَى أُمَّ غَطِيفٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دو سوکن عورتیں تھیں، ان کے درمیان جھگڑا ہو گیا، ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا، تو اس کے پیٹ کا بچہ مرا ہوا گر پڑا جس کے سر کے بال اگ آئے تھے اور عورت بھی مر گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنبے والوں پر دیت ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس (مقتولہ) کے چچا نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ایک بچہ بھی ساقط ہوا ہے جس کے بال اگ آئے تھے۔ قاتل عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم، نہ تو وہ چیخا، نہ اس نے پیا اور نہ کھایا، ایسا خون تو لغو ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاہلیت کی سجع اور کہانت سی سجع ہے۔ بچے میں ایک «غرہ» (یعنی ایک غلام یا لونڈی) دینا ہو گا“۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4832]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: دو سوکنیں تھیں، ان میں جھگڑا ہو گیا، ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا اور اس کے پیٹ کا بچہ گرا دیا جو مردہ تھا، اس کے بال اگ چکے تھے، اور عورت بھی مر گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے نسبی رشتہ داروں پر دیت ڈال دی، مقتولہ کے چچا نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے بچہ بھی ضائع کیا ہے جس کے بال اُگ چکے تھے۔ قاتلہ کے والد نے کہا: یہ جھوٹ بولتا ہے، اللہ کی قسم! یہ بچہ نہ چیخا چلایا، نہ اس نے پیا نہ کھایا، ایسا تو ضائع اور باطل ہوتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جاہلوں اور کاہنوں جیسی سجع (تک بندی) کر رہا ہے؟ اس بچے میں بھی «غُرَّة» ”غرہ“ آئے گا۔“ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک عورت کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6124) (ضعیف الإسناد) (سماک کی روایت عکرمہ سے میں سخت اضطراب ہے، نیز سماک مختلط بھی تھے، مگر پچھلی روایات سے یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4574) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
حدیث نمبر: 4833
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَةً وَلَا يَحِلُّ لِمَوْلًى أَنْ يَتَوَلَّى مُسْلِمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا: ہر قوم پر اس کی دیت ہے۔ اور کسی غلام کے لیے نہیں کہ وہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی مسلمان کو اپنا ولاء دے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4833]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تحریر لکھوائی کہ ”ہر قبیلے کو اپنے لوگوں پر عائد شدہ دیتیں دینی ہوں گی، نیز کسی آزاد شدہ غلام کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مولیٰ کی اجازت کے بغیر کسی اور مسلمان کو مولیٰ بنا لے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/العتق 4 (1507)، (تحفة الأشراف: 2823)، مسند احمد (3/321، 342) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے اپنا مالک کہے اور اپنے کو اس کی طرف منسوب کرے، اور مرنے کے بعد اپنی ولاء کی وراثت اسی کے نام کر دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4834
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ فَهُوَ ضَامِنٌ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو علاج معالجہ کرے، اور اس سے پہلے اس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ طبیب ہے، تو (کسی گڑبڑی کے وقت) وہ ضامن ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4834]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایسے ہی (تکلفاً) طبیب بن کر علاج کرے، حالانکہ (اس سے قبل) وہ مستند طبیب نہیں تھا تو (اگر کوئی نقصان ہو جائے) وہ ضامن (ذمہ دار) ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 25 (4586)، سنن ابن ماجہ/الطب 16 (3466)، (تحفة الأشراف: 8746) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، [4834.4835] إسناده ضعيف، ابو داود (4586) ابن ماجه (3466) ابن جريج مدلس وعنعن. وللحديث شاهد ضعيف،. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
حدیث نمبر: 4835
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَن جَدِّه مِثْلَهُ سَوَاءً.
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4835]
عمرو بن شعیب کے پردادا رضی اللہ عنہما سے بالکل ایسی ہی روایت آتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، .4835] إسناده ضعيف، ابو داود (4586) ابن ماجه (3466) ابن جريج مدلس وعنعن. وللحديث شاهد ضعيف،. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
41. بَابُ: هَلْ يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِجَرِيرَةِ غَيْرِهِ
باب: کیا کسی کو دوسرے کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 4836
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا مَعَكَ؟" , قَالَ: ابْنِي , أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا: ”یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟“ اس نے کہا: یہ میرا بیٹا ہے، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا قصور اس پر نہیں اور اس کا قصور تم پر نہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4836]
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا۔ آپ نے (میرے والد سے) فرمایا: ”یہ تیرے ساتھ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں، یہ میرا بیٹا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”خبردار! تیرے جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور تو اس کے جرم کا ذمہ دار نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات2(4208)، (تحفة الأشراف: 12037)، مسند احمد (4/163) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تم دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے جرم میں ماخوذ نہیں کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4837
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبُوعِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهَتَفَ بِصَوْتِهِ:" أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى الْأُخْرَى".
ثعلبہ بن زہدم یربوعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ لوگوں کو خطاب کر رہے تھے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع کے بیٹے ہیں، انہوں نے فلاں کو جاہلیت میں قتل کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور آپ کی آواز بہت بلند تھی: سنو! کسی جان کا قصور کسی دوسری جان پر نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4837]
حضرت ثعلبہ بن زہدم یربوعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک گروہ میں خطاب فرما رہے تھے۔ انصار کہنے لگے: ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کر دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز بلند کرتے ہوئے فرمایا: ”آگاہ رہو! کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2072)، مسند احمد (4/64-65 و5/377)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4837-4842) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4838
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قَالَ: انْتَهَى قَوْمٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
ثعلبہ بن زہدم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی ثعلبہ کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! یہ ثعلبہ بن یربوع کے بیٹے ہیں، انہوں نے صحابہ رسول میں سے فلاں کو جاہلیت میں قتل کیا تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نفس کا قصور کسی دوسرے پر نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4838]
حضرت ثعلبہ بن زہدم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بنو ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے جبکہ آپ خطاب فرما رہے تھے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فلاں صحابی کو قتل کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے جرم کا کوئی دوسرا شخص ذمہ دار نہیں ہوتا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4839
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ: أَنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا , رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت ہے کہ بنی ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے فلاں کو قتل کیا تھا، آپ نے فرمایا: ”کسی نفس کا قصور کسی دوسرے نفس پر نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4839]
بنو ثعلبہ بن یربوع (قبیلے) میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ بنو ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فلاں صحابی کو قتل کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4839]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن