🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. بَابُ: اتِّخَاذِ الْجُمَّةِ
باب: سر پر بال رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5237
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَضْرِبُ شَعْرُهُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بال مونڈھوں تک رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5237]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بال کندھوں کو لگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 68 (5903، 5904)، (تحفة الأشراف: 1396)، مسند احمد (3/11818، 125، 245، 269) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. بَابُ: تَسْكِينِ الشَّعْرِ
باب: بالوں کو سنوارنے اور درست رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5238
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَأَى رَجُلًا ثَائِرَ الرَّأْسِ , فَقَالَ:" أَمَا يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے، آپ نے ایک شخص کو دیکھا، اس کے سر کے بال الجھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ”کیا اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس سے اپنے بال ٹھیک رکھ سکے؟“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5238]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے ایک آدمی کو دیکھا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، آپ نے (ناپسند کرتے ہوئے) فرمایا: ”کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے اپنے بالوں کو سنوار سکے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5238]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 17 (4062)، (تحفة الأشراف: 3012)، مسند احمد (3/357) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5239
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَتْ لَهُ جُمَّةٌ ضَخْمَةٌ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," فَأَمَرَهُ أَنْ يُحْسِنَ إِلَيْهَا وَأَنْ يَتَرَجَّلَ كُلَّ يَوْمٍ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے بال بڑے بڑے تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے حکم دیا: ”انہیں اچھی طرح رکھو اور ہر روز کنگھی کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5239]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے لمبے لمبے بال تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”ان (بالوں) سے اچھا سلوک کرو اور ہر روز کنگھی کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12127) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن منکدر اور ابوقتادہ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ اس صحیح حدیث کے خلاف ہے جس میں ہر روز کنگھی کرنے سے ممانعت ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن المنكدر لم يسمع من أبى قتادة رضي الله عنه،انظر جامع التحصيل فى أحكام المراسيل للحافظ خليل بن كيكلدي العلائي (ص 270) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 363

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. بَابُ: فَرْقِ الشَّعْرِ
باب: بالوں میں مانگ نکالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5240
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدُلُ شَعْرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ شُعُورَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ، ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بال چھوڑ دیتے تھے اور کفار و مشرکین بالوں میں مانگ نکالتے تھے، آپ ایسے معاملات میں جن میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب (یہود و نصاری) کی موافقت پسند فرماتے تھے، پھر اس کے بعد آپ نے بھی مانگ نکالی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5240]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے بال لٹکائے رکھتے (بالوں میں مانگ نہیں نکالا کرتے تھے) جبکہ مشرکین اپنے سر کے بالوں کی مانگ نکالتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب تک کسی بات کے متعلق (بذریعہ وحی) کوئی حکم نہ آتا تو آپ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی (سر میں) مانگ نکالنے لگے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 23 (3558)، مناقب الٔلنصار 52 (3944)، اللباس 70 (5917)، صحیح مسلم/الفضائل 24 (2336)، سنن ابی داود/الترجل 10 (4188)، سنن الترمذی/الشمائل3 (29)، سنن ابن ماجہ/اللباس 36 (3632)، (تحفة الأشراف: 5836)، مسند احمد (1/24646، 261، 287، 320) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. بَابُ: التَّرَجُّلِ
باب: کنگھی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5241
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُقَالُ لَهُ: عُبَيْدٌ، قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ". سُئِلَ ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنِ الْإِرْفَاهِ؟ قَالَ: مِنْهُ التَّرَجُّلُ.
عبید نامی ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «ارفاہ» (بہت زیادہ عیش میں پڑ جانے) سے منع فرماتے تھے۔ عبداللہ بن بریدہ سے پوچھا گیا: «ارفاہ» کیا ہے؟ کہا: «ارفاہ» میں (ہر روز) کنگھی کرنا بھی شامل ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5241]
حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک صحابی، جن کو عبید رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، (انہوں نے بتایا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زیادہ ناز نخرے سے منع فرمایا ہے“۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: ناز نخرے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: اسی میں سے (ہر روز) کنگھی کرنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5011 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لفظ «ترجل» کا معنی ”ہر روز کنگھی کرنا“ اس لیے کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کنگھی کرتے تھے، اور اس کی ترغیب بھی دیتے تھے، (جیسا کہ حدیث نمبر: ۵۲۳۸ میں ہے) آپ نے صرف کثرت سے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، اور ناغہ کر کے کرنے کی اجازت دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. بَابُ: التَّيَامُنِ فِي التَّرَجُّلِ
باب: دائیں طرف سے کنگھی شروع کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5242
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَشْعَثُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَذَكَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ، وَتَنَعُّلِهِ، وَتَرَجُّلِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طاقت بھر دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے: وضو کرنے، جوتے پہننے اور کنگھی کرنے (وغیرہ امور) میں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5242]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ممکن حد تک دائیں طرف سے ابتدا فرماتے تھے؛ وضو میں، جوتا پہنتے وقت اور کنگھی فرماتے وقت۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 112 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. بَابُ: الأَمْرِ بِالْخِضَابِ
باب: بالوں میں خضاب لگانے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5243
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی اور نصرانی (بالوں کو) نہیں رنگتے، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5243]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی اور عیسائی اپنے بالوں کو نہیں رنگتے، تم ان کی مخالفت کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5243]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5072 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: سفید بالوں کو رنگ دو، البتہ کالے خضاب سے بچو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5244
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي قُحَافَةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا , أَوِ اخْضِبُوا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ابوبکر کے والد) ابوقحافہ رضی اللہ عنہما لائے گئے، ان کا سر اور داڑھی ثغامہ نامی گھاس کی طرح تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے بالوں کا رنگ بدلو“، یا (فرمایا) ”خضاب لگاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5244]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا۔ ان کا سر اور داڑھی ثغامہ کی طرح تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا (رنگ بدلو)“ یا فرمایا: ”ان کو خضاب کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2885) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ثغامہ ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. بَابُ: تَصْفِيرِ اللِّحْيَةِ
باب: داڑھی کو زرد (پیلا) کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5245
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ , فَقُلْتُ لَهُ: فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ".
عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اپنی داڑھی پیلی کرتے دیکھا، تو ان سے اس کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5245]
حضرت عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ داڑھی کو زرد کرتے تھے۔ میں نے ان سے اس کے متعلق بات کی تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی داڑھی مبارک کو زرد کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 117، 2761، 5088 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دیکھئیے حدیث نمبر ۵۰۸۸ کا حاشیہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. بَابُ: تَصْفِيرِ اللِّحْيَةِ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ
باب: ورس اور زعفران سے داڑھی پیلی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5246
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ" , وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5246]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سبتی جوتے پہنا کرتے تھے اور اپنی داڑھی کو ورس اور زعفران سے رنگتے تھے، اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 19 (4210)، (تحفة الأشراف: 7762)، مسند احمد (2/114) (صحیح الٕهسناد)»
وضاحت: ۱؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث نمبر ۵۰۸۸۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں