سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. بَابُ: الْوَصْلِ فِي الشَّعْرِ
باب: بالوں میں جوڑ لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5247
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ , وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِالْمَدِينَةِ , وَأَخْرَجَ مِنْ كُمِّهِ قُصَّةً مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ , أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَقَالَ:" إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ نِسَاؤُهُمْ مِثْلَ هَذَا".
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ مدینے میں منبر پر تھے، انہوں نے اپنی آستین سے بالوں کا ایک گچھا نکالا اور کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جیسی چیزوں سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کی عورتوں نے جب ان جیسی چیزوں کو اپنانا شروع کیا تو وہ ہلاک و برباد ہو گئے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5247]
حضرت حمید بن عبدالرحمن نے فرمایا: میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں منبر پر فرماتے سنا جبکہ انہوں نے اپنی آستین سے بالوں کا ایک گچھا نکالا اور فرمایا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جیسے جعلی بالوں سے منع فرماتے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے اس قسم کے کام اختیار کیے تو وہ ہلاک ہو گئے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5247]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔنبیاء 54 (3468)، اللباس 83 (5932)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2127)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4167)، سنن الترمذی/الأدب 32 (الاستئذان 66) (2782)، (تحفة الأشراف: 11407)، موطا امام مالک/الشعر 1 (2)، مسند احمد (4/95، 97) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5248
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا، وَأَخَذَ كُبَّةً مِنْ شَعْرٍ، قَالَ:" مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ , فَسَمَّاهُ الزُّورَ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور ہمیں خطاب کیا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا لے کر کہا: میں نے سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا ۱؎، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جب یہ چیز پہنچی تو آپ نے اس کا نام دھوکا رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5248]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ آئے تو ہم سے خطاب فرمایا، انہوں نے بالوں کا ایک گچھا پکڑا اور فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ یہودیوں کے علاوہ اور کوئی شخص یہ کام کرتا ہو گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «الزُّورُ» ”جعل سازی“ قرار دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5095 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: اپنے اصلی بالوں میں دوسرے کے بال جوڑنا یہودی عورتوں کا کام ہے، مسلمان عورتوں کو اس سے بچنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
68. بَابُ: وَصْلِ الشَّعْرِ بِالْخِرَقِ
باب: چیتھڑے سے بال جوڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5249
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، أَنَّهُ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنِ الزُّورِ" , قَالَ: وَجَاءَ بِخِرْقَةٍ سَوْدَاءَ فَأَلْقَاهَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَقَالَ: هُوَ هَذَا تَجْعَلُهُ الْمَرْأَةُ فِي رَأْسِهَا، ثُمَّ تَخْتَمِرُ عَلَيْهِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: لوگو! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں جھوٹ اور فریب سے روکا ہے، راوی (ابن المسیب) کہتے ہیں: اور انہوں نے ایک کالا چیتھڑا نکالا پھر اسے ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا: یہی ہے وہ (یعنی جھوٹ اور فریب کاری)، اسے عورت اپنے سر میں لگا کر دوپٹا اوڑھ لیتی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5249]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ”جعلی بال لگانے سے منع فرمایا ہے“۔ پھر آپ ایک سیاہ رنگ کا کپڑا لائے اور لوگوں کے سامنے پھینکا اور فرمایا: یہ ہے وہ جعل سازی، عورت اسے اپنے بالوں میں لگاتی ہے، پھر اوپر سے اوڑھنی اوڑھ لیتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5095 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس عورت کے اپنے اصلی بال بڑے لمبے لمبے ہیں، اور لمبے بال عورتوں کی خوبصورتی میں شمار ہوتے ہیں، تو گویا غیر خوبصورت عورت خود کو مصنوعی ذریعے سے خوبصورت ظاہر کر کے اس کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، یہ عمل اسلام کی نظر میں ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ دھوکا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5250
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ، وَالزُّورُ: الْمَرْأَةُ تَلُفُّ عَلَى رَأْسِهَا".
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ اور فریب کاری سے منع فرمایا، اور جھوٹ اور فریب کاری یہ ہے کہ عورت (بال زیادہ دکھانے کے لیے) سر پر کچھ لپیٹ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5250]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعل سازی سے منع فرمایا اور جعل سازی یہ ہے کہ ”عورت اپنے سر پر (جعلی بال وغیرہ) لپیٹ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5095 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
69. بَابُ: لَعْنِ الْوَاصِلَةِ
باب: بال جوڑنے والی عورت پر وارد لعنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5251
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے کا کام کرنے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5251]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جعلی بال لگانے والی عورت پر لعنت فرمائی۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5099 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
70. بَابُ: لَعْنِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ
باب: بال جوڑنے اور جوڑوانے والی عورت پر وارد لعنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5252
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِنْتًا لِي عَرُوسٌ وَإِنَّهَا اشْتَكَتْ , فَتَمَزَّقَ شَعْرُهَا فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ وَصَلْتُ لَهَا فِيهِ , فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ".
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیٹی نئی نویلی دلہن ہے، اسے ایک بیماری ہو گئی ہے کہ اس کے بال جھڑ رہے ہیں اگر میں اس کے بال جوڑوا دوں تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”بال جوڑنے اور جوڑوانے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5252]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیٹی کی شادی تازہ تازہ ہوئی ہے، وہ بیمار ہو گئی اور اس کے بال جھڑ گئے، اگر میں ان میں مصنوعی بالوں سے اضافہ کر لوں تو کیا میں گناہ گار ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5097 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
71. بَابُ: لَعْنِ الْوَاشِمَةِ وَالْمُوتَشِمَةِ
باب: جسم گودنے اور گودانے والی عورتوں پر وارد لعنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5253
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُوتَصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے اور جوڑوانے والی عورت پر اور گودنے اور گودانے والی عورت پر لعنت فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5253]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی، لگوانے والی، رنگ بھرنے والی اور بھروانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5098 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
72. بَابُ: لَعْنِ الْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ
باب: چہرہ کے روئیں اکھاڑنے والی اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والی عورتوں پر وارد لعنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5254
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ" , أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ چہرہ کے روئیں اکھاڑنے والی اور دانتوں کو کشادہ کرنے والی عورتوں پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے، کیا میں اس پر لعنت نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5254]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بال اکھیڑنے والی اور دانت کھلے کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے؟“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5102 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5255
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جسم پر) گودنا گودنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اللہ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5255]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ بھرنے والی، دانت کھلے کرنے والی اور بال اکھیڑنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو اللہ عز وجل کی پیدا کردہ شکل و صورت کو بدلتی ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5103 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5256
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُتَوَشِّمَاتِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ" , فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا؟ , قَالَ: وَمَا لِي لَا أَقُولُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے چہرہ کے بال اکھاڑنے والی، دانتوں میں کشادگی کرنے والی، گودنا گودانے والی اور اللہ کی فطرت کو تبدیل کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، چنانچہ ایک عورت ان کے پاس آ کر کہا: آپ ہی ایسا ایسا کہتے ہیں؟ وہ بولے: آخر میں وہ بات کیوں نہ کہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5256]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بال اکھیڑنے والی، دانتوں کو کھلا کرنے والی اور رنگ بھروانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلتی ہیں۔“ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہا: آپ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں وہ بات کیوں نہ کہوں جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہو؟ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9604) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن