🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. بَابُ: مَوْضِعِ الْخَاتَمِ
باب: انگوٹھی کس انگلی میں ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5287
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسًا عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ" , وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُسْرَى الْخِنْصَرَ.
ثابت بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے بارے میں سوال کیا، تو وہ بولے: گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں، پھر انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھنگلی انگلی کو بلند کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5287]
حضرت ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے میں آپ کی چاندی والی انگوٹھی کی چمک اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ (یہ کہتے ہوئے) انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کو اٹھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 39 (640)، اللباس 16 (2095)، (تحفة الٔاشراف: 333)، مسند احمد (3/276) (صحیح) (انس رضی الله عنہ سے یمین اور یسار یعنی دائیں اور بائیں ہاتھ دونوں میں انگوٹھی پہنے کا ذکر آیا ہے، جس کے بارے میں احادیث کی صحت کے بعد یہ کہنا پڑے گا کہ کبھی دائیں ہاتھ میں پہنے دیکھا اور کبھی بائیں میں، اور بعض اہل علم کے یہاں بائیں میں پہنے والی حدیث راجح اور محفوظ ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الإرواء 3/298، 302، وتراجع الالبانی 159)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ بتار ہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی چھنگلی انگلی میں پہنتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5288
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا , يَقُولُ:" نَهَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ , وَالْوُسْطَى".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شہادت اور بیچ کی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5288]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ”انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی میں انگوٹھی ڈالنے“ سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5214 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ نہی تنزیہی ہے، یعنی خلافِ اولیٰ ہے، بہتر یہ ہے کہ ان انگلیوں میں نہ پہنا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5289
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَلْبَسَ فِي إِصْبَعِي هَذِهِ، وَفِي الْوُسْطَى، وَالَّتِي تَلِيهَا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (شہادت کی) انگلی میں، بیچ کی انگلی اور اس سے لگی ہوئی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے روکا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5289]
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ میں اپنی اس انگلی میں، درمیان والی اور ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی ڈالوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5214 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. بَابُ: مَوْضِعِ الْفَصِّ
باب: (انگوٹھی میں) نگینہ کی جگہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5290
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَتَّمُ بِخَاتَمٍ مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ طَرَحَهُ وَلَبِسَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَنُقِشَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَنْقُشَ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا"، وَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے، پھر آپ نے اسے اتار پھینکا اور چاندی کی انگوٹھی پہنی، اور اس پر «محمد رسول اللہ» نقش کرایا، پھر فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ میری اس انگوٹھی کے نقش پر کچھ نقش کرائے“، آپ نے اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5290]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) سونے کی انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔ پھر آپ نے اسے اتار پھینکا اور چاندی پہننے لگے۔ اور آپ نے اس پر «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ کندہ کروایا، پھر آپ نے فرمایا: ”کسی کے لیے مناسب نہیں کہ میری اس انگوٹھی کے نقش کے مطابق (اپنی انگوٹھی پر) نقش بنوائے۔“ آپ اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5167، 5219 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. بَابُ: طَرْحِ الْخَاتَمِ وَتَرْكِ لُبْسِهِ
باب: انگوٹھی اتار دینے اور نہ پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5291
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا فَلَبِسَهُ، قَالَ:" شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمَ إِلَيْهِ نَظْرَةٌ، وَإِلَيْكُمْ نَظْرَةٌ"، ثُمَّ أَلْقَاهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اسے پہنا، اور فرمایا: ”اس نے آج سے میری توجہ تمہاری طرف سے بانٹ دی ہے، ایک نظر اسے دیکھتا ہوں اور ایک نظر تمہیں“، پھر آپ نے وہ انگوٹھی اتار پھینکی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5291]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی اور پہنی، پھر فرمایا: ”اس انگوٹھی نے مجھے تم سے مصروف کیے رکھا۔ میں کبھی اس کو دیکھتا تھا کبھی تم کو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار پھینکا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5515)، مسند احمد (1/322) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5292
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ يَلْبَسُهُ فَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَصَنَعَ النَّاسُ ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، وَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ , وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ، فَرَمَى بِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا"، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، آپ اسے پہنتے تھے اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے، تو لوگوں نے بھی (انگوٹھیاں) بنوائیں، پھر آپ منبر پر بیٹھے اور اسے اتار پھینکا اور فرمایا: ”میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی طرف رکھتا تھا“، پھر آپ نے اسے پھینک دی، پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا“، پھر لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5292]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، آپ اسے زیب تن فرمایا کرتے تھے، آپ اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔ لوگوں نے بھی (سونے کی) انگوٹھیاں بنوا لیں، پھر ایک دن آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو اسے اتار پھینکا اور فرمایا: ”میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندرونی جانب رکھتا تھا۔“ پھر آپ نے اسے اتار پھینکا اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔“ لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔلیمان 6 (6651)، صحیح مسلم/اللباس 11 (2091)، (تحفة الأشراف: 8281)، مسند احمد (2/119) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5293
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قِرَاءَةً، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّهُ رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا فَصَنَعُوهُ، فَلَبِسُوهُ، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَرَحَ النَّاسُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی ۱؎ صرف ایک دن دیکھی، تو لوگوں نے بھی بنوائی اور اسے پہنا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5293]
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک میں ایک چاندی کی انگوٹھی دیکھی، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہن لیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار پھینکی اور لوگوں نے بھی اتار پھینکیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 46 (5868 تعلیقًا)، صحیح مسلم/اللباس 14 (2093)، سنن ابی داود/الخاتم 2 (4221)، (تحفة الأشراف: 1475)، مسند احمد (3/160، 206، 223، 225) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ راوی کا وہم ہے، کیونکہ صحیح یہ ہے کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5294
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ جَعَلَ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَطَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ , فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار دیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس سے آپ (خطوط پر) مہر لگاتے تھے اور اس کو پہنتے نہیں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5294]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا کرتے تھے، لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار پھینکا، لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مہر لگاتے تھے اور اسے (عموما) نہیں پہنتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5221 (صحیح) (اس میں لفظ ’’ولا یلبسہ‘‘ شاذ ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ولا يلبسه فإنه شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5295
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ , وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ , فَاتَّخَذَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ، فَأَلْقَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا"، ثُمَّ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ , فَأَدْخَلَهُ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ حَتَّى هَلَكَ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا، پھر لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں، تو آپ نے اسے نکال دیا اور فرمایا: ”میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اسے اپنے ہاتھ میں پہن لیا، پھر وہ انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں یہاں تک کہ وہ اریس نامی کنویں میں ضائع ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5295]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا۔ لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار پھینکا اور فرمایا: ”میں آئندہ اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی اور اسے اپنے دست مبارک میں پہنا۔ پھر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، حتیٰ کہ وہ اریس کے کنویں میں گم ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 12 (2091)، (تحفة الٔاشراف: 8089) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. بَابُ: ذِكْرِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ لُبْسِ الثِّيَابِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهَا
باب: مستحب اور مکروہ لباس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5296
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي سَيِّئَ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" , قَالَ: نَعَمْ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ، فَقَالَ:" إِذَا كَانَ لَكَ مَالٌ فَلْيُرَ عَلَيْكَ".
ابوالاحوص کے والد عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے خستہ حالت میں دیکھا، تو فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال دے رکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس مال ہو تو اس کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5296]
حضرت ابوالاحوص کے والد محترم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے خراب سی حالت میں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”کیا تیرے پاس کچھ مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: ہر قسم کا مال اللہ تعالیٰ نے مجھے دے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس مال ہے تو تجھ پر نظر بھی آنا چاہیے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5225 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: فضول خرچی اور ریاء و نمود کے کے بغیر، اور حیثیت کے مطابق آدمی کے اوپر اچھا لباس ہونا چاہیئے، ہاں۔ اسراف، فضول خرچی اور ریاء و نمود والا لباس ناپسندیدہ اور مکروہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں