🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. بَابُ: ذِكْرِ الأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ الْمُسْكِرِ
باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5682
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَجَّاجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قِرْصَافَةَ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" اشْرَبُوا وَلَا تَسْكَرُوا". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَيْضًا غَيْرُ ثَابِتٍ، وَقِرْصَافَةُ هَذِهِ لَا نَدْرِي مَنْ هِيَ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَائِشَةَ خِلَافُ مَا رَوَتْ عَنْهَا قِرْصَافَةُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ شراب پیو، لیکن (اس حد تک کہ) مست نہ ہو جاؤ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ بھی ثابت نہیں ہے اور قرصافہ یہ کون ہے؟ ہمیں نہیں معلوم اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول جو مشہور بات ہے وہ اس کے برعکس ہے جو قرصافہ نے ان سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5682]
قرصافہ نامی ایک عورت سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہر مشروب پی سکتے ہو مگر نشے میں نہ آؤ۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا کہ یہ روایت بھی صحیح نہیں کیونکہ ہم (محدثین) نہیں جانتے یہ قرصافہ کون اور کیسی عورت ہے، جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مشہور روایات اس کے خلاف ہیں جو ان سے قرصافہ نے بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5680 (ضعیف الإسناد) (قرصافہ مجہول ہیں، لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوع صحیح ہے جیسا کہ گزرا)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوفا لكن صح مرفوعا
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قرصافة: لا يعرف حالها (تقريب: 8663) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5683
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ قُدَامَةَ الْعَامِرِيِّ، أَنَّ جَسْرَةَ بِنْتَ دَجَاجَةَ الْعَامِرِيَّةَ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ سَأَلَهَا أُنَاسٌ كُلُّهُمْ يَسْأَلُ عَنِ النَّبِيذِ , يَقُولُ: نَنْبِذُ التَّمْرَ غُدْوَةً وَنَشْرَبُهُ عَشِيًّا، وَنَنْبِذُهُ عَشِيًّا وَنَشْرَبُهُ غُدْوَةً؟ قَالَتْ:" لَا أُحِلُّ مُسْكِرًا، وَإِنْ كَانَ خُبْزًا، وَإِنْ كَانَتْ مَاءً" , قَالَتْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
جسرہ بنت دجاجہ عامر یہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا: ان سے کچھ لوگوں نے سوال کیا اور وہ سب ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہہ رہے تھے کہ ہم لوگ صبح کو کھجور بھگوتے اور شام کو پیتے ہیں اور شام کو بھگوتے ہیں تو صبح میں پیتے ہیں، تو وہ بولیں: میں کسی نشہ لانے والی چیز کو حلال قرار نہیں دیتی خواہ وہ روٹی ہو خواہ پانی، انہوں نے ایسا تین بار کہا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5683]
حضرت جسرہ بنت دجاجہ عامریہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کچھ لوگوں نے مسائل پوچھے۔ تقریباً سب لوگ ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ ہم صبح کے وقت کھجوروں کو بھگوتے (نبیذ بناتے) ہیں تو صبح کو پی لیتے ہیں۔ تو میں نے ان کو فرماتے سنا: میں کسی نشہ آور چیز کو حلال نہیں کہہ سکتی خواہ روٹی ہو خواہ وہ پانی ہو۔ انہوں نے تین دفعہ فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17831) (ضعیف الٕاسناد) (اس کے راوی ”قدامہ“ اور ”جسرہ“ دونوں لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5684
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , تَقُولُ:" نُهِيتُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، نُهِيتُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ، نُهِيتُمْ عَنِ الْمُزَفَّتِ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَتْ:" إِيَّاكُنَّ وَالْجَرَّ الْأَخْضَرَ، وَإِنْ أَسْكَرَكُنَّ مَاءُ حُبِّكُنَّ فَلَا تَشْرَبْنَهُ".
کریمہ بنت ہمام بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: تم لوگوں کو کدو کی تونبی سے منع کیا گیا ہے، لاکھی برتن سے منع کیا گیا ہے اور روغنی برتن سے منع کیا گیا ہے، پھر وہ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں: سبز روغنی گھڑے سے بچو اور اگر تمہیں تمہارے مٹکوں کے پانی سے نشہ آ جائے تو اسے نہ پیو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5684]
حضرت کریمہ بنت ہمام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے سنا: ”تمہیں کدو کے برتن سے روکا گیا ہے، تمہیں روغنی مٹکے (کی نبیذ) سے منع کیا گیا ہے، تمہیں تارکول والے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع کیا گیا ہے، تمہیں تارکول والے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع کیا گیا ہے۔“ پھر آپ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا: ”سبز روغنی مٹکے (کی نبیذ) سے بچو، اگر تمہارے مٹکے کا پانی بھی نشہ دے تو اسے نہ پیو (نہ پلاؤ)۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 17960) (حسن الٕاسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، كريمة بنت همام: لم أجد من وثقها. ولبعض الحديث شواهد. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5685
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي وَالِدَتِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ؟ , فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ". وَاعْتَلُّوا بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے مشروبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نشہ لانے والی چیز سے روکتے تھے۔ «واعتلوا بحديث عبداللہ بن شداد عن عبداللہ بن عباس» لوگوں نے عبداللہ بن شداد کی (آگے آنے والی) اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5685]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کچھ مشروبات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ہر نشہ آور چیز سے منع فرماتے تھے۔“ (امام نسائی رحمہ اللہ نے کہا کہ) ان لوگوں نے عبداللہ بن شداد کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کردہ روایت سے دلیل پکڑی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17974) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5686
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ يَذْكُرُهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ". ابْنُ شُبْرُمَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے، اور دوسرے مشروبات اس وقت حرام ہیں جب نشہ آ جائے۔ ابن شبرمہ نے اسے عبداللہ بن شداد سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5686]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ خمر (شراب) تو قلیل بھی حرام ہے اور کثیر بھی جبکہ دوسرے مشروبات سے نشہ آور (حرام ہیں)۔ ابن شبرمہ نے یہ حدیث عبداللہ بن شداد سے نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 5789)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5687-5689) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5687
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الثِّقَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" حُرِّمَتِ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، وَالسَّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ". خَالَفَهُ أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شراب تو بذات خود حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ اور دوسرے مشروبات (اس وقت حرام ہیں) جب نشہ آ جائے۔ ابو عون محمد عبیداللہ ثقفی نے ابن شبرمہ کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5687]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ شراب بعینہ حرام ہے، تھوڑی ہو یا زیادہ، اور ہر دوسرے مشروب سے نشہ (حرام ہے)۔ ابوعون محمد بن عبیداللہ ثقفی نے اس (ابن شبرمہ) کی مخالفت کی ہے (جیسا کہ آئندہ روایات سے ظاہر ہو رہا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مخالفت یہ ہے کہ ابو عون نے «السكر» (سین کے ضم اور کاف کے سکون کے ساتھ) کی بجائے «المسكر» (میم کے ضمہ، سین کے کسرہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ) ( «ما أسكر» جیسا کہ اگلی روایت میں ہے) روایت کی ہے، جو معنی میں بھی ابن شبرمہ کی روایت کے خلاف ہے، لفظ «السكر» سے کا مطلب یہ ہے کہ ”جس مقدار پر نشہ آ جائے وہ حرام ہے اس سے پہلے نہیں، اور لفظ «المسكر» (یا اگلی روایت میں «ما أسكر» ) کا مطلب یہ ہے کہ جس مشروب سے بھی نشہ آتا ہو (خواہ اس کی کم مقدار پر نہ آئے) وہ حرام ہے، اور سنداً ابن شبرمہ کی روایت کے مقابلہ میں ابو عون کی روایت زیادہ قریب صواب ہے، اس لیے امام طحاوی وغیرہ کا استدلال ابن شبرمہ کی روایت سے درست نہیں۔ (دیکھئیے: الحواشی الجدیدہ للفنجابی، نیز الفتح ۱۰/۶۵)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5688
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ. ح، وَأَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" حُرِّمَتِ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ". لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ الْحَكَمِ:" قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شراب بذات خود حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ، اور ہر مشروب جو نشہ لائے حرام ہے۔ (مقدار کم ہو یا زیادہ) ابن حکم نے «قلیلھا و کثیر ھا» (خواہ کم ہو یا زیادہ) کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5688]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شراب بعینہ حرام ہے، قلیل ہو یا کثیر، نیز ہر نشہ آور مشروب بھی حرام ہے۔ ابن حکم نے «قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا» ”اس کی قلیل اور کثیر مقدار“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5686 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5689
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ , قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ , عَنْ أَبِي عَوْنٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا وَمَا أَسْكَرَ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ شُبْرُمَةَ , وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ كَانَ يُدَلِّسُ , وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ , ذِكْرُ السَّمَاعِ مِنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ , وَرِوَايَةُ أَبِي عَوْنٍ أَشْبَهُ بِمَا رَوَاهُ الثِّقَاتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے اور ہر وہ مشروب جو نشہ لائے (کم ہو یا زیادہ) حرام ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابن شبرمہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ۱؎، ہشیم بن بشیر تدلیس کرتے تھے، ان کی حدیث میں ابن شبرمہ سے سماع ہونے کا ذکر نہیں ہے اور ابو عون کی روایت ان ثقات کی روایت سے بہت زیادہ مشابہ ہے جنہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5689]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شراب قلیل ہو یا کثیر حرام ہے، اسی طرح ہر نشہ آور مشروب بھی۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا کہ یہ روایت ابن شبرمہ کی (بیان کردہ) روایت سے زیادہ درست ہے۔ ہشیم بن بشیر تدلیس کرتا تھا اور اس کی حدیث میں اس (ہشیم) کے ابن شبرمہ سے سننے کا ذکر بھی نہیں۔ اور ابو عون کی روایت ثقات کی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کردہ روایت کے بہت مشابہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5686 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: اس حدیث کا بلفظ «المسکر» ہونا بمقابلہ «السکر» ہونے کا زیادہ صحیح ہے، (ابن شبرمہ کی روایت میں «السکر» ہے جب کہ ابو عون کی روایت میں «المسکر» ہے) امام نسائی کی طرح امام احمد وغیرہ نے بھی لفظ «المسکر» ہی کو ترجیح دیا ہے (دیکھئیے فتح الباری ج۱۰/ص۴۳)۔ ۲؎: مؤلف کا مقصد یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن شبرمہ کی روایت کے مقابلہ میں ابو عون کی روایت سنداً زیادہ قرین صواب اس لیے بھی ہے کہ ابو عون کی روایت ابن عباس سے روایت کرنے والے دیگر ثقہ رواۃ کی روایتوں کے مطابق ہے کہ ابن عباس نشہ لانے والے مشروب کی ہر مقدار کی حرمت کے قائل تھے خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5690
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ , قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ عَنِ الْبَاذَقِ , فَقَالَ:" سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ , وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ" , قَالَ: أَنَا أَوَّلُ الْعَرَبِ سَأَلَهُ.
ابوالجویریہ جرمی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «باذق» (بادہ) کے بارے میں پوچھا، وہ کعبے سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے، چنانچہ وہ بولے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) «باذق» کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے (یا پہلے ہی اس کا حکم فرما گئے کہ) جو مشروب نشہ لائے، وہ حرام ہے۔ وہ (جرمی) کہتے ہیں: میں عرب کا سب سے پہلا شخص تھا جس نے باذق کے بارے میں پوچھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5690]
حضرت ابوالجویریہ جرمی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کعبہ شریف سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے کہ میں نے ان سے باذق کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم باذق (شراب) سے پہلے تشریف لے گئے (لیکن آپ کا فرمان موجود ہے) ”ہر نشہ آور مشروب حرام ہے“۔ ابوالجویریہ نے کہا کہ میں پہلا عربی تھا جس نے ان سے باذق کے بارے میں پوچھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5609 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «باذق» : بادہ کا معرب ہے جو فارسی لفظ ہے، انگور کے شیرے کو تھوڑا سا جوش دے کر ایک خاص قسم کا مشروب تیار کرتے ہیں۔ یہ مشروب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھا، لیکن ہر نشہ لانے والے کے بارے میں آپ کا فرمان اس پر بھی صادق آتا ہے، اور آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس مشروب کا زیادہ حصہ نشہ لائے اس کا تھوڑا حصہ بھی حرام ہے، تو کیسے یہ بات صحیح ہو سکتی ہے کہ ”معروف شراب“ کے سوا دیگر مشروب کی وہی مقدار حرام ہے جو نشہ لائے؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5691
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ , وَالنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ , وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ يُحَدِّثُ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ إِنْ كَانَ مُحَرِّمًا مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جسے بھلا معلوم ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیز کو حرام کہنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ نبیذ کو حرام کہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5691]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرام کردہ اشیاء کو حرام کہے تو وہ (نشہ آور) نبیذ کو حرام قرار دے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6323) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: مراد اس سے وہ نبیذ ہے، جس میں نشہ پیدا ہو چکا ہو خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں