سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ: ذِكْرِ الرِّوَايَاتِ الْمُغَلِّظَاتِ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ
باب: شراب پینے کے سلسلے میں سخت قسم کی احادیث کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5662
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ شَارِبُهَا حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، اور جب وہ کوئی ایسی چیز لوٹتا ہے، جس کی طرف لوگ نظریں اٹھا کر دیکھتے ہوں تو وہ مومن باقی نہیں رہتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5662]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ جب شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ جب چور چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ اور جب کوئی شخص ڈاکا ڈالتا ہے کہ لوگ دہشت سے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن نہیں رہتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 30 (2475)، الحدود 2 (6772)، صحیح مسلم/الٕایمان 24 (57)، سنن ابن ماجہ/الفتن 3 (3936)، (تحفة الأشراف: 13191، 14863) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لیکن توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے، جب بھی توبہ کرتا ہے اس کا ایمان لوٹ آتا ہے، (دیکھئیے حدیث نمبر ۴۸۷۴ اور اس کا حاشیہ)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5663
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدُ الْرَّحْمَنِ كُلُّهُمْ حَدَّثُونِي , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا۔ اور جب کوئی قیمتی چیز چراتا ہے جس کی طرف مسلمان (حسرت سے) نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں، تو وہ مومن باقی نہیں رہتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5663]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا، شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا اور ڈاکو عظیم الشان ڈاکا مارتے وقت کہ مسلمان اس کی طرف دیکھتے ہی رہ جائیں مومن نہیں رہتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4874 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5664
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْيمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاقْتُلُوهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور صحابہ کرام کی ایک جماعت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب پیئے اسے کوڑے لگاؤ، پھر پیئے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر پیئے تو پھر کوڑے لگاؤ پھر پیئے تو اسے قتل کر دو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5664]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص شراب پیے، اسے کوڑے لگاؤ۔ پھر شراب پیے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر پی لے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ اور اگر (چوتھی دفعہ) پھر پی بیٹھے تو اسے قتل کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7301)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحدود 36 (4483)، مسند احمد (2/136) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5665
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ قَالَ: فِي الرَّابِعَةِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نشہ میں مست ہو جائے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر مست ہو تو کوڑے لگاؤ، اگر پھر بھی مست ہو تو پھر اسے کوڑے لگاؤ“، پھر چوتھی مرتبہ کے بارے میں فرمایا: ”اس کی گردن اڑا دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5665]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نشہ کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر نشہ کرے تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر نشہ کرے تو پھر بھی کوڑے لگاؤ۔ اگر چوتھی دفعہ نشہ کرے تو اس کی گردن اتار دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 37 (4484)، سنن ابن ماجہ/الحدود 17 (2572)، (تحفة الأشراف: 14948)، مسند احمد (2/28080، 291، 504، 519) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5666
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ، يَقُولُ:" مَا أُبَالِي شَرِبْتُ الْخَمْرَ، أَوْ عَبَدْتُ هَذِهِ السَّارِيَةَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں پروا نہیں کرتا (یعنی اس میں کوئی فرق نہیں سمجھتا) کہ شراب پیوں یا اللہ جل جلالہ کے علاوہ اس ستون کو پوجوں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5666]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں شراب پیوں یا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس ستون کی عبادت کروں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔلشراف: 9132) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
43. بَابُ: ذِكْرِ الرِّوَايَةِ الْمُبَيِّنَةِ عَنْ صَلَوَاتِ شَارِبِ الْخَمْرِ
باب: شرابیوں کی نماز کے متعلق صریح روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 5667
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ حِصْنِ بْنِ عَلَّاقٍ دِمَشْقِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ رُوَيْمٍ: أَنَّ ابْنَ الدَّيْلَمِيِّ رَكِبَ يَطْلُبُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ ابْنُ الدَّيْلَمِيِّ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ شَأْنَ الْخَمْرِ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي فَيَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا".
عروہ بن رویم بیان کرتے ہیں کہ ابن دیلمی عبداللہ بن عمرو بن عاص کی تلاش میں سوار ہوئے، ابن دیلمی نے کہا: چنانچہ میں ان کے پاس پہنچا تو میں نے عرض کیا: عبداللہ بن عمرو! آپ نے شراب کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کا کوئی شخص شراب نہ پیئے، ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5667]
حضرت ابن دیلمی رحمہ اللہ (گھوڑے پر) سوار تھے، انھوں نے کہا کہ میں ان کے پاس پہنچا تو میں نے کہا: اے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کی بابت کچھ بیان فرماتے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری امت میں سے جو شخص شراب پیے گا، اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الٔهشربة 4 (3377)، (تحفة الأشراف: 8843)، مسند احمد (2/176، 189)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5673) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5668
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:" الْقَاضِي إِذَا أَكَلَ الْهَدِيَّةَ فَقَدْ أَكَلَ السُّحْتَ، وَإِذَا قَبِلَ الرِّشْوَةَ بَلَغَتْ بِهِ الْكُفْرَ". (حديث مقطوع) (حديث موقوف) وَقَالَ مَسْرُوقٌ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَدْ كَفَرَ، وَكُفْرُهُ أَنْ لَيْسَ لَهُ صَلَاةٌ".
مسروق کہتے ہیں کہ قاضی نے جب ہدیہ لیا ۱؎ تو اس نے حرام کھایا، اور جب اس نے رشوت قبول کر لی تو وہ کفر تک پہنچ گیا، مسروق نے کہا: جس نے شراب پی، اس نے کفر کیا اور اس کا کفر یہ ہے کہ اس کی نماز (قبول) نہیں ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5668]
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے کہا کہ جب قاضی تحفہ وصول کرے تو اس نے حرام کھایا اور جب رشوت قبول کر لے تو یہ اس کو کفر تک پہنچا دیتی ہے، اور مسروق رحمہ اللہ نے (یہ بھی) کہا کہ جس شخص نے شراب پی اس نے کفر کیا اور اس کا کفر یہ ہے کہ اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19433) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”خلف“ حافظہ کے کمزور ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کسی ایسے شخص سے جس سے قاضی بننے سے پہلے نہیں لیتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الحكم بن عتيبة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366
44. بَابُ: ذِكْرِ الآثَامِ الْمُتَوَلِّدَةِ عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ
باب: شراب پینے کی وجہ سے ہونے والے گناہ جیسے ترک صلاۃ، اللہ کی طرف حرام کردہ قتل ناحق اور محرم سے زنا کاری وغیرہ کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5669
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ إِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلَا قَبْلَكُمْ تَعَبَّدَ فَعَلِقَتْهُ امْرَأَةٌ غَوِيَّةٌ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ جَارِيَتَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّا نَدْعُوكَ لِلشَّهَادَةِ، فَانْطَلَقَ مَعَ جَارِيَتِهَا فَطَفِقَتْ كُلَّمَا دَخَلَ بَابًا أَغْلَقَتْهُ دُونَهُ، حَتَّى أَفْضَى إِلَى امْرَأَةٍ وَضِيئَةٍ عِنْدَهَا غُلَامٌ وَبَاطِيَةُ خَمْرٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا دَعَوْتُكَ لِلشَّهَادَةِ، وَلَكِنْ دَعَوْتُكَ لِتَقَعَ عَلَيَّ أَوْ تَشْرَبَ مِنْ هَذِهِ الْخَمْرَةِ كَأْسًا، أَوْ تَقْتُلَ هَذَا الْغُلَامَ، قَالَ: فَاسْقِينِي مِنْ هَذَا الْخَمْرِ كَأْسًا، فَسَقَتْهُ كَأْسًا، قَالَ: زِيدُونِي، فَلَمْ يَرِمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَيْهَا، وَقَتَلَ النَّفْسَ، فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا يَجْتَمِعُ الْإِيمَانُ وَإِدْمَانُ الْخَمْرِ إِلَّا لَيُوشِكُ أَنْ يُخْرِجَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ".
عبدالرحمٰن بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: شراب سے بچو، کیونکہ یہ برائیوں کی جڑ ہے، تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں ایک شخص تھا جو بہت عبادت گزار تھا، اسے ایک بدکار عورت نے پھانس لیا، اس نے اس کے پاس ایک لونڈی بھیجی اور اس سے کہلا بھیجا کہ ہم تمہیں گواہی دینے کے لیے بلا رہے ہیں، چنانچہ وہ اس کی لونڈی کے ساتھ گیا، وہ جب ایک دروازے میں داخل ہو جاتا (لونڈی) اسے بند کرنا شروع کر دیتی یہاں تک کہ وہ ایک حسین و جمیل عورت کے پاس پہنچا، اس کے پاس ایک لڑکا تھا اور شراب کا ایک برتن، وہ بولی: اللہ کی قسم! میں نے تمہیں گواہی کے لیے نہیں بلایا ہے، بلکہ اس لیے بلایا ہے کہ تم مجھ سے صحبت کرو، یا پھر ایک گلاس یہ شراب پیو، یا اس لڑکے کو قتل کر دو، وہ بولا: مجھے ایک گلاس شراب پلا دو، چنانچہ اس نے ایک گلاس پلائی، وہ بولا: اور دو، اور وہ وہاں سے نہیں ہٹا یہاں تک کہ اس عورت سے صحبت کر لی اور اس بچے کا خون بھی کر دیا، لہٰذا تم لوگ شراب سے بچو، اللہ کی قسم! ایمان اور شراب کا ہمیشہ پینا، دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے، البتہ ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5669]
حضرت عبدالرحمن بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: شراب سے بچو، یہ تمام خرابیوں اور گناہوں کی جڑ ہے۔ تم سے پہلے لوگوں میں ایک بہت بڑا عابد شخص تھا۔ ایک بدکار عورت اس کے پیچھے پڑ گئی (اور اسے پھانسنا چاہا)۔ اس نے اپنی لونڈی کو عابد کی طرف بھیجا اور کہا: ہم آپ کو ایک گواہی کے سلسلے میں بلانا چاہتے ہیں۔ وہ عابد لونڈی کے ساتھ چل پڑا۔ جب وہ کسی دروازے میں داخل ہو جاتا تو وہ پیچھے سے بند کر دیتی (اور تالا لگا دیتی) حتیٰ کہ وہ ایک خوبصورت عورت کے پاس پہنچ گیا جس کے پاس ایک لڑکا تھا اور ایک شراب کا مٹکا۔ وہ عورت کہنے لگی: اللہ کی قسم! میں نے آپ کو کسی گواہی کے لیے نہیں بلایا بلکہ میں نے تو اس لیے بلایا ہے کہ آپ مجھ سے بدکاری کریں یا یہ شراب پی لیں یا پھر لڑکے کو قتل کر دیں۔ اس عابد نے (سوچ کر) کہا: مجھے اس شراب کا ایک گلاس پلا دے۔ اس نے شراب کا ایک گلاس پلا دیا۔ وہ (نشے میں آ کر) کہنے لگا: مجھے اور پلاؤ۔ وہ پیتا رہا حتیٰ کہ اس نے عورت کے ساتھ بدکاری بھی کر لی اور اس لڑکے کو بھی مار دیا، لہٰذا شراب سے بچو۔ اللہ کی قسم! شراب پر ہمیشگی و دوام اور ایمان اکٹھے نہیں ہوں گے مگر ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9822) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5670
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ، يَقُولُ:" اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلَا قَبْلَكُمْ يَتَعَبَّدُ وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ، قَالَ: فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا يَجْتَمِعُ وَالْإِيمَانُ أَبَدًا إِلَّا يُوشِكَ أَحَدُهُمَا أَنْ يُخْرِجَ صَاحِبَهُ".
عبدالرحمٰن بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: شراب سے بچو، کیونکہ یہ برائیوں کی جڑ ہے، تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں ایک شخص تھا جو بہت عبادت گزار تھا اور لوگوں سے الگ رہتا تھا، پھر اسی طرح ذکر کیا۔ وہ کہتے ہیں: لہٰذا تم شراب سے بچو، اس لیے کہ اللہ کی قسم وہ (یعنی شراب نوشی) اور ایمان کبھی اکٹھا نہیں ہو سکتے۔ البتہ ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5670]
حضرت عبدالرحمن بن حارث رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: شراب سے دور رہو کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ تم سے پہلے لوگوں میں ایک بڑا عابد شخص تھا۔ وہ لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ (پھر راوی نے حسب سابق روایت بیان کی) پھر فرمایا: شراب سے دور رہو۔ اللہ کی قسم! شراب اور ایمان کسی شخص میں اکٹھے نہیں ہوں گے مگر ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو نکال باہر کرے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر بغیر توبہ کے مر گیا، اور اگر توبہ کر لے گا تو ایمان شراب کے اثر کو نکال دے گا ان شاء اللہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5671
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ الْعَلَاءِ وَهُوَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَلَمْ يَنْتَشِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ مَا دَامَ فِي جَوْفِهِ أَوْ عُرُوقِهِ مِنْهَا شَيْءٌ، وَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا وَإِنِ انْتَشَى لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَإِنْ مَاتَ فِيهَا مَاتَ كَافِرًا". خَالَفَهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے شراب پی اور اسے نشہ (گرچہ) نہیں ہوا، جب تک اس کا ایک قطرہ بھی اس کے پیٹ یا اس کی رگوں میں باقی رہے گا ۱؎ اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہو گی، اور اگر وہ مر گیا تو کافر کی موت مرے گا ۲؎، اور اگر اسے نشہ ہو گیا تو اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہیں ہو گی، اور اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو وہ کافر کی موت مرے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5671]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”جس شخص نے شراب پی لیکن وہ نشے میں مدہوش نہ ہوا تو جب تک وہ شراب ذرہ بھر بھی اس کے پیٹ یا رگوں میں رہے گی تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔ اور اگر وہ اس حال میں مر گیا تو کافر کی موت مرے گا اور اگر وہ نشے میں بد مست ہو گیا تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ ہوگی۔ اور اگر اس دوران میں مر گیا تو کافر کی موت مرے گا۔“ یزید بن ابو زیاد نے اس (فضیل) کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7401) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ شراب کا ایک قطرہ بھی (جو نشہ پیدا نہیں کرتا) حرام ہے، ارشاد نبوی ہے ”جس مشروب کا زیادہ حصہ نشہ پیدا کرے اس کا تھوڑا سا حصہ بھی حرام ہے۔“ ۲؎: جیسے کفر کے ساتھ نماز مقبول نہیں اسی طرح شراب کے پیٹ میں موجود ہونے سے نماز قبول نہیں ہو گی، تو اس حالت میں موت کافر کی موت ہوئی کیونکہ بے نماز نہ پڑھنے والا کافر ہے، جیسا کہ محققین علما کا فتوی ہے۔ «خالفه يزيد بن أبي زياد» سابقہ روایت میں «يزيد بن أبي زياد» نے فضیل سے اختلاف کیا
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح