🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. بَابُ حَقِّ الْجِسْمِ فِي الصَّوْمِ:
باب: روزے میں جسم کا حق۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1975
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ،" أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلْ صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ كُلَّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ"، فَشَدَّدْتُ، فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: فَصُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَلَا تَزِدْ عَلَيْهِ، قُلْتُ: وَمَا كَانَ صِيَامُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام؟ قَالَ: نِصْفَ الدَّهْرِ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ، يَقُولُ بَعْدَ مَا كَبِرَ: يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبداللہ! کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم دن میں تو روزہ رکھتے ہو اور ساری رات نماز پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی صحیح ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا، کہ ایسا نہ کر، روزہ بھی رکھ اور بے روزہ کے بھی رہ۔ نماز بھی پڑھ اور سوؤ بھی۔ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تم سے ملاقات کرنے والوں کا بھی تم پر حق ہے بس یہی کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا، لیکن میں نے اپنے پر سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی۔ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! میں اپنے میں قوت پاتا ہوں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھ اور اس سے آگے نہ بڑھ، میں نے پوچھا اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بے روزہ رہا کرتے تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ بعد میں جب ضعیف ہو گئے تو کہا کرتے تھے کاش! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی رخصت مان لیتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1975]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ! کیا مجھے یہ خبر نہیں پہنچی کہ آپ دن میں روزے سے ہوتے ہیں اور رات بھر نماز پڑھتے رہتے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کیا کرو، روزہ رکھو افطار بھی کرو، نماز پڑھو اور آرام بھی کرو کیونکہ تم پر تمہارے جسم کا حق ہے۔ تم پر تمہاری آنکھوں کا حق ہے اور تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے اور تم پر تمہارے مہمان کا بھی حق ہے۔ تجھے یہی کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین روزے رکھے کیونکہ تیرے لیے ہر نیک عمل کا دس گنا اجر و ثواب ہے۔ اس طرح یہ پورے سال کے روزے ہیں۔“ لیکن میں نے جسم پر سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے اندر اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایسا ہے تو اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام کا روزہ رکھو اور اس پر زیادتی نہ کرو۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام کے روزے کیسے تھے؟ فرمایا: ”نصف زندگی۔“ یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔ بعد ازاں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جب بوڑھے ہو گئے تو کہا کرتے تھے: کاش! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت کو قبول کیا ہوتا (تو آج یہ حال نہ ہوتا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1975]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. بَابُ صَوْمِ الدَّهْرِ:
باب: ہمیشہ روزہ رکھنا (جس کو «صوم الدهر» کہتے ہیں)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1976
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِّي أَقُولُ: وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ، وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ، فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ،" فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، فَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ أَفْضَلُ الصِّيَامِ، فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک میری یہ بات پہنچا گئی کہ ”اللہ کی قسم! زندگی بھر میں دن میں تو روزے رکھوں گا۔ اور ساری رات عبادت کروں گا“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، ہاں میں نے یہ کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں، اس لیے روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ۔ عبادت بھی کر لیکن سوؤ بھی اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر۔ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ملتا ہے، اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا، میں نے کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن بے روزہ کے رہ کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا۔ اور روزہ کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے اب بھی وہی کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے لیکن اس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1976]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری اس بات کی اطلاع دی گئی کہ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں گا دن کو روزہ رکھوں گا اور رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا۔ میں نے آپ سے عرض کیا: میرے والدین آپ پر فدا ہوں! میں نے یہ بات کہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس لیے روزہ رکھو اور افطار بھی کرو، نماز پڑھو اور آرام بھی کرو، نیز ہر مہینے میں تین روزے رکھو کیونکہ ہر نیکی کا دس گنا ثواب ملتا ہے اور ایسا کرنا عمر بھر کے روزوں کے برابر ہے۔“ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو۔“ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت پاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو، یہ حضرت داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور یہ افضل روزے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: میں اس سے بہتر کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1976]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. بَابُ حَقِّ الأَهْلِ فِي الصَّوْمِ:
باب: روزہ میں بیوی اور بال بچوں کا حق۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1977
رَوَاهُ أَبُو جُحَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اس کو ابوحجیفہ وہب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: Q1977]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1977
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ عَطَاءً، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ، وَإِمَّا لَقِيتُهُ، فَقَالَ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ وَتُصَلِّي وَلَا تَنَامُ،" فَصُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ، وَأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَظًّا"، قَالَ: إِنِّي لَأَقْوَى لِذَلِكَ، قَالَ: فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: وَكَيْفَ؟ قَالَ: كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى، قَالَ: مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ عَطَاءٌ: لَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ مَرَّتَيْنِ.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوعاصم نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہوں نے عطاء سے سنا، انہیں ابوعباس شاعر نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور ساری رات عبادت کرتا ہوں۔ اب یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میرے پاس بھیجا یا خود میں نے آپ سے ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تو متواتر روزے رکھتا ہے اور ایک بھی نہیں چھوڑتا اور (رات بھر) نماز پڑھتا رہتا ہے؟ روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ، عبادت بھی کر اور سوؤ بھی کیونکہ تیری آنکھ کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھا کر۔ انہوں نے کہا اور وہ کس طرح؟ فرمایا کہ داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو پیٹھ نہیں پھیرتے تھے۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں پیٹھ پھیر جاؤں۔ عطاء نے کہا کہ مجھے یاد نہیں (اس حدیث میں) صوم دہر کا کس طرح ذکر ہوا! (البتہ انہیں اتنا دیا تھا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو صوم دہر رکھتا ہے اس کا روزہ ہی نہیں، دو مرتبہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1977]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے متعلق یہ خبر پہنچی کہ میں متواتر روزے رکھتا ہوں اور رات بھر نماز پڑھتا رہتا ہوں، آپ نے مجھے پیغام بھیجا یا میں خود آپ سے ملا تو آپ نے فرمایا: ”مجھے تمہارے متعلق یہ اطلاع ملی ہے کہ تم مسلسل روزے رکھتے ہو اور افطار نہیں کرتے اور نماز پڑھتے رہتے ہو؟ روزے بھی رکھو، افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور آرام بھی کرو کیونکہ تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے، تمہاری جان کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی اور تمہارے بچوں کا تم پر حق ہے۔“ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: میں اس کی اپنے اندر ہمت پاتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”حضرت داود علیہ السلام جیسے روزے رکھو۔“ عرض کیا: وہ کیسے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، جب دشمن کا مقابلہ کرتے تو راہ فرار نہیں اختیار کرتے تھے۔“ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میری طرف سے اس (داود علیہ السلام والی صفت) کی ذمہ داری کون لیتا ہے؟ (راویِ حدیث) عطاء رحمہ اللہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں ہو سکا کہ آپ نے ہمیشہ روزے رکھنے کا ذکر کس طرح کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس نے گویا روزے نہیں رکھے۔“ یہ آپ نے دو دفعہ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1977]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. بَابُ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ:
باب: ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1978
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، قَالَ: أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ: صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا، فَقَالَ: اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ، قَالَ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ، فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ فِي ثَلَاثٍ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مہینہ میں صرف تین دن کے روزے رکھا کر۔ انہوں نے کہا کہ مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ اسی طرح وہ برابر کہتے رہے (کہ مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے) یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ مہینہ میں ایک قرآن مجید ختم کیا کر۔ انہوں نے اس پر بھی کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اور برابر یہی کہتے رہے۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین دن میں (ایک قرآن ختم کیا کر)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1978]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”مہینے میں تین روزے رکھا کرو۔“ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اس طرح سلسلہ کلام جاری رہا، آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں قرآن ختم کیا کرو۔“ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اس طرح گفتگو چلتی رہی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن میں ختم کرلیا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1978]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. بَابُ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ:
باب: داؤد علیہ السلام کا روزہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1979
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْمَكِّيَّ، وَكَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ:سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ، وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ، قُلْتُ: فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوعباس مکی سے سنا، وہ شاعر تھے لیکن روایت حدیث میں ان پر کسی قسم کا اتہام نہیں تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تو متواتر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تو یونہی کرتا رہا تو آنکھیں دھنس جائیں گی، اور تو بےحد کمزور ہو جائے گا یہ کوئی روزہ نہیں کہ کوئی زندگی بھر (بلاناغہ ہر روز) روزہ رکھے۔ تین دن کا (ہر مہینہ میں) روزہ پوری زندگی کے روزے کے برابر ہے۔ میں نے اس پر کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھا کر۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے تھے اور جب دشمن کا سامنا ہوتا تو پیٹھ نہیں دکھلایا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1979]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سارا سال روزے رکھتے ہو اور رات بھر نماز پڑھتے رہتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کرنے سے آنکھوں میں گڑھے پڑ جائیں گے اور جان کمزور ہو جائے گی۔ جس نے ہمیشہ کے روزے رکھے اس نے گویا روزے نہیں رکھے۔ ہر مہینے میں تین دن روزے رکھ لینا اس سے زمانے بھر کے روزے رکھنے کا ثواب ملتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت داود علیہ السلام کے روزوں جیسے روزے رکھو۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اس کے باوجود جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو راہِ فرار اختیار نہیں کرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1979]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1980
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ، وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقَالَ: أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: خَمْسًا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: سَبْعًا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: تِسْعًا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِحْدَى عَشْرَةَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، شَطْرَ الدَّهَرِ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا".
ہم سے اسحٰق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے اور ان سے ابوقلابہ نے کہ مجھے ابوملیح نے خبر دی، کہا کہ میں آپ کے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے روزے کے متعلق خبر ہو گئی۔ (کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور میں نے ایک گدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بچھا دیا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے۔ اور تکیہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تمہارے لیے ہر مہینہ میں تین دن کے روزے کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! (کچھ اور بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا، اچھا پانچ دن کے روزے (رکھ لے) میں نے عرض کی، یا رسول اللہ کچھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو چھ دن، میں نے عرض کی یا رسول اللہ! (کچھ اور بڑھائیے، مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اچھا نو دن، میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! کچھ اور فرمایا، اچھا گیارہ دن۔ آخر آپ نے فرمایا کہ داؤد علیہ السلام کے روزے کے طریقے کے سوا اور کوئی طریقہ (شریعت میں) جائز نہیں۔ یعنی زندگی کے آدھے دنوں میں ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1980]
حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: مجھے ابو ملیح نے بتایا کہ میں تیرے باپ کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گیا۔ انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں میرے روزوں کا تذکرہ ہوا تو آپ میرے ہاں تشریف لائے۔ میں نے آپ کے لیے کھجور کی چھال سے بھرا ہوا چمڑے کا تکیہ بچھا دیا، آپ زمین پر بیٹھ گئے۔ اس بنا پر تکیہ میرے اور آپ کے درمیان رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں ہر مہینے میں تین روزے کافی نہیں؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ روزے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات روزے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نو روزے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیارہ روزے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کے روزوں میں سے کوئی روزہ افضل نہیں جو نصف سال کے روزے رکھتے تھے۔ تم ایک دن کا روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1980]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. بَابُ صِيَامِ أَيَّامِ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ:
باب: ایام بیض کے روزے یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخوں کے روزے رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1981
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ".
ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر مہینے کی تین تاریخوں میں روزہ رکھنے کی وصیت فرمائی تھی۔ اسی طرح چاشت کی دو رکعتوں کی بھی وصیت فرمائی تھی اور اس کی بھی کہ سونے سے پہلے ہی میں وتر پڑھ لیا کروں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1981]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی: ”ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھنا، اشراق پڑھنا اور نیند سے پہلے وتر پڑھنا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1981]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَمْ يُفْطِرْ عِنْدَهُمْ:
باب: جو شخص کسی کے ہاں بطور مہمان ملاقات کے لیے گیا اور ان کے یہاں جا کر اس نے اپنا نفلی روزہ نہیں توڑا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1982
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدٌ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، قَالَ: أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى غَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ، فَدَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِ بَيْتِهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً، قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَتْ: خَادِمُكَ أَنَسٌ، فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا لِي بِهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا، وَوَلَدًا، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ، فَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا، وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ أَنَّهُ دُفِنَ لِصُلْبِي مَقْدَمَ حَجَّاجٍ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ وَمِائَةٌ". حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خالد نے (جو حارث کے بیٹے ہیں) بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا نامی ایک عورت کے یہاں تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ گھی اس کے برتن میں رکھ دو اور یہ کھجوریں بھی اس کے برتن میں رکھ دو کیونکہ میں تو روزے سے ہوں، پھر آپ نے گھر کے ایک کنارے میں کھڑے ہو کر نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا کی، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ میرا ایک بچہ لاڈلا بھی تو ہے (اس کے لیے بھی تو دعا فرما دیجئیے) فرمایا کون ہے انہوں نے کہا آپ کا خادم انس (رضی اللہ عنہ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا اور آخرت کی کوئی خیر و بھلائی نہ چھوڑی جس کی ان کے لیے دعا نہ کی ہو۔ آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا فرما اور اس کے لیے برکت عطا کر (انس رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ) چنانچہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ اور مجھ سے میری بیٹی امینہ نے بیان کیا حجاج کے بصرہ آنے تک میری صلبی اولاد میں سے تقریباً ایک سو بیس دفن ہو چکے تھے۔ ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں یحییٰ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا، اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کے ساتھ۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1982]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھجوریں اور گھی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا گھی مشکیزے میں اور کھجوریں برتن میں واپس ڈال دو کیونکہ میں روزے سے ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے ایک گوشے میں کھڑے ہوکر فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز ادا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اور دیگر اہل خانہ کے لیے دعا فرمائی۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا ایک عزیز ہے (اس کے لیے بھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: آپ کا خادم انس (رضی اللہ عنہ)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی بھلائی نہیں چھوڑی جس کی میرے لیے دعا نہ کی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ» ”اے اللہ! اسے مال و اولاد عطا فرما اور اسے خیر و برکت سے ہمکنار کر۔“ (حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دیکھ لو) میں تمام انصار سے زیادہ مالدار ہوں اور مجھ سے میری بیٹی اُمینہ نے بیان کیا کہ حجاج کے بصرہ آنے کے وقت تک ایک سو بیس سے کچھ زیادہ میرے حقیقی بچے دفن ہو چکے ہیں۔ (راوی حدیث) یحییٰ بن ایوب کہتے ہیں کہ مجھے حمید طویل نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1982]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. بَابُ الصَّوْمِ آخِرَ الشَّهْرِ:
باب: مہینے کے آخر میں روزہ رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1983
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، عَنْ غَيْلَانَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَأَلَهُ، أَوْ سَأَلَ رَجُلًا وَعِمْرَانُ يَسْمَعُ، فَقَالَ: يَا أَبَا فُلَانٍ،"أَمَا صُمْتَ سَرَرَ هَذَا الشَّهْرِ؟ قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ يَعْنِي رَمَضَانَ، قَالَ الرَّجُلُ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِذَا أَفْطَرْتَ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ، لَمْ يَقُلِ الصَّلْتُ أَظُنُّهُ يَعْنِي رَمَضَانَ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ ثَابِتٌ: عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ.
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے مطرف نے، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا (مطرف نے یہ کہا کہ) سوال تو کسی اور نے کیا تھا لیکن وہ سن رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوفلاں! کیا تم نے اس مہینے کے آخر کے روزے رکھے؟ ابونعمان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ آپ کی مراد رمضان سے تھی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ ثابت نے بیان کیا، ان سے مطرف نے، ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (رمضان کے آخر کے بجائے) شعبان کے آخر میں کا لفظ بیان کیا (یہی صحیح ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1983]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا، یا کسی اور شخص سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا جبکہ حضرت عمران رضی اللہ عنہ سن رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو فلاں! کیا تو نے اس مہینے کے آخر میں روزے نہیں رکھے؟“ ابو نعمان نے کہا کہ میرے گمان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے متعلق دریافت کیا، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رمضان کے روزوں سے فارغ ہو جاؤ تو دو دن روزے رکھ لینا۔“ (راویِ حدیث) صلت نے رمضان کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ثابت نے مطرف سے، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے شعبان کے آخر میں روزے نہیں رکھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1983]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں