صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. بَابُ الصَّوْمِ يَوْمَ النَّحْرِ:
باب: عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنا۔
حدیث نمبر: 1994
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ رَجُلٌ: نَذَرَ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا، قَالَ: أَظُنُّهُ قَال: الِاثْنَيْنِ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ عِيدٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ عنبری نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، ان سے زیاد بن جبیر نے بیان کیا کہ ایک شخص ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک شخص نے ایک دن کے روزے کے نذر مانی۔ پھر کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ پیر کا دن ہے اور اتفاق سے وہی عید کا دن پڑ گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تو نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے سے (اللہ کے حکم سے) منع فرمایا ہے۔ (گویا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کوئی قطعی فیصلہ نہیں دیا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1994]
حضرت زیاد بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: ایک شخص نے نذر مانی ہے کہ وہ ایک روزہ رکھے گا، میرا گمان ہے کہ وہ سوموار کا دن ہے اور اتفاق سے اس دن عید تھی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1994]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1995
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَزَعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً، قَالَ: سَمِعْتُ أَرْبَعًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبْنَنِي، قَالَ:" لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ، وَلَا صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ، وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَمَسْجِدِي هَذَا".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قزعہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ جہادوں میں شریک رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں سنی ہیں جو مجھے بہت ہی پسند آئیں۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی عورت دو دن (یا اس سے زیادہ) کے اندازے کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی اور محرم نہ ہو۔ اور عیدالفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز جائز نہیں اور چوتھی بات یہ کہ تین مساجد کے سوا اور کسی جگہ کے لیے «شد الرحال» سفر نہ کیا جائے، ”مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری یہ مسجد (مسجد نبوی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1995]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بارہ جنگیں لڑی ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں سنی ہیں، جنہوں نے مجھے بہت خوش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی عورت اپنے شوہر یا محرم کے بغیر دو دن کا سفر نہ کرے، نیز عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن کا روزہ نہیں ہے، اسی طرح نماز فجر کے بعد کوئی (نفل) نماز نہیں تاآنکہ سورج طلوع ہو جائے اور نماز عصر کے بعد کوئی (نفل) نماز نہیں حتیٰ کہ غروب آفتاب ہو جائے اور تین مساجد کے علاوہ کسی مسجد کی طرف رخت سفر باندھنا جائز نہیں اور وہ یہ ہیں: مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور میری یہ مسجد، یعنی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1995]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
68. بَابُ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ:
باب: ایام تشریق کے روزے رکھنا۔
حدیث نمبر: 1996
وَقَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي،" كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَصُومُ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ بِمِنًى، وَكَانَ أَبُوهَا يَصُومُهَا.
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایام منی (ایام تشریق) کے روزے رکھتی تھیں اور ہشام کے باپ (عروہ) بھی ان دنوں میں روزہ رکھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1996]
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایامِ منیٰ (ایامِ تشریق) میں روزے رکھا کرتی تھیں اور ہشام کے والد حضرت عروہ رضی اللہ عنہ بھی ان ایام میں روزے رکھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1996]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1997
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِيسى بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَا:" لَمْ يُرَخَّصْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَنْ يُصَمْنَ، إِلَّا لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْهَدْيَ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عیسیٰ سے سنا، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (نیز زہری نے اس حدیث کو) سالم سے بھی سنا، اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا (عائشہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم) دونوں نے بیان کیا کہ کسی کو ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں مگر اس کے لیے جسے قربانی کا مقدور نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1997]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ”ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی مگر اس شخص کو جسے (ایام حج میں) قربانی کا جانور نہ مل سکے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1997]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1998
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عِيسى بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَا:" لَمْ يُرَخَّصْ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَنْ يُصَمْنَ، إِلَّا لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْهَدْيَ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عیسیٰ سے سنا، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے (نیز زہری نے اس حدیث کو) سالم سے بھی سنا، اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا (عائشہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم) دونوں نے بیان کیا کہ کسی کو ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں مگر اس کے لیے جسے قربانی کا مقدور نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1998]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی مگر اس شخص کو جسے (ایام حج میں) قربانی کا جانور نہ مل سکے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1998]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1999
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:"الصِّيَامُ لِمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ عَرَفَةَ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا، وَلَمْ يَصُمْ، صَامَ أَيَّامَ مِنًى"، وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ، تَابَعَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جو حاجی حج اور عمرہ کے درمیان تمتع کرے اسی کو یوم عرفہ تک روزہ رکھنے کی اجازت ہے، لیکن اگر قربانی کا مقدور نہ ہو اور نہ اس نے روزہ رکھا تو ایام منی (ایام تشریق) میں بھی روزہ رکھے۔ اور ابن شہاب نے عروہ سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے ساتھ اس حدیث کو ابراہیم بن سعد نے بھی ابن شہاب سے روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1999]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جو شخص حج اور عمرے کے درمیان تمتع کرے اسے عرفہ کے دن تک روزہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن اگر قربانی نہ پاسکے اور اس نے روزے بھی نہیں رکھے تو وہ ایامِ منی میں روزے رکھ لے۔ ابن شہاب نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ حضرت ابن شہاب سے بیان کرنے میں ابراہیم بن سعد نے امام مالک کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1999]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
69. بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ
باب: اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2000
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمَ عَاشُورَاءَ إِنْ شَاءَ صَامَ".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عمر بن محمد نے، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاشورہ کے دن اگر کوئی چاہے تو روزہ رکھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 2000]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی چاہے تو عاشوراء کا روزہ رکھ لے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 2000]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2001
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (شروع اسلام میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو جس کا دل چاہتا اس دن روزہ رکھتا اور جو نہ چاہتا نہیں رکھا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 2001]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کا روزہ جو چاہتا رکھتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 2001]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2002
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تَرَكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی رکھتے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کا لوگوں کو بھی حکم دیا۔ لیکن رمضان کی فرضیت کے بعد آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور فرمایا کہ اب جس کا جی چاہے اس دن روزہ رکھے اور جس کا چاہے نہ رکھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 2002]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جاہلیت میں قریش عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبوت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا گیا۔ اب ”جو چاہے اس دن روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 2002]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2003
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ، عَامَ حَجَّ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يَكْتُبْ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے عاشوراء کے دن منبر پر سنا، انہوں نے کہا کہ اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کدھر گئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ یہ عاشوراء کا دن ہے۔ اس کا روزہ تم پر فرض نہیں ہے لیکن میں روزہ سے ہوں اور اب جس کا جی چاہے روزہ سے رہے (اور میری سنت پر عمل کرے) اور جس کا جی چاہے نہ رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 2003]
حضرت حمید بن عبدالرحمان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن، جس سال انہوں نے حج کیا، منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اہل مدینہ! تمہارے علما کہاں گئے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا، البتہ میں روزے سے ہوں، اس لیے جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے، اسے چھوڑ دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 2003]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة