صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. بَابُ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَإِذَا أَصْبَحَ صَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَعَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ:
باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنا اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے۔
حدیث نمبر: 1984
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: نَعَمْ"، زَادَ غَيْرُ أَبِي عَاصِمٍ يَعْنِي أَنْ يَنْفَرِدَ بِصَوْمٍ.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عبدالحمید بن جبیر نے اور ان سے محمد بن عباد نے کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ابوعاصم کے علاوہ راویوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ خالی (ایک جمعہ ہی کے دن) روزہ رکھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1984]
حضرت محمد بن عباد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ (راویِ حدیث) حضرت ابوعاصم کے علاوہ دوسرے راوی نے یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ اس وقت منع ہے جب صرف ایک دن کا روزہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1984]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1985
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلَّا يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی شخص جمعہ کے دن اس وقت تک روزہ نہ رکھے جب تک اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک دن بعد روزہ نہ رکھتا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1985]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے مگر ایک دن جمعہ سے پہلے یا ایک دن اس کے بعد ساتھ ملائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1985]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1986
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ: أَصُمْتِ أَمْسِ؟ قَالَتْ: لَا، قَالَ: تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟ قَالَتْ: لَا، قَالَ: فَأَفْطِرِي"، وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ: سَمِعَ قَتَادَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ، أَنَّ جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَتْهُ، فَأَمَرَهَا فَأَفْطَرَتْ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوایوب نے اور ان سے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لے گئے، (اتفاق سے) وہ روزہ سے تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دریافت فرمایا کے کل کے دن بھی تو نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو۔ حماد بن جعد نے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ سے سنا، ان سے ابوایوب نے بیان کیا اور ان سے جویریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے روزہ توڑ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1986]
حضرت جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ان کے گھر تشریف لے گئے جبکہ وہ روزے سے تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تو نے کل روزہ رکھا تھا؟“ اس نے کہا، نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟“ عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”روزہ افطار کردو۔“ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کو روزہ افطار کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے روزہ افطار کردیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1986]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
64. بَابُ هَلْ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ:
باب: روزے کے لیے کوئی دن مقرر کرنا۔
حدیث نمبر: 1987
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصُّ مِنَ الْأَيَّامِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً"، وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (روزہ وغیرہ عبادات کے لیے) کچھ دن خاص طور پر مقرر کر رکھے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ بلکہ آپ کے ہر عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور دوسرا کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی طاقت رکھتا ہو؟ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1987]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے لیے کچھ دنوں کی تخصیص فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دائمی ہوا کرتا تھا، اور تم میں سے کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر طاقت رکھتا ہو؟ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1987]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
65. بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ:
باب: عرفہ کے دن روزہ رکھنا۔
حدیث نمبر: 1988
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ حَدَّثَتْهُ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ،" أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَهُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام فضل رضی اللہ عنہا کے مولی عمیر نے بیان کیا اور ان سے ام فضل رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عمر بن عبداللہ کے غلام ابونضر نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر نے اور انہیں ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ ان کے یہاں کچھ لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہیں۔ اور بعض نے کہا کہ روزہ سے نہیں ہیں۔ اس پر ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا (تاکہ حقیقت ظاہر ہو جائے) آپ اپنے اونٹ پر سوار تھے، آپ نے دودھ پی لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1988]
حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے ان کے پاس عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے میں اختلاف کیا۔ بعض نے کہا: آپ روزے سے ہیں اور بعض نے کہا: آپ روزے سے نہیں ہیں۔ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے آپ کے پاس دودھ کا پیالہ بھیجا جبکہ آپ اونٹ پر سوار تھے تو آپ نے اسے نوشِ جاں فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1988]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1989
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَوْ قُرِئَ عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِحِلَابٍ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، (یا ان کے سامنے حدیث کی قرآت کی گئی)۔ کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں بکیر نے، انہیں کریب نے اور انہیں میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہ عرفہ کے دن کچھ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا۔ اس لیے انہوں نے آپ کی خدمت میں دودھ بھیجا۔ آپ اس وقت عرفات میں وقوف فرما تھے۔ آپ نے دودھ پی لیا اور سب لوگ دیکھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1989]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ بھیجا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے نوش فرمایا جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1989]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
66. بَابُ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ:
باب: عیدالفطر کے دن روزہ رکھنا۔
حدیث نمبر: 1990
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، قَالَ:" شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: هَذَانِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا: يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْيَوْمُ الْآخَرُ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: مَنْ قَالَ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ فَقَدْ أَصَابَ، وَمَنْ قَالَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَدْ أَصَابَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ازہر کے غلام ابوعبید نے بیان کیا کہ عید کے دن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خدمت میں حاضر تھا۔ آپ نے فرمایا یہ دو دن ایسے ہیں جن کے روزوں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔ (رمضان کے) روزوں کے بعد افطار کا دن (عیدالفطر) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو (یعنی عید الاضحی کا دن)۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا سفیان بن عیینہ نے کہا، جس نے ابوعبداللہ کو ابن ازہر کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا، اور جس نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا۔(اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن ازہر اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ دونوں اس غلام میں شریک تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1990]
حضرت ابوعبید مولیٰ ابن ازہر رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں عید کے دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں میں روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے: ”ایک تمہارا روزوں کو افطار کرنے کا دن (عید الفطر کا) اور دوسرا دن وہ ہے جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو۔“ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے ابوعبید کے متعلق فرمایا کہ مولیٰ ابن ازہر اور مولیٰ عبدالرحمن بن عوف دونوں طرح کہنا صحیح ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1990]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1991
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ، وَعَنِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور قربانی کے دنوں کے روزوں کی ممانعت کی تھی اور ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لینے سے اور ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1991]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے“، اسی طرح «لِبْسَةُ الصَّمَّاءِ» ”(ایک کپڑے کو اس طرح لپیٹنا کہ ہاتھ باہر نہ نکل سکیں)“ اور ”ایک کپڑے میں گوٹھ مارنے سے بھی روکا ہے“۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1991]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1992
وَعَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ".
اور صبح اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے (منع فرمایا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1992]
اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے بعد نفل پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1992]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
67. بَابُ الصَّوْمِ يَوْمَ النَّحْرِ:
باب: عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنا۔
حدیث نمبر: 1993
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَا، قَالَ: سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" يُنْهَى عَنْ صِيَامَيْنِ وَبَيْعَتَيْنِ: الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ، وَالْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہوں نے عطاء بن میناء سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نقل کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزے اور دو قسم کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ عیدالفطر اور عید الاضحی کے روزے سے۔ اور ملامست اور منابذت کے ساتھ خرید و فروخت کرنے سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1993]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”دو دن کے روزوں اور دو قسم کی خرید و فروخت سے منع کیا گیا ہے: عید الفطر اور قربانی کے دن روزہ رکھنا، نیز بیع «الْمُلَامَسَةِ» اور بیع «الْمُنَابَذَةِ» سے منع کیا گیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1993]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة