صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. بَابُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ بِالسَّمْسَرَةِ:
باب: اس بیان میں کہ کوئی بستی والا باہر والے کے لیے دلالی کر کے مول نہ لے۔
حدیث نمبر: 2160
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبْتَاعُ الْمَرْءُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے مول پر مول نہ کرے اور کوئی «نجش» (دھوکہ، فریب) نہ کرے، اور نہ کوئی شہری، کسی دیہاتی کے لیے بیچے یا مول لے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2160]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ دھوکا دہی کے لیے بھاؤ ہی چڑھائے، نیز کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2160]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں اس سے روکا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت بیچے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2161]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت بیچے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2161]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
71. بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَلَقِّي الرُّكْبَانِ:
باب: پہلے سے آگے جا کر قافلے والوں سے ملنے کی ممانعت اور یہ بیع رد کر دی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 2162
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّلَقِّي، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (تجارتی قافلوں سے) آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا ہے اور بستی والوں کو باہر والوں کا مال بیچنے سے بھی منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2162]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(تجارتی قافلوں سے) آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا اور اس سے بھی (منع فرمایا) کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مالِ تجارت بیچے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2162]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2163
حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" مَا مَعْنَى قَوْلِهِ: لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ؟ فَقَالَ: لَا يَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا.
مجھ سے عیاش بن عبدالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب کیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے؟ تو انہوں نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2163]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے خرید و فروخت نہ کرے۔“ اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: شہری، کسی دیہاتی کا دلال نہ بنے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2163]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2164
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَنِ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً فَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا، قَالَ:" وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہ ہم سے تیمی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو کوئی دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدے (وہ بکری پھیر دے) اور اس کے ساتھ ایک صاع دیدے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2164]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جس کسی نے دودھ بستہ جانور خریدا (اگر اسے واپس کرنا چاہے تو) وہ اس کے ساتھ ایک صاع (کھجور) واپس کرے، نیز انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (تجارتی قافلوں سے) آگے بڑھ کر ملنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2164]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2165
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا تَلَقَّوْا السِّلَعَ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا إِلَى السُّوقِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور جو مال باہر سے آ رہا ہو اس سے آگے جا کر نہ ملے جب تک وہ بازار میں نہ آئے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2165]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایک دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ باہر جا کر قافلے سے سامان ہی خریدے حتیٰ کہ اسے بازار میں لایا جائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2165]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
72. بَابُ مُنْتَهَى التَّلَقِّي:
باب: قافلے سے کتنی دور آگے جا کر ملنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2166
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا نَتَلَقَّى الرُّكْبَانَ فَنَشْتَرِي مِنْهُمُ الطَّعَامَ،" فَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى يُبْلَغَ بِهِ سُوقُ الطَّعَامِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: هَذَا فِي أَعْلَى السُّوقِ، يُبَيِّنُهُ حَدِيثُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم آگے قافلوں کے پاس خود ہی پہنچ جایا کرتے تھے اور (شہر میں پہنچنے سے پہلے ہی) ان سے غلہ خرید لیا کرتے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ ہم اس مال کو اسی جگہ بیچیں جب تک اناج کے بازار میں نہ لائیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ ملنا بازار کے بلند کنارے پر تھا۔ (جدھر سے سوداگر آیا کرتے تھے) اور یہ بات عبیداللہ کی حدیث سے نکلتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2166]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم باہر سے آنے والے قافلوں کو آگے جا کر ملتے اور ان سے غلہ خریدتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”اس غلے کو فروخت کرنے سے منع فرما دیا تاآنکہ اسے منڈی میں پہنچا دیا جائے“۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ ان کا قافلے والوں سے ملنا بازار کے اعلیٰ کنارے میں ہوتا تھا، جیسا کہ حضرت عبیداللہ رحمہ اللہ کی حدیث سے اس کی وضاحت ہوتی ہے (اور وہ حدیث آگے مذکور ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2166]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2167
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ فِي أَعْلَى السُّوقِ فَيَبِيعُونَهُ فِي مَكَانِهِ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگ بازار کی بلند جانب جا کر غلہ خریدتے اور وہیں بیچنے لگتے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ غلہ وہاں نہ بیچیں جب تک اس کو اٹھوا کر دوسری جگہ نہ لے جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2167]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ لوگ بازار کے بلند کنارے میں غلہ خریدتے اور اسی جگہ فروخت کر دیتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسی جگہ فروخت کرنے سے منع فرما دیا: ”حتیٰ کہ اسے وہاں سے نقل کر لیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2167]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
73. بَابُ إِذَا اشْتَرَطَ شُرُوطًا فِي الْبَيْعِ لاَ تَحِلُّ:
باب: اگر کسی نے بیع میں ناجائز شرطیں لگائیں (تو اس کا کیا حکم ہے)۔
حدیث نمبر: 2168
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ وَقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقُلْتُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ وَيَكُونَ وَلَاؤُكِ لِي، فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُمْ: فَأَبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ مِنْ عِنْدِهِمْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ عَرَضْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: خُذِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلَاءَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، فَفَعَلَتْ عَائِشَةُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ،" وَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ عروہ نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا (جو اس وقت تک باندی تھیں) آئیں اور کہنے لگیں کہ میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ چاندی پر کتابت کر لی ہے۔ شرط یہ ہوئی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ چاندی انہیں دیا کروں۔ اب آپ بھی میری کچھ مدد کیجئے۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ اگر تمہارے مالک یہ پسند کریں کہ یک مشت ان کا سب روپیہ میں ان کے لیے (ابھی) مہیا کر دوں اور تمہارا ترکہ میرے لیے ہو تو میں ایسا بھی کر سکتی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی تجویز ان کے سامنے رکھی۔ لیکن انہوں نے اس سے انکار کیا، پھر بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے یہاں واپس آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں) بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تو آپ کی صورت ان کے سامنے رکھی تھی مگر وہ نہیں مانتے بلکہ کہتے ہیں کہ ترکہ تو ہمارا ہی رہے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کو حقیقت حال سے خبر کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بریرہ کو تم لے لو اور انہیں ترکہ کی شرط لگانے دو۔ ترکہ تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر لوگوں کے مجمع میں تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا، امابعد! کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ (خرید و فروخت میں) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کتاب اللہ میں کوئی اصل نہیں ہے۔ جو کوئی شرط ایسی لگائی جائے جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہو گی۔ خواہ ایسی سو شرطیں کوئی کیوں نہ لگائے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر مقدم ہے اور اللہ کی شرط ہی بہت مضبوط ہے اور ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2168]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے پاس حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا کہ میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ چاندی کے بدلے اس شرط پر مکاتبت کر لی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ چاندی دوں گی، لہٰذا آپ میری مدد کریں۔ میں نے کہا: اگر تیرے مالک اس بات کو پسند کریں کہ میں یہ رقم یک مشت انہیں دے دوں لیکن تیری ولا میری ہو تو میں تجھے خرید لیتی ہوں، چنانچہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور ان سے ماجرا بیان کیا تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔ جب وہ ان کے پاس سے واپس آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ وہ عرض کرنے لگیں: میں نے یہ بات ان پر پیش کی تو انہوں نے انکار کر دیا ہے مگر یہ کہ ولا ان کے لیے ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اجمالاً یہ واقعہ) سنا، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے متعلق (تفصیل سے) آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے خرید لو اور ان کی شرط بھی مان لو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ولا تو آزاد کرنے والے کا حق ہوتا ہے۔“ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خرید لیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطاب فرمانے کے لیے) لوگوں میں کھڑے ہوئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”اما بعد! لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں؟ خبردار! جو شرط اللہ کی کتاب کے مطابق نہیں وہ باطل ہے اگرچہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اللہ کا فیصلہ برحق ہے اور اس کی شرط ہی قابلِ وثوق ہے۔ ولا صرف اس شخص کے لیے ہے جو آزاد کر دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2168]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً فَتُعْتِقَهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ،" فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاہا کہ ایک باندی کو خرید کر آزاد کر دیں، لیکن ان کے مالکوں نے کہا کہ ہم انہیں اس شرط پر آپ کو بیچ سکتے ہیں کہ ان کی ولاء ہمارے ساتھ رہے۔ اس کا ذکر جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شرط کی وجہ سے تم قطعاً نہ رکو۔ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2169]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خرید کر اسے آزاد کرنے کا ارادہ کیا لیکن اس کے مالکوں نے کہا: ہم اس شرط پر یہ لونڈی آپ کو فروخت کرتے ہیں کہ اس کی ولا ہمارے لیے ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ شرط تمھیں خریدنے سے منع نہ کرے کیونکہ ولا کا حق دار وہ ہوتا ہے جو اسے آزاد کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2169]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة