🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. بَابُ بَيْعِ الثَّمَرِ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ:
باب: درخت پر پھل، سونے اور چاندی کے بدلے بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2189
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ، وَلَا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْهُ إِلَّا بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں عطاء اور ابوزبیر نے اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پکنے سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے اور یہ کہ اس میں سے ذرہ برابر بھی درہم و دینا کے سوا کسی اور چیز (سوکھے پھل) کے بدلے نہ بیچی جائے البتہ عریہ کی اجازت دی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2189]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کی فروخت سے منع فرمایا ہے تاوقتیکہ وہ پک جائے، اور ان کی کوئی قسم درہم و دینار کے علاوہ کسی اور چیز کے عوض فروخت نہ کی جائے سوائے عرایا کے (ان کو پھلوں کے عوض بھی فروخت کیا جاسکتا ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2189]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2190
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا، وَسَأَلَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الرَّبِيعِ، أَحَدَّثَكَ دَاوُدُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا، ان سے عبیداللہ بن ربیع نے پوچھا کہ کیا آپ سے داؤد نے سفیان سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق یا اس سے کم میں بیع عریہ کی اجازت دے دی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں! [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2190]
عبید اللہ بن ربیع نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ سے داود نے سفیان سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعِ عرایا کی اجازت دی ہے بشرط یہ کہ وہ پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم ہوں؟ انہوں (امام مالک رحمہ اللہ) نے کہا: ہاں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2190]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2191
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ بُشَيْرًا، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا"، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَبِيعُهَا أَهْلُهَا بِخَرْصِهَا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا، قَالَ: هُوَ سَوَاءٌ؟ قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِيَحْيَى: وَأَنَا غُلَامٌ إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا، فَقَالَ: وَمَا يُدْرِي أَهْلَ مَكَّةَ؟ قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَرْوُونَهُ عَنْ جَابِرٍ، فَسَكَتَ، قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ جَابِرًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: وَلَيْسَ فِيهِ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ؟ قَالَ: لَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، البتہ عریہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے کہ عریہ والے اس کے بدل تازہ کھجور کھائیں۔ سفیان نے دوسری مرتبہ یہ روایت بیان کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دے دی تھی۔ کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے، کھجور ہی کے بدلے میں۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا، اس وقت میں ابھی کم عمر تھا کہ مکہ کے لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی ہے تو انہوں نے پوچھا کہ اہل مکہ کو یہ کس طرح معلوم ہوا؟ میں نے کہا کہ وہ لوگ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ سفیان نے کہا کہ میری مراد اس سے یہ تھی کہ جابر رضی اللہ عنہ مدینہ والے ہیں۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حدیث میں یہ ممانعت نہیں ہے کہ پھلوں کو بیچنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا جب تک ان کی پختگی نہ کھل جائے انہوں نے کہا کہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2191]
حضرت سہیل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجور کے عوض درخت پر لگی ہوئی تازہ کھجور کی بیع سے منع فرمایا، البتہ بیع عریہ کی آپ نے رخصت دی کہ اسے اندازہ کر کے فروخت کیا جا سکتا ہے تاکہ عریہ والے تازہ کھجور کھائیں۔ (راوی حدیث) حضرت سفیان رحمہ اللہ نے کبھی اس حدیث کو بایں الفاظ بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی کہ اندازہ کر کے اسے فروخت کیا جا سکتا ہے تاکہ اس کے مالک خود انہیں رطب کی شکل میں کھاتے رہیں۔ ان دونوں روایات کا مفہوم ایک ہی ہے۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: میں نے (اپنے شیخ) یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے عرض کیا، حالانکہ میں اس وقت کم سن بچہ تھا کہ اہل مکہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اجازت دی۔ انہوں نے جواب دیا کہ اہل مکہ کو یہ کس طرح معلوم ہوا؟ (کیونکہ وہ تاجر پیشہ لوگ تھے، باغبانی کا پیشہ نہیں کرتے تھے۔) میں نے عرض کیا: وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے تو وہ خاموش ہو گئے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرا مقصد یہ تھا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ تو اہل مدینہ سے ہیں۔ سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا اس حدیث میں یہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پہلے انہیں فروخت کرنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2191]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. بَابُ تَفْسِيرِ الْعَرَايَا:
باب: عریہ کی تفسیر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2192
وَقَالَ مَالِكٌ: الْعَرِيَّةُ، أَنْ يُعْرِيَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ النَّخْلَةَ، ثُمَّ يَتَأَذَّى بِدُخُولِهِ عَلَيْهِ، فَرُخِّصَ لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَهَا مِنْهُ بِتَمْرٍ، وَقَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: الْعَرِيَّةُ لَا تَكُونُ إِلَّا بِالْكَيْلِ مِنَ التَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ، لَا يَكُونُ بِالْجِزَافِ، وَمِمَّا يُقَوِّيهِ قَوْلُ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: بِالْأَوْسُقِ الْمُوَسَّقَةِ، وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَتِ الْعَرَايَا أَنْ يُعْرِيَ الرَّجُلُ فِي مَالِهِ النَّخْلَةَ وَالنَّخْلَتَيْنِ، وَقَالَ يَزِيدُ: عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، الْعَرَايَا نَخْلٌ كَانَتْ تُوهَبُ لِلْمَسَاكِينِ، فَلَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَنْتَظِرُوا، بِهَا رُخِّصَ لَهُمْ أَنْ يَبِيعُوهَا بِمَا شَاءُوا مِنَ التَّمْرِ.
‏‏‏‏ امام مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ عریہ یہ ہے کہ کوئی شخص (کسی باغ کا مالک اپنے باغ میں) دوسرے شخص کو کھجور کا درخت (ہبہ کے طور پر) دیدے، پھر اس شخص کا باغ میں آنا اچھا نہ معلوم ہو، تو اس صورت میں وہ شخص ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں اپنا درخت (جسے وہ ہبہ کر چکا ہے) خرید لے اس کی اس کے لیے رخصت دی گئی ہے اور ابن ادریس (امام شافعی رحمہ اللہ) نے کہا کہ عریہ جائز نہیں ہوتا مگر (پانچ وسق سے کم میں) سوکھی کھجور ناپ کر ہاتھوں ہاتھ دیدے یہ نہیں کہ دونوں طرف اندازہ ہو۔ اور اس کی تائید سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی ہوتی ہے کہ وسق سے ناپ کر کھجور دی جائے۔ ابن اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں نافع سے بیان کیا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ عریہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ میں کھجور کے ایک دو درخت کسی کو عاریتاً دیدے اور یزید نے سفیان بن حسین سے بیان کی کہ عریہ کھجور کے اس درخت کو کہتے ہیں جو مسکینوں کو للہ دے دیا جائے، لیکن وہ کھجور کے پکنے کا انتظار نہیں کر سکتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دی کہ جس قدر سوکھی کھجور کے بدل چاہیں اور جس کے ہاتھ چاہیں بیچ سکتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2192]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2192
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلًا"، قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: وَالْعَرَايَا نَخَلَاتٌ مَعْلُومَاتٌ تَأْتِيهَا فَتَشْتَرِيهَا.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی کہ وہ اندازے سے بیچی جا سکتی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ عرایا کچھ معین درخت جن کا میوہ تو اترے ہوئے میوے کے بدل خریدے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2192]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْعَرَايَا» عرایا کے متعلق اجازت دی کہ انہیں اندازے سے ناپ کر فروخت کیا جائے۔ حضرت موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «الْعَرَايَا» عرایا چند معین کھجوریں ہیں جن کا پھل اتری ہوئی کھجوروں کے عوض خریدا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2192]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. بَابُ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا:
باب: پھلوں کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے ان کو بیچنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2193
وَقَالَ اللَّيْثُ: عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ، قَالَ الْمُبْتَاعُ: إِنَّهُ أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ، أَصَابَهُ مُرَاضٌ، أَصَابَهُ قُشَامٌ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ، فَإِمَّا لَا فَلَا تَتَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُ الثَّمَرِ كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ"، وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ يَكُنْ يَبِيعُ ثِمَارَ أَرْضِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا فَيَتَبَيَّنَ الْأَصْفَرُ مِنَ الْأَحْمَرِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا حَكَّامٌ، حَدَّثَنَا عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ سَهْلٍ، عَنْ زَيْدٍ.
لیث بن سعد نے ابوزناد عبداللہ بن ذکوان سے نقل کیا کہ عروہ بن زبیر، بنوحارثہ کے سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت (درختوں پر پکنے سے پہلے) کرتے تھے۔ پھر جب پھل توڑنے کا وقت آتا، اور مالک (قیمت کا) تقاضا کرنے آتے تو خریدار یہ عذر کرنے لگتے کہ پہلے ہی اس کا گابھا خراب اور کالا ہو گیا، اس کو بیماری ہو گئی، یہ تو ٹھٹھر گیا پھل بہت ہی کم آئے۔ اسی طرح مختلف آفتوں کو بیان کر کے مالکوں سے جھگڑتے (تاکہ قیمت میں کمی کرا لیں) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے مقدمات بکثرت آنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اس طرح جھگڑے ختم نہیں ہو سکتے تو تم لوگ بھی میوہ کے پکنے سے پہلے ان کو نہ بیچا کرو۔ گویا مقدمات کی کثرت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بطور مشورہ فرمایا تھا۔ خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ کے پھل اس وقت تک نہیں بیچتے جب تک ثریا نہ طلوع ہو جاتا اور زردی اور سرخی ظاہر نہ ہو جاتی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ اس کی روایت علی بن بحر نے بھی کی ہے کہ ہم سے حکام بن سلم نے بیان کیا، ان سے عنبسہ نے بیان کیا، ان سے زکریا نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے سہل بن سعد نے اور ان سے زید بن ثابت نے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2193]
حضرت سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو بنو حارثہ سے تھے، وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت اس طرح کرتے تھے کہ جب پھل کاٹنے کا وقت آتا اور ایک دوسرے سے تقاضے کا وقت آتا تو خریدار کہتا: پھل «الدَّمَانُ» دمان (پھپھوندی زدہ) ہو گیا، اسے بیماری لگ گئی، اسے «القُشَامُ» قشام نے آلیا۔ یہ سب پھلوں کی بیماریاں ہیں جن کا وہ ذکر کر کے آپس میں جھگڑتے تھے۔ جب اس کے متعلق بکثرت جھگڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسی خرید و فروخت نہ کیا کرو تاآنکہ وہ انتفاع کے قابل ہو جائیں اور ان میں کھانے کی صلاحیت ظاہر ہو جائے۔ گویا کثرتِ تنازعات کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورے کے طور پر یہ ارشاد فرمایا۔ خارجہ بن زید بن ثابت نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنی زمین کے پھل نہیں بیچتے تھے حتیٰ کہ ثریا ستارہ طلوع ہو جاتا اور زرد پھل سرخ پھل سے نمایاں ہو جاتا (زردی سرخی سے ظاہر ہو جاتی)۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: اس روایت کو علی بن بحر نے بیان کیا، وہ حکام سے، وہ عنبسہ سے، وہ زکریا سے، وہ ابوزناد سے، وہ حضرت عروہ سے، انہوں نے حضرت سہل سے اور انہوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے (روایت کرتے ہیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2193]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2194
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2194]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے انھیں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے فروخت کرنے والے اور خریدار دونوں کو منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2194]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْتُبَاعَ ثَمَرَةُ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: يَعْنِي حَتَّى تَحْمَرَّ.
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے درخت پر کھجور کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ( «حتى تزهو‏.‏» سے) مراد یہ ہے کہ جب تک وہ پک کر سرخ نہ ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2195]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے کھجور کا پھل فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری) کہتے ہیں کہ اس سے مراد ان کا سرخ ہونا ہے، یعنی سرخ ہونے سے قبل انہیں فروخت نہ کیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2195]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2196
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَا، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تُشَقِّحَ"، فَقِيلَ: وَمَا تُشَقِّحُ؟ قَالَ: تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سلیم بن حیان نے، ان سے سعید بن مینا نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کا «تشقح‏.‏» سے پہلے بیچنے سے منع کیا تھا۔ پوچھا گیا کہ «تشقح‏.‏» کسے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مائل بہ زردی یا مائل بہ سرخی ہونے کو کہتے ہیں کہ اسے کھایا جا سکے (پھل کا پختہ ہونا مراد ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2196]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا جب تک وہ «مُشَقِّحٌ» نہ ہو جائیں۔ عرض کیا گیا: «مُشَقِّحٌ» کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جب تک وہ سرخ یا زرد اور کھانے کے قابل نہ ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2196]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. بَابُ بَيْعِ النَّخْلِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا:
باب: جب تک کھجور پختہ نہ ہو اس کا بیچنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2197
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، وَعَنِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ"، قِيلَ: وَمَا يَزْهُو؟ قَالَ: يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ.
مجھ سے علی بن ہشیم نے بیان کیا کہ ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں حمید نے خبر دی اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے اور کھجور کے باغ کو «زهو» سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ «زهو» کسے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا مائل بہ سرخی یا مائل بہ زردی ہونے کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2197]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے پھل فروخت کرنے سے منع فرمایا تاآنکہ وہ نفع کے قابل ہو جائے اور کھجور بیچنے سے منع فرمایا حتیٰ کہ وہ «زَهْوٌ» ہو جائے۔ عرض کیا گیا: «زَهْوٌ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: سرخ ہو جائے یا زرد ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2197]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں