🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. بَابُ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ نَسِيئَةً:
باب: چاندی کو سونے کے بدلے ادھار بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2180
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَ عَنِ الصَّرْفِ؟ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ: هَذَا خَيْرٌ مِنِّي، فَكِلَاهُمَا يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ دَيْنًا".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حبیب بن ابی ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوالمنہال سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو ان دونوں حضرات نے ایک دوسرے کے متعلق فرمایا کہ یہ مجھ سے بہتر ہیں۔ آخر دونوں حضرات نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے بدلے میں ادھار کی صورت میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2180]
حضرت ابو منہال سے روایت ہے انہوں نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے متعلق دریافت کیا، تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کے متعلق کہا کہ یہ مجھ سے بہتر ہے۔ پھر دونوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے عوض ادھار فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2180]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2181
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَ عَنِ الصَّرْفِ؟ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ: هَذَا خَيْرٌ مِنِّي، فَكِلَاهُمَا يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ دَيْنًا".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حبیب بن ابی ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوالمنہال سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو ان دونوں حضرات نے ایک دوسرے کے متعلق فرمایا کہ یہ مجھ سے بہتر ہیں۔ آخر دونوں حضرات نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے بدلے میں ادھار کی صورت میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2181]
حضرت ابو منہال سے روایت ہے، انہوں نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے «بَيْعِ الصَّرْفِ» کے متعلق دریافت کیا تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کے متعلق کہا کہ یہ مجھ سے بہتر ہے۔ پھر دونوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے عوض ادھار فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2181]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. بَابُ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ يَدًا بِيَدٍ:
باب: سونا چاندی کے بدلے نقد، ہاتھوں ہاتھ بیچنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2182
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا، وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا".
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد بن عوام نے، کہا کہ ہم کو یحییٰ بن ابی اسحٰق نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور ان سے ان کے باپ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی، چاندی کے بدلے میں اور سونا سونے کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ مگر یہ کہ برابر برابر ہو۔ البتہ سونا چاندی کے بدلے میں جس طرح چاہیں خریدیں۔ اسی طرح چاندی سونے کے بدلے جس طرح چاہیں خریدیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2182]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کو چاندی کے عوض اور سونے کو سونے کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا مگر برابر برابر بیچنا جائز ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونے کو چاندی کے بدلے جس طرح چاہیں خریدیں، اسی طرح چاندی کو سونے کے عوض جس طرح چاہیں خریدیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2182]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. بَابُ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ، وَهْيَ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْكَرْمِ وَبَيْعُ الْعَرَايَا:
باب: بیع مزابنہ کے بیان میں اور یہ خشک کھجور کی بیع درخت پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے اور خشک انگور کی بیع تازہ انگور کے بدلے میں ہوتی ہے اور بیع عرایا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2183
قَالَ أَنَسٌ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ.
‏‏‏‏ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2183]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2183
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَلَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا اور ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھل (درخت پر کا) اس وقت تک نہ بیچو جب تک اس کا پکا ہونا نہ کھل جائے۔ اور درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے میں نہ بیچو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2183]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تک پھلوں کو فروخت نہ کیا کرو جب تک ان میں پکنے کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے، نیز فرمایا: (درخت کی) تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض مت فروخت کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2183]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2184
قَالَ سَالِمٌ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِهِ.
سالم نے بیان کیا کہ مجھے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، اور انہیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عریہ کی تر یا خشک کھجور کے بدلہ میں اجازت دے دی تھی لیکن اس کے سوا کسی صورت کی اجازت نہیں دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2184]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کو تازہ یا خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے کی اجازت «بَيْعُ الْعَرَايَا» بیع عرایا کی صورت میں دی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور صورت میں اجازت نہیں دی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2184]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2185
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ، اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر اور درخت کے انگور کو خشک انگور کے بدلے میں ناپ کر بیچنے کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2185]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع «مزابنہ» سے منع فرمایا ہے اور «مزابنہ» تازہ کھجور کو خشک کے عوض ماپ کر خریدنا ہے اور انگور کو کشمش کے بدلے بھرتی کرکے فروخت کرنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2185]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2186
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں داؤد بن حصین نے، انہیں ابن ابی احمد کے غلام ابوسفیان نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی کھجور، توڑی ہوئی کھجور کے بدلے میں خریدنے کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2186]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةِ» مزابنہ اور «الْمُحَاقَلَةِ» محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ مزابنہ خوشوں میں لگی ہوئی تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض خریدنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2186]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2187
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاویہ نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2187]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُحَاقَلَةِ» محاقلہ اور «الْمُزَابَنَةِ» مزابنہ (دونوں) سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2187]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2188
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے برابر میوے کے بدل بیچ ڈالے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2188]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «عَرِيَّة» عریہ کے مالک کو اجازت دی کہ وہ کھجور کو اندازے سے فروخت کر سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2188]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں