🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. بَابُ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ:
باب: کھجور کو کھجور کے بدلہ میں بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2170
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے مالک بن اوس نے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گیہوں کو گیہوں کے بدلہ میں بیچنا سود ہے، لیکن یہ کہ سودا ہاتھوں ہاتھ ہو۔ جَو کو جَو کے بدلہ میں بیچنا سود ہے، لیکن یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔ اور کھجور کو کھجور کے بدلہ میں بیچنا سود ہے لیکن یہ کہ سودا ہاتھوں ہاتھ، نقدا نقد ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2170]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گندم کے بدلے گندم فروخت کرنا سود ہے مگر یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔ جو کے عوض جو بیچنا سود ہے مگر یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو، اور کھجور کے عوض کھجور فروخت کرنا سود ہے مگر یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2170]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. بَابُ بَيْعِ الزَّبِيبِ بِالزَّبِيبِ وَالطَّعَامِ بِالطَّعَامِ:
باب: منقی کو منقی کے بدل اور اناج کو اناج کے بدل بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2171
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْكَرْمِ كَيْلًا".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور خشک کھجور کے بدلہ ماپ کر کے بیچی جائے۔ اسی طرح بیل پر لگے ہوئے انگور کو منقیٰ کے بدل بیچنا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2171]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةِ» مزابنہ سے منع فرمایا ہے، مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی ہوئی تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض ماپ کر فروخت کیا جائے، اسی طرح (بیل پر لگے) انگوروں کو کشمش کے عوض ماپ کر فروخت کیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2171]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2172
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ"، قَالَ: وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَ بِكَيْلٍ إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ مزابنہ یہ ہے کہ کوئی شخص درخت پر کی کھجور سوکھی کھجور کے بدل ماپ تول کر بیچے۔ اور خریدار کہے اگر درخت کا پھل اس سوکھے پھل سے زیادہ نکلے تو وہ اس کا ہے اور کم نکلے تو وہ نقصان بھر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2172]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ (تازہ) پھل (خشک پھل کے عوض) اس طرح ناپ کر فروخت کرے کہ اگر زیادہ ہوا تو میرا اور اگر کم ہوا تو میں خود اس کا ذمہ دار ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2172]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2173
قَالَ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ مجھ سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عرایا کی اجازت دے دی تھی جو اندازے ہی سے بیع کی ایک صورت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2173]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں اندازے سے کھجور لینے دینے کی اجازت دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2173]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. بَابُ بَيْعِ الشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ:
باب: جَو کے بدلے جَو کی بیع کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2174
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي، فَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ، وَعُمَرُ يَسْمَعُ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، اور انہیں مالک بن اوس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہیں سو اشرفیاں بدلنی تھیں۔ (انہوں نے بیان کیا کہ) پھر مجھے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما نے بلایا۔ اور ہم نے (اپنے معاملہ کی) بات چیت کی۔ اور ان سے میرا معاملہ طے ہو گیا۔ وہ سونے (اشرفیوں) کو اپنے ہاتھ میں لے کر الٹنے پلٹنے لگے اور کہنے لگے کہ ذرا میرے خزانچی کو غابہ سے آ لینے دو۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی ہماری باتیں سن رہے تھے، آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب تک تم طلحہ سے روپیہ لے نہ لو، ان سے جدا نہ ہونا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا سونے کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ گیہوں، گیہوں کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ جَو، جَو کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے اور کھجور، کھجور کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2174]
حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے سو دینار کے عوض ریزگاری کی ضرورت پیش آئی تو مجھے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے بلایا، ہم آپس میں نرخ کے متعلق گفتگو کرنے لگے، بالآخر انہوں نے مجھ سے بیع صرف (یعنی درہم دینے) کا معاملہ طے کر لیا، انہوں نے سونا (یعنی دینار) لیے اور ہاتھوں میں لے کر انہیں الٹ پلٹ کر دیکھنا شروع کر دیا، پھر کہا: اس قدر انتظار کرو کہ میرا خزانچی مقامِ غابہ سے آ جائے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی یہ گفتگو سن رہے تھے، انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب تک درہم وصول نہ کر لو اس سے جدا نہ ہونا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سونا سونے کے عوض فروخت کرنا سود ہے جب تک دست بدست نہ ہو، اور گندم کو گندم کے عوض فروخت کرنا سود ہے، مگر نقد بنقد سودا کرنا جائز ہے، اسی طرح جو کی بیع جو کے ساتھ سود ہو گی جب تک دست بدست نہ ہو، اور کھجور کی بیع بھی کھجور کے ساتھ سود ہے جب تک دست بدست نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2174]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. بَابُ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ:
باب: سونے کو سونے کے بدلہ میں بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2175
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْتُمْ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے یحییٰ بن ابی اسحاق نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک (دونوں طرف سے) برابر برابر (کی لین دین) نہ ہو۔ اسی طرح چاندی، چاندی کے بدلہ میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک (دونوں طرف سے) برابر برابر نہ ہو۔ البتہ سونا، چاندی کے بدل اور چاندی سونے کے بدل میں جس طرح چاہو بیچو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2175]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے کے عوض فروخت نہ کرو مگر برابر برابر۔ چاندی کو چاندی کے عوض فروخت نہ کرو مگر برابر برابر۔ اور سونے کو چاندی کے عوض، اسی طرح چاندی کو سونے کے عوض جیسے چاہو فروخت کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2175]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. بَابُ بَيْعِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ:
باب: چاندی کو چاندی کے بدلے میں بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2176
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ حَدَّثَهُ مِثْلَ ذَلِكَ حَدِيثًا، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، مَا هَذَا الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فِي الصَّرْفِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلًا بِمِثْلٍ".
ہم سے عبیداللہ بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری کے بھتیجے نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اسی طرح ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے بیان کی (جیسے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ سے گزری) پھر ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا، اے ابوسعید! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے یہ کون سی حدیث بیان کرتے ہیں؟ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حدیث بیع صرف (یعنی روپیہ اشرفیاں بدلنے یا تڑوانے) سے متعلق ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا تھا کہ سونا سونے کے بدلے میں برابر برابر ہی بیچا جا سکتا ہے اور چاندی، چاندی کے بدلہ میں برابر برابر ہی بیچی جا سکتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2176]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس طرح کی ایک حدیث بیان کی (جس کا مضمون حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے ملتا جلتا تھا۔) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے اور فرمایا: اے ابو سعید! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کیا بیان کرتے ہیں؟ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے بیعِ صرف کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: سونا سونے کے عوض اور چاندی، چاندی کے عوض برابر برابر فروخت کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2176]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2177
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو، دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو، اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں اس وقت تک نہ بیچو جب تک دونوں طرف سے برابر برابر نہ ہو۔ دونوں طرف سے کسی کمی یا زیادتی کو روا نہ رکھو اور نہ ادھار کو نقد کے بدلے میں بیچو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2177]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے کے عوض مت فروخت کرو مگر برابر برابر، یعنی ایک دوسرے سے کم، زیادہ کرکے فروخت نہ کرو۔ اور چاندی کے عوض چاندی کو فروخت نہ کرو مگر برابر برابر۔ یعنی ایک دوسرے میں کمی بیشی کرکے فروخت نہ کرو۔ اسی طرح غائب چیز کو حاضر کے عوض نہ فروخت کرو۔ یعنی ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2177]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. بَابُ بَيْعِ الدِّينَارِ بِالدِّينَارِ نَسْأً:
باب: اشرفی اشرفی کے بدلے ادھار بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2178
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ الزَّيَّاتَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَقُولُهُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: كُلَّ ذَلِكَ لَا أَقُولُ، وَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہیں ابوصالح زیات نے خبر دی، اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ دینار، دینار کے بدلے میں اور درہم، درہم کے بدلے میں (بیچا جا سکتا ہے) اس پر میں نے ان سے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا کہ آپ نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یا کتاب اللہ میں آپ نے اسے پایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی بات کا میں دعویدار نہیں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی احادیث) کو آپ لوگ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ البتہ مجھے اسامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مذکورہ صورتوں میں) سود صرف ادھار کی صورت میں ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2178]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ دینار کو دینار کے عوض اور درہم کو درہم کے عوض (برابر، برابر) فروخت کرنا جائز ہے۔ راویِ حدیث نے ان سے عرض کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کے قائل نہیں ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا کتاب اللہ میں دیکھا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ان میں سے کوئی بات بھی نہیں کہتا کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، البتہ مجھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود صرف ادھار میں ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2178]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2179
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ الزَّيَّاتَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَقُولُهُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: كُلَّ ذَلِكَ لَا أَقُولُ، وَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہیں ابوصالح زیات نے خبر دی، اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ دینار، دینار کے بدلے میں اور درہم، درہم کے بدلے میں (بیچا جا سکتا ہے) اس پر میں نے ان سے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا کہ آپ نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یا کتاب اللہ میں آپ نے اسے پایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی بات کا میں دعویدار نہیں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی احادیث) کو آپ لوگ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ البتہ مجھے اسامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مذکورہ صورتوں میں) سود صرف ادھار کی صورت میں ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2179]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ دینار کو دینار کے عوض اور درہم کو درہم کے عوض (برابر برابر) فروخت کرنا جائز ہے۔ راویِ حدیث نے ان سے عرض کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کے قائل نہیں ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا کتاب اللہ میں دیکھا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ان میں سے کوئی بات بھی نہیں کہتا کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ البتہ مجھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود صرف ادھار میں ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2179]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں