🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. بَابُ لاَ يُذَابُ شَحْمُ الْمَيْتَةِ وَلاَ يُبَاعُ وَدَكُهُ:
باب: مردار کی چربی گلانا اور اس کا بیچنا جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2223
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ فُلَانًا بَاعَ خَمْرًا، فَقَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ فُلَانًا، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَجَمَلُوهَا، فَبَاعُوهَا".
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے طاؤس نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ نے فرمایا کہ اسے اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کر دے۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ چربی ان پر حرام کی گئی تھی لیکن ان لوگوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2223]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی کہ فلاں آدمی نے شراب بیچی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فلاں کو ہلاک کرے! کیا وہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت کرے کیونکہ ان پر مردار کی چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر اس کی خرید و فروخت شروع کر دی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2223]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2224
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَاتَلَ اللَّهُ يَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ یہودیوں کو تباہ کرے، ظالموں پر چربی حرام کر دی گئی تھی، لیکن انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2224]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے! ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے فروخت کرنا شروع کر دیا اور اس کی قیمتیں کھانے لگے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ «قَاتَلَ» کے معنی لعنت کرنا ہے جیسا کہ ﴿قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ﴾ [سورة الذاريات: 10] کے معنی ہیں: جھوٹوں پر لعنت کی گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2224]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
104. بَابُ بَيْعِ التَّصَاوِيرِ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا رُوحٌ وَمَا يُكْرَهُ مِنْ ذَلِكَ:
باب: غیر جاندار چیزوں کی تصویر بیچنا اور اس میں کون سی تصویر حرام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2225
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، إِنِّي إِنْسَانٌ، إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا، فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ"، فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ كُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: سَمِعَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، مِنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ هَذَا الْوَاحِدَ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہیں عوف بن ابی حمید نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی حسن نے، کہا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اور کہا کہ اے ابوعباس! میں ان لوگوں میں سے ہوں، جن کی روزی اپنے ہاتھ کی صنعت پر موقوف ہے اور میں یہ مورتیں بناتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر فرمایا کہ میں تمہیں صرف وہی بات بتلاؤں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے بھی کوئی مورت بنائی تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک عذاب کرتا رہے گا جب تک وہ شخص اپنی مورت میں جان نہ ڈال دے اور وہ کبھی اس میں جان نہیں ڈال سکتا (یہ سن کر) اس شخص کا سانس چڑھ گیا اور چہرہ زرد پڑ گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ افسوس! اگر تم مورتیں بنانی ہی چاہتے ہو تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی جس میں جان نہیں ہے مورتیں بنا سکتے ہو۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس سے صرف یہی ایک حدیث سنی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2225]
حضرت سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ان کے ہاں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابو عباس! میں ایک ایسا انسان ہوں جس کا پیشہ صرف دستکاری ہے، میں یہ تصویریں بناتا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تجھے وہی بات کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے کوئی تصویر بنائی تو اللہ اسے عذاب دیتا رہے گا تاآنکہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ کبھی اس میں روح نہیں ڈال سکے گا۔ یہ سن کر اس شخص کا سانس رک گیا اور چہرہ فق ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: تیرا بھلا ہو! اگر تجھے تصویریں بنانے پر اصرار ہے تو درختوں یا ان چیزوں کی تصویریں بنا لیا کر جن میں روح نہیں ہے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ نے حضرت نضر بن انس رضی اللہ عنہ سے یہی ایک حدیث سنی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2225]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
105. بَابُ تَحْرِيمِ التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ:
باب: شراب کی تجارت کرنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2226
وَقَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَرَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ.
‏‏‏‏ اور جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کا بیچنا حرام فرما دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2226]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2226
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، لَمَّا نَزَلَتْ آيَاتُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ عَنْ آخِرِهَا، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" حُرِّمَتِ التِّجَارَةُ فِي الْخَمْرِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوضحی نے، ان سے مسروق نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سورۃ البقرہ کی تمام آیتیں نازل ہو چکیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ شراب کی سوداگری حرام قرار دی گئی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2226]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: شراب کی تجارت کو حرام کر دیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2226]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
106. بَابُ إِثْمِ مَنْ بَاعَ حُرًّا:
باب: آزاد شخص کو بیچنا کیسا گناہ ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2227
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ:" ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ".
مجھ سے بشر بن مرحوم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن امیہ نے، ان سے سعید بن ابی سعید نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تین طرح کے لوگ ایسے ہوں گے جن کا قیامت کے دن میں مدعی بنوں گا، ایک وہ شخص جس نے میرے نام پر عہد کیا اور وہ توڑ دیا، وہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور وہ شخص جس نے کوئی مزدور اجرت پر رکھا، اس سے پوری طرح کام لیا، لیکن اس کی مزدوری نہیں دی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2227]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: میں قیامت کے دن تین آدمیوں کا دشمن ہوں گا: ایک وہ جس نے میرا نام لے کر عہد کیا پھر بے وفائی کی، دوسرا وہ جس نے کسی آزاد کو بیچ دیا اور اس کی قیمت کھائی اور تیسرا وہ جس نے کسی مزدور سے پورا کام لیا لیکن اس کی اجرت نہ دی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2227]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
107. بَابُ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَهُودَ بِبَيْعِ أَرَضِيهِمْ حِينَ أَجْلاَهُمْ:
باب: یہودیوں کو جلا وطن کرتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انہیں اپنی زمین بیچ دینے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2228-2
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
‏‏‏‏ اس سلسلے میں مقبری کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2228-2]

108. بَابُ بَيْعِ الْعَبِيدِ وَالْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً:
باب: غلام کو غلام کے بدلے اور کسی جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2228
وَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ رَاحِلَةً بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ مَضْمُونَةٍ عَلَيْهِ، يُوفِيهَا صَاحِبَهَا بِالرَّبَذَةِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ يَكُونُ الْبَعِيرُ خَيْرًا مِنَ الْبَعِيرَيْنِ، وَاشْتَرَى رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ بَعِيرًا بِبَعِيرَيْنِ فَأَعْطَاهُ أَحَدَهُمَا، وَقَالَ: آتِيكَ بِالْآخَرِ غَدًا رَهْوًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: لَا رِبَا فِي الْحَيَوَانِ الْبَعِيرُ بِالْبَعِيرَيْنِ وَالشَّاةُ بِالشَّاتَيْنِ إِلَى أَجَلٍ، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: لَا بَأْسَ بَعِيرٌ بِبَعِيرَيْنِ نَسِيئَةً.
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اونٹ چار اونٹوں کے بدلے میں خریدا تھا۔ جن کے متعلق یہ طے ہوا تھا کہ مقام ربذہ میں وہ انہیں اسے دے دیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ کبھی ایک اونٹ، دو اونٹوں کے مقابلے میں بہتر ہوتا ہے۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے میں خریدا تھا۔ ایک تو اسے دے دیا تھا، اور دوسرے کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ کل انشاء اللہ کسی تاخیر کے بغیر تمہارے حوالے کر دوں گا۔ سعید بن مسیب نے کہا کہ جانوروں میں سود نہیں چلتا۔ ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے، اور ایک بکری دو بکریوں کے بدلے ادھار بیچی جا سکتی ہے ابن سیرین نے کہا کہ ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے ادھار بیچنے میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2228]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2228
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ فِي السَّبْيِ صَفِيَّةُ، فَصَارَتْ إِلَى دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قیدیوں میں صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ پہلے تو وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو ملیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2228]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ (غزوہ خیبر کے وقت) قیدیوں میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ وہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2228]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
109. بَابُ بَيْعِ الرَّقِيقِ:
باب: لونڈی غلام بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2229
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا فَنُحِبُّ الْأَثْمَانَ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ؟ فَقَالَ: أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ، لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہیر نے بیان کیا کہ مجھے ابن محیریز نے خبر دی اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی، کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ (ایک انصاری صحابی نے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! لڑائی میں ہم لونڈیوں کے پاس جماع کے لیے جاتے ہیں۔ ہمارا ارادہ انہیں بیچنے کا بھی ہوتا ہے۔ تو آپ عزل کر لینے کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ جس روح کی بھی پیدائش اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھ دی ہے وہ پیدا ہو کر ہی رہے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2229]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں جو لونڈیاں ملتی ہیں (ہم ان سے جماع کرتے ہیں لیکن) ان کے عوض قیمت وصول کرنا بھی پسند کرتے ہیں، ایسے حالات میں عزل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم ایسا کرتے ہو؟ تم ایسا نہ بھی کرو تو کوئی حرج نہیں، اس لیے کہ جس روح کا آنا اللہ نے لکھ دیا ہے وہ تو آ کر رہے گی (تم عزل کرو یا نہ کرو)۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2229]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں