🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
110. بَابُ بَيْعِ الْمُدَبَّرِ:
باب: مدبر کا بیچنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2230
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَبَّرَ".
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کہیل نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام بیچا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2230]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام کو فروخت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2230]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2231
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَاعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا تھا کہ مدبر غلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2231]
حضرت جابر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہونے والے غلام کو فروخت کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2231]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2232
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَاهُ،" أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ؟ قَالَ: اجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ".
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے صالح نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ نے خبر دی، انہیں زید بن خالد اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ سے غیر شادی شدہ باندی کے متعلق جو زنا کر لے سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کر لے تو اسے کوڑے لگاؤ۔ اور پھر اسے بیچ دو۔ (آخری جملہ آپ نے) تیسری یا چوتھی مرتبہ کے بعد (فرمایا تھا)۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2232]
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہما اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لونڈی کے متعلق سوال کیا گیا جو زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کوڑے لگاؤ، اگر پھر زنا کرے تو کوڑے لگاؤ۔ پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ کے بعد فرمایا: اسے فروخت کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2232]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2233
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَاهُ،" أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ؟ قَالَ: اجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ".
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے صالح نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ نے خبر دی، انہیں زید بن خالد اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ سے غیر شادی شدہ باندی کے متعلق جو زنا کر لے سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کر لے تو اسے کوڑے لگاؤ۔ اور پھر اسے بیچ دو۔ (آخری جملہ آپ نے) تیسری یا چوتھی مرتبہ کے بعد (فرمایا تھا)۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2233]
حضرت زید بن خالد اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لونڈی کے متعلق سوال کیا گیا جو زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کوڑے لگاؤ۔ اگر پھر زنا کرے تو کوڑے لگاؤ۔ پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ کے بعد فرمایا: اسے فروخت کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2233]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2234
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ، ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے لیث نے خبر دی، انہیں سعید نے، انہیں ان کے والد نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خود سنا ہے کہ جب کوئی باندی زنا کرائے اور وہ ثابت ہو جائے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے، البتہ اسے لعنت ملامت نہ کی جائے۔ پھر اگر وہ زنا کرائے تو اس پر اس مرتبہ بھی حد جاری کی جائے، لیکن کسی قسم کی لعنت ملامت نہ کی جائے۔ تیسری مرتبہ بھی اگر زنا کرے اور زنا ثابت ہو جائے تو اسے بیچ ڈالے خواہ بال کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2234]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور وہ ثابت ہو جائے تو اسے بطور حد کوڑے مارے، البتہ اسے طعن و ملامت نہ کرے۔ اگر پھر زنا کا ارتکاب کرے تو اس مرتبہ بھی بطور حد کوڑے لگائے لیکن کسی قسم کی لعنت و ملامت نہ کرے۔ پھر اگر تیسری مرتبہ زنا کرے اور اس کا زنا واضح ہو جائے تو اسے فروخت کر دے، خواہ بالوں کی ایک رسی کے عوض ہی کیوں نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2234]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
111. بَابُ هَلْ يُسَافِرُ بِالْجَارِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَسْتَبْرِئَهَا:
باب: اگر لونڈی خریدے تو استبراء رحم سے پہلے اس کو سفر میں لے جا سکتا ہے یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2235
وَلَمْ يَر الْحَسَنُ بَأْسًا أَنْ يُقَبِّلَهَا أَوْ يُبَاشِرَهَا، وَقَال ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: إِذَا وُهِبَتِ الْوَلِيدَةُ الَّتِي تُوطَأُ أَوْ بِيعَتْ أَوْ عَتَقَتْ، فَلْيُسْتَبْرَأْ رَحِمُهَا بِحَيْضَةٍ وَلَا تُسْتَبْرَأُ الْعَذْرَاءُ، وَقَالَ عَطَاءٌ: لَا بَأْسَ أَنْ يُصِيبَ مِنْ جَارِيَتِهِ الْحَامِلِ مَا دُونَ الْفَرْجِ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِلا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ سورة المؤمنون آية 6.
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایسی باندی کا (اس کا مالک) بوسہ لے لے یا اپنے جسم سے لگائے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب ایسی باندی جس سے وطی کی جا چکی ہے، ہبہ کی جائے یا بیچی جائے یا آزاد کی جائے تو ایک حیض تک اس کا استبراء رحم کرنا چاہئے۔ اور کنواری کے لیے استبراء رحم کی ضرورت نہیں ہے۔ عطاء نے کہا کہ اپنی حاملہ باندی سے شرمگاہ کے سوا باقی جسم سے فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مومنون میں فرمایا «إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم‏» مگر اپنی بیویوں سے یا باندیوں سے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2235]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2235
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:"قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ، ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ، فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ".
ہم سے عبدالغفار بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے حسن کی تعریف کی گئی۔ ان کا شوہر قتل ہو گیا تھا۔ وہ خود ابھی دلہن تھیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے پسند کر لیا۔ پھر روانگی ہوئی۔ جب آپ سد الروحاء پہنچے تو پڑاؤ ہوا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں ان کے ساتھ خلوت کی۔ پھر ایک چھوٹے دستر خوان پر حیس تیار کر کے رکھوایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے قریب کے لوگوں کو ولیمہ کی خبر کر دو۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا یہی ولیمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر جب ہم مدینہ کی طرف چلے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباء سے صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے پردہ کرایا۔ اور اپنے اونٹ کو پاس بٹھا کر اپنا ٹخنہ بچھا دیا۔ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹخنے پر رکھ کر سوار ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2235]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے۔ جب اللہ تعالیٰ نے خیبر کے قلعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی بن اخطب کا حسن و جمال ذکر کیا گیا۔ ان کا شوہر قتل ہو چکا تھا اور وہ خود دلہن بنی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خیبر سے ساتھ لے کر چلے۔ جب سدروحاء پر پہنچے تو سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خلوت اختیار کی۔ پھر ایک چھوٹے سے دستر خوان پر حلوہ تیار کر کے رکھ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ارد گرد لوگوں میں اعلان کرو (کہ وہ آکر اسے کھائیں)۔ بس یہی سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوتِ ولیمہ تھی۔ پھر ہم مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اپنے پیچھے اپنی عباء سے سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے جگہ ہموار کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے پاس بیٹھ کر اپنا گھٹنا رکھ دیا تو سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنا پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھا اور اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2235]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
112. بَابُ بَيْعِ الْمَيْتَةِ وَالأَصْنَامِ:
باب: مردار اور بتوں کا بیچنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2236
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ:" إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ؟ فَإِنَّهَا يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، فَقَالَ: لَا هُوَ حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ، قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، كَتَبَ إِلَيَّ عَطَاءٌ، سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فتح مکہ کے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آپ کا قیام ابھی مکہ ہی میں تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کا بیچنا حرام قرار دے دیا ہے۔ اس پر پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ اسے ہم کشتیوں پر ملتے ہیں۔ کھالوں پر اس سے تیل کا کام لیتے ہیں اور لوگ اس سے اپنے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں وہ حرام ہے۔ اسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ یہودیوں کو برباد کرے اللہ تعالیٰ نے جب چربی ان پر حرام کی تو ان لوگوں نے پگھلا کر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔ ابوعاصم نے کہا کہ ہم سے عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا، انہیں عطاء نے لکھا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2236]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں عام الفتح کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام کر دیا ہے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مردار کی چربی کا کیا حکم ہے؟ لوگ اسے کشتیوں پر ملتے ہیں، کھالوں پر لگاتے ہیں اور اپنے گھروں میں اس سے چراغ بھی جلا لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ بھی حرام ہے۔ پھر اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے! جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا اور اس کی قیمت کھائی۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ نے یزید کو لکھا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2236]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
113. بَابُ ثَمَنِ الْكَلْبِ:
باب: کتے کی قیمت کے بارے میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2237
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابی بکر بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی اجرت اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2237]
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، فاحشہ عورت کی کمائی اور کاہن کی نذر و نیاز سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2237]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2238
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبِي اشْتَرَى حَجَّامًا، فَأَمَرَ بِمَحَاجِمِهِ فَكُسِرَتْ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ، وَكَسْبِ الْأَمَةِ، وَلَعَنَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عون بن ابی حجیفہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ ایک پچھنا لگانے والے (غلام) کو خرید رہے ہیں۔ اس پر میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی قیمت، کتے کی قیمت، باندی کی (ناجائز) کمائی سے منع فرمایا تھا۔ اور گودنے والیوں اور گدوانے والیوں، سود لینے والوں اور دینے والوں پر لعنت کی تھی اور تصویر بنانے والے پر بھی لعنت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2238]
عون بن ابی جحیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والدِ گرامی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سینگی لگانے والا ایک غلام خریدا، تو اس کے آلات توڑنے کا حکم دیا۔ میں نے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون اور کتے کی قیمت اور لونڈی (زانیہ) کی کمائی سے منع فرمایا ہے اور جلد میں سوئی کے ساتھ سرمہ بھرنے والی اور بھروانے والی، سود کھانے اور کھلانے والے نیز تصویر بنانے والے سب پر لعنت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2238]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں