🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:
باب: ظلم، قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2447
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز ماجشون نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبر دی، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2447]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظلم قیامت کے دن کئی طرح کی تاریکیاں ثابت ہوگا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2447]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ الاِتِّقَاءِ وَالْحَذَرِ مِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ:
باب: مظلوم کی بددعا سے بچنا اور ڈرتے رہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2448
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ:" اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ".
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن اسحاق مکی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ صیفی نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب (عامل بنا کر) یمن بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس (دعا) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2448]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن (کاگورنر بنا کر) بھیجا تو ان سے فرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچتے رہنا کیونکہ اس کی بددعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2448]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ عِنْدَ الرَّجُلِ فَحَلَّلَهَا لَهُ، هَلْ يُبَيِّنُ مَظْلَمَتَهُ:
باب: اگر کسی شخص نے دوسرے پر کوئی ظلم کیا ہو اور اس سے معاف کرائے تو کیا اس ظلم کو بیان کرنا ضروری ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2449
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ: إِنَّمَا سُمِّيَ الْمَقْبُرِيَّ لِأَنَّهُ كَانَ نَزَلَ نَاحِيَةَ الْمَقَابِرِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ: هُوَ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ، وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ وَاسْمُ أَبِي سَعِيدٍ كَيْسَانُ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ (سے ظلم کیا ہو) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے (مظلوم) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ ابوعبدللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا سعید مقبری کا نام مقبری اس لیے ہوا کہ قبرستان کے قریب انہوں نے قیام کیا تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ سعید مقبری ہی بنی لیث کے غلام ہیں۔ پورا نام سعید بن ابی سعید ہے اور (ان کے والد) ابوسعید کا نام کیسان ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2449]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے دوسرے کی عزت یا کسی اور چیز پر ظلم کیا ہو وہ اس سے آج ہی معاف کرا لے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں درہم و دینار نہیں ہوں گے، پھر اگر ظالم کا کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے ظلم کی مقدار اس سے لے لیا جائے گا، اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ ظالم کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: اسماعیل بن ابی اویس کو مقبری اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ قبرستان کے ایک کنارے پر رہتے تھے۔ اور سعید مقبری بنو لیث کا آزاد کردہ غلام ہے، اس کا پورا نام سعید بن ابی سعید ہے، اور اس کے باپ ابوسعيد کا نام کیسان ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2449]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ إِذَا حَلَّلَهُ مِنْ ظُلْمِهِ فَلاَ رُجُوعَ فِيهِ:
باب: جب کسی ظلم کو معاف کر دیا تو پھر واپسی کا مطالبہ باقی نہیں رہتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2450
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا سورة النساء آية 128، قَالَتْ:" الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ لَيْسَ بِمُسْتَكْثِرٍ مِنْهَا يُرِيدُ أَنْ يُفَارِقَهَا، فَتَقُولُ: أَجْعَلُكَ مِنْ شَأْنِي فِي حِلٍّ"، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ.
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے باپ نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے (قرآن مجید کی آیت) «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا‏» اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے نفرت یا اس کے منہ پھیرنے کا خوف رکھتی ہو کے بارے میں فرمایا کہ کسی شخص کی بیوی ہے لیکن شوہر اس کے پاس زیادہ آتا جاتا نہیں بلکہ اسے جدا کرنا چاہتا ہے اس پر اس کی بیوی کہتی ہے کہ میں اپنا حق تمہیں معاف کرتی ہوں۔ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2450]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے اس آیت ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [سورة النساء: 128] (اگر عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بے پروائی یا روگردانی کرنے کا اندیشہ ہو) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے پاس ایک بیوی ہوتی ہے جس سے وہ زیادہ تعلق نہیں رکھنا چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اسے چھوڑ دے تو ایسی حالت میں عورت اسے کہے کہ میں تجھے اپنے خاص معاملات میں بری الذمہ قرار دیتی ہوں۔ اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2450]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ إِذَا أَذِنَ لَهُ أَوْ أَحَلَّهُ وَلَمْ يُبَيِّنْ كَمْ هُوَ:
باب: اگر کوئی شخص دوسرے کو اجازت دے یا اس کو معاف کر دے مگر یہ بیان نہ کرے کہ کتنے کی اجازت اور معافی دی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2451
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ، وَعَنْ يَسَارِهِ الْأَشْيَاخُ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ، فَقَالَ الْغُلَامُ: لَا، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا، قَالَ: فَتَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم بن دینار نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ یا پانی پینے کو پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑی عمر والے تھے۔ لڑکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم مجھے اس کی اجازت دو گے کہ ان لوگوں کو یہ (پیالہ) دے دوں؟ لڑکے نے کہا، نہیں اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! آپ کی طرف سے ملنے والے حصے کا ایثار میں کسی پر نہیں کر سکتا۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ اسی لڑکے کو دے دیا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2451]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مشروب لایا گیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نوش فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک لڑکا بیٹھا تھا، جبکہ بائیں جانب کچھ بزرگ لوگ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا: تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں اپنا پس خوردہ (بچا ہوا) ان بزرگوں کو دے دوں؟ لڑکے نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا حصہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے ملنے والا ہے وہ میں کسی اور کو دینے والا نہیں ہوں۔ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ اسی کے ہاتھ میں تھما دیا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2451]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ إِثْمِ مَنْ ظَلَمَ شَيْئًا مِنَ الأَرْضِ:
باب: اس شخص کا گناہ جس نے کسی کی زمین ظلم سے چھین لی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2452
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے طلحہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن عمرو بن سہل نے خبر دی اور ان سے سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کی زمین ظلم سے لے لی، اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2452]
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص ظلم سے کسی کی زمین کا کچھ حصہ چھین لے گا تو قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2452]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2453
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أُنَاسٍ خُصُومَةٌ، فَذَكَرَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا سَلَمَةَ، اجْتَنِبِ الْأَرْضَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے کہ مجھ سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا کہ ان کے اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان (زمین کا) جھگڑا تھا۔ اس کا ذکر انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے بتلایا، ابوسلمہ! زمین سے پرہیز کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص نے ایک بالشت بھر زمین بھی کسی دوسرے کی ظلم سے لے لی تو سات زمینوں کا طوق (قیامت کے دن) اس کے گردن میں ڈالا جائے گا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2453]
حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کے اور کچھ لوگوں کے درمیان ایک جھگڑا تھا، حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ابو سلمہ! زمین کے معاملے میں اجتناب کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی نے ایک بالشت کے برابر بھی کسی کی زمین ہڑپ کی تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2453]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2454
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ". قَالَ عَبْدِ اللهِ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِخُرَاسَانَ فِي كِتَابِ ابْنُ الْمُبَارَكِ أَمْلاهُ عَلَيْهِم بِالْبَصْرَةِ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا سالم سے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص نے ناحق کسی زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی لے لیا، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ یہ حدیث عبداللہ بن مبارک کی اس کتاب میں نہیں ہے جو خراسان میں تھی۔ بلکہ اس میں تھی جسے انہوں نے بصرہ میں اپنے شاگردوں کو املا کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2454]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تھوڑی سی زمین بھی ناحق لے لے گا، اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری) کہتے ہیں: یہ حدیث عبداللہ بن مبارک کی کتاب میں نہیں جو انہوں نے خراسان میں تصنیف کی تھی، البتہ انہوں نے جو کتاب بصرہ میں لکھوائی تھی اس میں یہ حدیث ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2454]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ إِذَا أَذِنَ إِنْسَانٌ لآخَرَ شَيْئًا جَازَ:
باب: جب کوئی شخص کسی دوسرے کو کسی چیز کی اجازت دیدے تو وہ اسے استعمال کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2455
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَبَلَةَ، كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فِي بَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَصَابَنَا سَنَةٌ، فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمُرُّ بِنَا، فَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے جبلہ نے بیان کیا کہ ہم بعض اہل عراق کے ساتھ مدینہ میں مقیم تھے۔ وہاں ہمیں قحط میں مبتلا ہونا پڑا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کھانے کے لیے ہمارے پاس کھجور بھجوایا کرتے تھے۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ہماری طرف سے گزرتے تو فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کھاتے وقت) دو کھجور کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2455]
حضرت جبلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ اہل عراق کے ہاں ایک شہر میں تھے کہ ہمیں قحط سالی نے آ لیا تو حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما ہمیں کھجور کھلایا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے تو فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو کھجوریں ایک بار اٹھا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ ہاں، تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اجازت لے لے تو جائز ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2455]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2456
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ،" أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ كَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، فَقَالَ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ: اصْنَعْ لِي طَعَامَ خَمْسَةٍ لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، وَأَبْصَرَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ فَدَعَاهُ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ لَمْ يُدْعَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا قَدِ اتَّبَعَنَا أَتَأْذَنُ لَهُ، قَالَ: نَعَمْ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ انصار میں ایک صحابی جنہیں ابوشعیب رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، کا ایک قصائی غلام تھا۔ ابوشعیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میرے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دے، کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار دیگر اصحاب کے ساتھ دعوت دوں گا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بھوک کے آثار دیکھے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے بتلایا۔ ایک اور شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بن بلائے چلا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب خانہ سے فرمایا یہ آدمی بھی ہمارے ساتھ آ گیا ہے۔ کیا اس کے لیے تمہاری اجازت ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں اجازت ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2456]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو شعیب نامی انصاری رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو گوشت پکانے میں مہارت رکھتا تھا۔ ابو شعیب رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کرو، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ اشخاص میں سے پانچویں ہوں گے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور میں بھوک کے آثار دیکھے تھے، چنانچہ جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی تو آپ کے ساتھ ایک صاحب اور آگئے جن کو کھانے کی دعوت نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صاحب ہمارے ساتھ آگئے ہیں۔ کیا آپ اسے اجازت دیتے ہیں؟ ابو شعیب رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2456]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں