صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ إِذَا اخْتَلَفُوا فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ- وَهْيَ الرَّحْبَةُ تَكُونُ بَيْنَ الطَّرِيقِ- ثُمَّ يُرِيدُ أَهْلُهَا الْبُنْيَانَ، فَتُرِكَ مِنْهَا الطَّرِيقُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ:
باب: اگر عام راستہ میں اختلاف ہو اور وہاں رہنے والے کچھ عمارت بنانا چاہیں تو سات ہاتھ زمین راستہ کے لیے چھوڑ دیں۔
حدیث نمبر: 2473
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:"قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَشَاجَرُوا فِي الطَّرِيقِ بِسَبْعَةِ أَذْرُعٍ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے زبیر بن خریت نے اور ان سے عکرمہ نے کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تھا جب کہ راستے (کی زمین) کے بارے میں جھگڑا ہو تو سات ہاتھ راستہ چھوڑ دینا چاہئے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2473]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب لوگوں میں شارعِ عام کے متعلق باہمی اختلاف ہوا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سات ہاتھ راستہ چھوڑنے“ کا فیصلہ صادر فرمایا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2473]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
30. بَابُ النُّهْبَى بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ:
باب: مالک کی اجازت کے بغیر اس کا کوئی مال اٹھا لینا۔
حدیث نمبر: Q2474
وَقَالَ عُبَادَةُ: بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نَنْتَهِبَ.
اور عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم لوٹ مار نہیں کیا کریں گے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: Q2474]
حدیث نمبر: 2474
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ جَدُّهُ أَبُو أُمِّهِ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَى وَالْمُثْلَةِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عدی بن ثابت نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، جو عدی بن ثابت کے نانا تھے۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2474]
حضرت عبد اللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان (عدی بن ثابت) کے نانا تھے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”لوٹ مار کرنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے“۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2474]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2475
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ". وَعَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا النُّهْبَةَ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، زانی مومن رہتے ہوئے زنا نہیں کر سکتا۔ شراب خوار مومن رہتے ہوئے شراب نہیں پی سکتا۔ چور مومن رہتے ہوئے چوری نہیں کر سکتا۔ اور کوئی شخص مومن رہتے ہوئے لوٹ اور غارت گری نہیں کر سکتا کہ لوگوں کی نظریں اس کی طرف اٹھی ہوئی ہوں اور وہ لوٹ رہا ہو، سعید اور ابوسلمہ کی بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روایت ہے۔ البتہ ان کی روایت میں لوٹ کا تذکرہ نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2475]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زنا کرنے والا جس وقت زنا کرتا ہے وہ مومن نہیں ہوتا، شراب پینے والا جب شراب نوشی کرتا ہے تو ایماندار نہیں رہتا اور جو چور جس وقت چوری کرتا ہے اس وقت مومن نہیں ہوتا اور لوٹنے والا جب کوئی ایسی چیز لوٹتا ہے جس کی طرف لوگ آنکھ کو اٹھا کر دیکھتے ہیں تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔“ سعید اور ابو سلمہ نے بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت بیان کی ہے لیکن اس میں لوٹ مار کا ذکر نہیں، فربری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر کے خط کی عبارت بایں الفاظ پائی ہے کہ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ ایسے انسان سے نورِ ایمان سلب کر لیا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2475]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
31. بَابُ كَسْرِ الصَّلِيبِ وَقَتْلِ الْخِنْزِيرِ:
باب: صلیب کا توڑنا اور خنزیر کا مارنا۔
حدیث نمبر: 2476
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک ابن مریم کا نزول ایک عادل حکمران کی حیثیت سے تم میں نہ ہو جائے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، سوروں کو قتل کر دیں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گے۔ (اس دور میں) مال و دولت کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی قبول نہیں کرے گا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2476]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم میں ابن مریم ایک منصف حاکم بن کر نمودار ہو جائیں۔ وہ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے، نیز جزیہ ختم کر دیں گے۔ اس وقت مال کی بہتات ہو گی یہاں تک کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہیں ہو گا۔“ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2476]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
32. بَابُ هَلْ تُكْسَرُ الدِّنَانُ الَّتِي فِيهَا الْخَمْرُ أَوْ تُخَرَّقُ الزِّقَاقُ:
باب: کیا کوئی ایسا مٹکا توڑا جا سکتا ہے یا ایسی مشک پھاڑی جا سکتی ہے جس میں شراب موجود ہو؟
حدیث نمبر: Q2477
فَإِنْ كَسَرَ صَنَمًا أَوْ صَلِيبًا أَوْ طُنْبُورًا أَوْ مَا لَا يُنْتَفَعُ بِخَشَبِهِ، وَأُتِيَ شُرَيْحٌ فِي طُنْبُورٍ كُسِرَ فَلَمْ يَقْضِ فِيهِ بِشَيْءٍ.
اگر کسی شخص نے بت، صلیب یا ستار یا کوئی بھی اس طرح کی چیز جس کی لکڑی سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو توڑ دی؟ قاضی شریح رحمہ اللہ کی عدالت میں ایک ستار کا مقدمہ لایا گیا، جسے توڑ دیا تھا، تو انہوں نے اس کا بدلہ نہیں دلوایا۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: Q2477]
حدیث نمبر: 2477
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نِيرَانًا تُوقَدُ يَوْمَ خَيْبَرَ، قَالَ: عَلَى مَا تُوقَدُ هَذِهِ النِّيرَانُ؟ قَالُوا: عَلَى الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، قَالَ: اكْسِرُوهَا، وَأَهْرِقُوهَا، قَالُوا: أَلَا نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا؟ قَالَ: اغْسِلُوا". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: كَانَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، يَقُولُ: الْحُمُرِ الْأَنْسِيَّةِ بِنَصْبِ الْأَلِفِ وَالنُّونِ.
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر دیکھا کہ آگ جلائی جا رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ آگ کس لیے جلائی جا رہی ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ گدھے (کا گوشت پکانے) کے لیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ برتن (جس میں گدھے کا گوشت ہو) توڑ دو اور گوشت پھینک دو۔ اس پر صحابہ بولے ایسا کیوں نہ کر لیں کہ گوشت تو پھینک دیں اور برتن دھو لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ برتن دھو لو۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں ابن ابی اویس «الحمر الأنسية» کو الف اور نون کو نصب کے ساتھ کہا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2477]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن جلتی ہوئی آگ دیکھی تو فرمایا: ”یہ آگ کس چیز پر جلائی گئی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: گھریلو گدھوں کا گوشت پکایا جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہنڈیوں کو توڑ دو اور گوشت کو پھینک دو۔“ لوگوں نے عرض کیا: ہم گوشت تو پھینک دیتے ہیں لیکن ہنڈیوں کو دھو نہ لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دھو لو۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ ابن ابی اویس کے کہنے کے مطابق «الْأَنَسِيَّةِ» کا الف اور نون مفتوح ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2477]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2478
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ، وَجَعَلَ يَقُولُ: جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ سورة الإسراء آية 81" الْآيَةَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، ان سے ابومعمر نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ دن جب) مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان بتوں پر مارنے لگے اور فرمانے لگے کہ «جاء الحق وزهق الباطل» ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا“۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2478]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ کی چھڑی سے کچوکے دیتے اور فرماتے تھے: ” ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ﴾ [سورة الإسراء: 81] حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔۔۔۔“ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2478]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2479
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّهَا كَانَتِ اتَّخَذَتْ عَلَى سَهْوَةٍ لَهَا سِتْرًا فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَهَتَكَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ نُمْرُقَتَيْنِ، فَكَانَتَا فِي الْبَيْتِ يَجْلِسُ عَلَيْهِمَا".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے اپنے حجرے کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جب دیکھا تو) اسے اتار کر پھاڑ ڈالا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) پھر میں نے اس پردے سے دو گدے بنا ڈالے۔ وہ دونوں گدے گھر میں رہتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بیٹھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2479]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے اپنے حجرے کے دروازے پر ایک کپڑا لٹکایا جس پر تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھاڑ ڈالا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کپڑے کے دو گاؤ تکیے بنا لیے جو گھر میں رہے۔ ان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2479]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
33. بَابُ مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ:
باب: جو شخص اپنا مال بچانے کے لیے لڑے۔
حدیث نمبر: 2480
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ".
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2480]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔“ [صحيح البخاري/کتاب المظالم والغصب/حدیث: 2480]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة