سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
«ولقد علمنا المستقدمين منكم» کا شان نزول
ترقیم الباني: 2472 ترقیم فقہی: -- 895
-" كانت امرأة تصلي خلف النبي صلى الله عليه وسلم [حسناء من] أجمل الناس، فكان ناس يصلون في آخر صفوف الرجال فينظرون إليها، فكان أحدهم ينظر إليها من تحت إبطه [إذا ركع] وكان أحدهم يتقدم إلى الصف الأول حتى لا يراها فأنزل الله عز وجل هذه الآية: * (ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين) *".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حسین عورتوں میں سے ایک انتہائی خوبصورت عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھتی تھی، کچھ لوگ مردوں میں سے آخری صفوں میں نماز پڑھتے تھے، تاکہ اس کو دیکھ سکیں، اور وہ رکوع میں بغلوں کے نیچے سے اس کو دیکھتے تھے، جبکہ بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں کھڑے ہوتے، تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں۔ اﷲ تعالیٰ نے (دونوں کے رویوں کو بیان کرنے کے لئے) یہ آیت اتاری: ” ہم تم میں سے آگے بڑھنے والوں کو اور پیچھے رہنے والوں کو جانتے ہیں۔“ (سورہ حجر: ۲۴) [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 895]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2472
فجر کی اقسام اور احکام
ترقیم الباني: 2031 ترقیم فقہی: -- 896
-" كلوا واشربوا ولا يهيدنكم الساطع المصعد، فكلوا واشربوا حتى يعترض لكم الأحمر".
عبداللہ بن نعمان سحیمی کہتے ہیں: رمضان کی رات کے آخری حصے کی بات ہے، قیس بن طلق کچھ سالن مانگنے کے لیے میرے پاس آئے، جبکہ میں صبح کے ڈر سے سحری کے کھانے سے فارغ ہو چکا تھا۔ میں نے کہا: چچا جان! اگر رات کا کوئی حصہ باقی ہے (اور سحری کھانے کی گنجائش ہے) تو میں آپ کو کھانے پینے کے پاس بٹھا دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا: تیرے پاس کھانا پینا ہے؟ پس وہ اندر آ گئے، میں نے ثرید، گوشت اور نبیذ پیش کی۔ انہوں نے خود بھی کھایا پیا اور مجھے بھی اتنا مجبور کیا کہ میں بھی کھانے پینے لگ گیا، حالانکہ میں صبح سے ڈر رہا تھا۔ پھر انہوں نے کہا: سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھاؤ اور پیو (سحری کھانے کے بارے میں) اوپر اٹھنے والی روشنی تم کو بے چین نہ کرنے پائے، اس کے باوجود تم کھاتے پتیے رہا کرو، حتی کہ سر خ روشنی (افق میں) پھیل جائے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 896]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2031
پیاز اور لہسن کھا کر مسجد میں آنا کیسا ہے؟
ترقیم الباني: 2032 ترقیم فقہی: -- 897
-" كلوه، ومن أكل منكم فلا يقرب هذا المسجد، حتى يذهب ريحه منه".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھوم اور پیاز کا ذکر ہونے لگا۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! ان میں سب سے زیادہ بو والا تو تھوم ہے، آیا آپ اس کا کھانا حرام قرار دیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اس کو کھا سکتے ہو، لیکن جو کھائے گا، وہ اس وقت تک اس مسجد کے قریب نہیں آ سکتا، جب تک اس کی بو ختم نہ ہو جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 897]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2032
ترقیم الباني: 2389 ترقیم فقہی: -- 898
-" نهى عن الثوم والبصل والكراث".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن، پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 898]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2389
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی رخصت قبول جائے
ترقیم الباني: 328 ترقیم فقہی: -- 899
-" ما بال رجال بلغهم عني أمر ترخصت فيه، فكرهوه وتنزهوا عنه؟! فوالله لأنا أعلمهم بالله وأشدهم له خشية".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور پھر اس میں رخصت دے دی۔ جب یہ بات صحابہ کرام تک پہنچی تو انہوں نے اس رخصت کو ناپسند کیا اور اس سے اجتناب کرنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ان کے رویے) کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور خطیب کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، میری طرف سے ایک رخصت والا معاملہ ان تک پہنچا، لیکن انہوں نے اسے ناپسند کیا اور اس سے گریز کرنے لگے؟ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے والا میں ہوں اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا بھی میں ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 899]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 328
ترقیم الباني: 192 ترقیم فقہی: -- 900
-" هي رخصة ـ يعني الفطر في السفر ـ من الله، فمن أخذ بها فحسن، ومن أحب أن يصوم، فلا جناح عليه".
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، (اگر میں ایسے کروں تو) کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: ”یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے، جو اس کو قبول کرے گا، سو اچھی بات ہو گی اور جو روزہ رکھنا چاہے، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 900]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 192
کیا قے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
ترقیم الباني: 923 ترقیم فقہی: -- 901
-" من ذرعه القيء فلا يقض".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس پر (روزے کی حالت میں) قے غالب آ جائے، اس پر کوئی قضائی نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 901]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 923
عیدالفطر کے روز ناشتہ کرنا سنت ہے
ترقیم الباني: 3038 ترقیم فقہی: -- 902
- (مِنَ السُّنَّةِ أنْ يَطْعَمَ [يومَ الفِطْرِ] قَبْلَ أنْ يَخْرُجَ وَلَوْ بِتَمْرَةٍ) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: عید کے دن نکلنے سے پہلے کچھ کھانا سنت ہے، اگرچہ کھجور ہو۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 902]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3038
نفلی روزے کی فضیلت
ترقیم الباني: 2565 ترقیم فقہی: -- 903
-" من صام يوما في سبيل الله باعد الله منه جهنم مسيرة مائة عام".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو سو سال کی مسافت تک دور کردے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 903]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2565
ترقیم الباني: 563 ترقیم فقہی: -- 904
-" من صام يوما في سبيل الله جعل الله بينه وبين النار خندقا كما بين السماء والأرض".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان خندق حائل کر دے گا، (اس کے دو کناروں کا فاصلہ) زمیں و آسمان کے درمیانی فاصلے جتنا ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 904]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 563