سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
غیر باپ کی طرف نسبت کرنے کا وبال
ترقیم الباني: 2307 ترقیم فقہی: -- 1303
-" من ادعى إلى غير أبيه فلن يرح رائحة الجنة، وريحها يوجد من مسيرة سبعين عاما".
سیدنا عبدالرحمٰن بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کی، وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائے گا اور اس کی خوشبو تو ستر سال کی مسافت کی دوری سے محسوس کی جاتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1303]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2307
ترقیم الباني: 3480 ترقیم فقہی: -- 1304
ـ (من انتفَى من ولَدِه لِيفضَحه في الدُّنيا؛ فضَحَه اللهُ يومَ القيامةِ على رؤوس الأَشهادِ، قِصاصٌ بِقِصَاصٍ) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے بیٹے کو دنیا میں بدنام کرنے کے لیے اس کے بیٹا ہونے کی نفی کر دی، اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت حاضرین کے سامنے رسوا کرے گا۔ یہی برابر کا بدلہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1304]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3480
امانت میں رکھی گئی چیز کی ضمانت کس پر ہے؟
ترقیم الباني: 2315 ترقیم فقہی: -- 1305
-" من استودع وديعة فلا ضمان عليه".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس کوئی امانت رکھی جائے، اس پر کوئی ضمانت نہیں ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1305]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2315
باطل پر ظالم کی مدد کرنے کا انجام
ترقیم الباني: 1020 ترقیم فقہی: -- 1306
-" من أعان ظالما بباطل ليدحض بباطله حقا فقد برئ من ذمة الله عز وجل وذمة رسوله".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ظالم کی ناحق مدد اس لیے کی تاکہ اس کے باطل کے ذریعے حق کو مٹا دے، وہ اللہ اور اس کے رسول کی حفاظت و ضمانت سے بری ہو گیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1306]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1020
ترقیم الباني: 1021 ترقیم فقہی: -- 1307
-" من أعان على خصومة بظلم، أو يعين على ظلم، لم يزل في سخط الله حتى ينزع".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ظلم کرتے ہوئے کسی جھگڑے یا ظلم پر تعاون کرتا ہے، وہ جب تک باز نہیں آجاتا، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1307]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1021
عمریٰ اور رقبیٰ کی تعریف اور ان کے احکام
ترقیم الباني: 3564 ترقیم فقہی: -- 1308
- (من أُعْمِر شيئاً فهو لمُعمَرِهِ؛ محياهُ ومماتهُ، ولا ترقبوا؛ فمن أرقب شيئاً؛ فهو سبيله. وفي رواية: سبيلُ الميراث) .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو کوئی چیز بطور عمریٰ دی گئی تو وہ اسی کی ہو جائے گی، وہ زندہ رہے یا مر جائے۔ کسی کو کوئی چیز بطور رقبیٰ نہ دیا کرو، جس نے کوئی چیز بطور رقبیٰ دی وہ وراثت کے حکم میں آ جائے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1308]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3564
شریعت کی نافرمانی میں خلیفہ کی کوئی اطاعت نہیں
ترقیم الباني: 2324 ترقیم فقہی: -- 1309
-" من أمركم من الولاة بمعصية فلا تطيعوه".
سیدنا ابوسعید خدری رضى اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علقمہ بن مجزز رضى اللہ عنہ کو ایک لشکر، (جس میں میں بھی تھا) کا امیر بنا کر بھیجا۔ جب وہ غزدہ کی جگہ پر پہنچا یا راستے میں تھا، تو لشکر کے ایک حصے نے اس سے اجازت طلب کی، اس نے اجازت دے دی اور سیدنا عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی رضى اللہ عنہ کو ان کا امیر بنا دیا، میں بہی انھی کے ساتھ غزوہ کرنے والوں میں تھا۔ وہ راستے میں ہی تھا کہ اس نے گرمی حاصل کرنے کے لیے یا کوئی چیز پکانے کے لیے آگ جلائی۔ لشکر کے امیر عبداللہ نے کہا:، جن کے مزاج میں خوش طبعی پائی جاتی تہی، کیا تمہارے لیے ضروری نہیں کہ تم میرا حکم سنو اور مانو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؛ اس نے کہا: میں تمہیں جس چیز کا حکم دوں گا، تم اس کی تعیل کرو گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: میں تمہیں سختی کے ساتھ حکم دیتا ہوں کہ اس آگ میں کود پڑو۔ لوگوں نے کمروں پر پیٹیاں باندہ لیں۔ جب اسے گمان ہوا کہ یہ آگ میں کودنے والے ہیں، تو ان سے کہا: ٹھر جاؤ، میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تہا۔ جب ہم نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو یہ سارا واقعہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو سنایا۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو امرا تمہیں (اللہ تعالىٰ کی) نافرمانی کا حکم دیں، ان کی اطاعت نہ کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1309]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2324
اس چھت پر سونا منع ہے، جس پر آڑ نہ ہو
ترقیم الباني: 828 ترقیم فقہی: -- 1310
-" من بات فوق بيت ليس له إجار فوقع فمات فبرئت منه الذمة، ومن ركب البحر عند ارتجاجه فمات، فقد برئت منه الذمة".
ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ایسے گھر کی چھت پر سوئے، جس پر کوئی پردہ (اور آڑ) وغیرہ نہ ہو، اور گر کر مر جائے تو اس کی کوئی ضمانت اور (ذمہ) نہ ہو گا۔ اسی طرح جو سمندری سفر کرے، اس حال میں کہ سمندر طلاطم خیز ہو، اور وہ (ڈوب کر) مر جائے تو اس کا بھی کوئی ذمہ نہ ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1310]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 828
غلام کا غیر آقا سے تعلق رکھنا منع ہے
ترقیم الباني: 2329 ترقیم فقہی: -- 1311
-" من تولى غير مواليه، فقد خلع ربقة الإيمان من عنقه".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غیر آقاؤں سے تعلق رکھا، اس نے اپنی گردن سے ایمان کا کڑا اتار پھینکا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1311]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2329
گھڑ دوڑ کے دوران جانبدارانہ شور مچانا منع ہے
ترقیم الباني: 2331 ترقیم فقہی: -- 1312
-" من جلب على الخيل يوم الرهان، فليس منا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مقابلے والے دن گھوڑے کو دوڑانے کے لیے شور مچایا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1312]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2331