سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
وہ امور مباح ہیں، جن سے شریعت نے خاموشی اختیار کی ہے
ترقیم الباني: 2256 ترقیم فقہی: -- 1293
-" ما أحل الله في كتابه فهو حلال وما حرم فهو حرام وما سكت عنه فهو عفو، فاقبلوا من الله عافيته * (وما كان ربك نسيا) * (¬1) ".
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کیا وہ حلال ہے، جو حرام کیا وہ حرام ہے اور جن چیزوں سے خاموشی اختیار کی ہے وہ معاف ہیں، تم اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی قبول کرو اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“ (سورہ مریم ۶۴)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1293]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2256
نومولود بچہ کب وارث بنتا ہے؟
ترقیم الباني: 153 ترقیم فقہی: -- 1294
-" إذا استهل المولود ورث".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر بچہ (بعد از ولادت) چلائے گا تو تب اسے وارث بنایا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1294]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 153
ترقیم الباني: 152 ترقیم فقہی: -- 1295
-" لا يرث الصبي حتى يستهل صارخا، واستهلاله أن يصيح أو يعطس أو يبكي".
سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک (نومولود) بچہ روتا نہیں، اس وقت تک اسے وارث نہیں بنایا جاتا، اس کا رونا یہ ہے کہ وہ چیخے یا چھینکے یا روئے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1295]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 152
جس کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہو، وہ بھی وارث بن سکتا ہے
ترقیم الباني: 2316 ترقیم فقہی: -- 1296
-" من أسلم على يديه رجل فهو مولاه"..
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی جس کے ہاتھ پر مسلمان ہو گا۔ وہی اس کا حلیف ہو گا۔“ یہ حدیث سیدنا ابوامامہ، سیدنا تمیم داری اور سیدنا راشد رضی اللہ عنہم سے مروی ہے [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1296]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2316
غیر وارثوں سے معاہدہ میراث منسوخ ہو گیا
ترقیم الباني: 2262 ترقیم فقہی: -- 1297
-" ما كان من حلف في الجاهلية فتمسكوا به، ولا حلف في الإسلام".
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو معاہدہ دور جاہلیت میں طے پایا، اس کی پابندی کرو اور اسلام میں ایسا کوئی معاہدہ مؤثر نہیں ہو گا (جو کسی کو بلاسبب وارث بنائے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1297]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2262
حاکم کے دو ہم راز اور ان کی ذمہ داری
ترقیم الباني: 2270 ترقیم فقہی: -- 1298
-" ما من وال إلا وله بطانتان، بطانة تأمره بالمعروف وتنهاه عن المنكر وبطانة لا تألوه خبالا، فمن وقي شرها فقد وقي وهو من التي تغلب عليه منهما".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر حاکم کے دو ہم راز ہوتے ہیں، ایک ہم راز اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے اور دوسرا اس کی ہلاکت و تباہی کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا۔ جو حاکم اس کے شر سے بچ گیا، وہ تو محفوظ ہو گیا اور ہے بھی یہی جو غالب آ جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1298]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2270
خلاف شریعت امور کو روکنا باعث نجات اور نہ روکنا باعث ہلاکت ہے
ترقیم الباني: 69 ترقیم فقہی: -- 1299
-" مثل القائم على حدود الله والواقع (وفي رواية: والراتع) فيها والمدهن فيها كمثل قوم استهموا على سفينة في البحر فأصاب بعضهم أعلاها وأصاب بعضهم أسفلها (وأوعرها) فكان الذي (وفي رواية: الذين) في أسفلها إذا استقوا من الماء فمروا على من فوقهم فتأذوا به (وفي رواية: فكان الذين في أسفلها يصعدون فيستقون الماء فيصبون على الذين في أعلاه فقال الذين في أعلاها: لا ندعكم تصعدون فتؤذوننا) ، فقالوا: لو أنا خرقنا في نصيبنا خرقا فاستقينا منه ولم نؤذ من فوقنا (وفي رواية: ولم نمر على أصحابنا فنؤذيهم) فأخذ فأسا فجعل ينقر أسفل السفينة، فأتوه فقالوا: مالك؟ قال: تأذيتم بي ولابد لي من الماء. فإن تركوهم وما أرادوا هلكوا جميعا وإن أخذوا على أيديهم نجوا وأنجوا جميعا".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو اللہ کی حدود کو قائم کرنے والا ہے اور اس کی جو ان حدود میں مبتلا ہونے اور کوتاہی کرنے والا ہے، ان لوگوں کی طرح ہے (جو ایک کشتی میں سوار ہوئے) انہوں نے کشتی کے (اوپر اور نیچے والے حصوں کے لیے) قرعہ اندازی کی، پس ان میں سے بعض اس کی بالائی منزل پر اور بعض نچلی منزل پر بیٹھ گئے، نچلی منزل والوں کو جب پانی لینے کی طلب ہوتی تو وہ اوپر آتے اور بالا نشینوں سے گزرتے، لیکن انہیں ناگوار گزرتا (ایک روایت میں یوں ہے: نچلی منزل والے پانی لینے کے لیے اوپر چڑھتے، تو اوپر والے لوگوں پر پانی گر جاتا تھا، اس لیے اوپر والی منزل کے لوگوں نے کہا: ہم تمہیں اوپر نہیں آنے دیں گے، تم اوپر چڑھ آتے ہو اور ہمیں تکلیف دیتے ہو) انہوں نے سوچا کہ اگر ہم اپنے نچلے والے حصے میں سوراخ کر لیں اور اس سے پانی حاصل کر لیں، تاکہ اوپر والوں کو تکلیف نہ ہو (اور ایک روایت میں ہے: تاکہ ہم اوپر والوں کے پاس سے گزر کر انہیں تکلیف نہ دیں)۔ (اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے) ایک آدمی نے کلہاڑا پکڑا اور کشتی کے نچلے حصے میں کریدنا شروع کر دیا۔ اوپر والے لوگ اس کے پاس آئے اور کہا: کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا:! تم تکلیف محسوس کرتے ہو اور ہمیں پانی کی ضرورت ہے۔ اگر اوپر والے لوگ نیچے والوں کو اور ان کے ارادے کو نظر انداز کر دیں گے تو وہ سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے، اور اگر وہ انہیں پکڑ لیں تو خود بھی نجات پا جائیں گے اور ان کو بھی بچا لیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1299]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 69
اللہ تعالیٰ کی دلیل کی عزت کرنا
ترقیم الباني: 2297 ترقیم فقہی: -- 1300
-" من أجل سلطان الله أجله الله يوم القيامة".
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی دلیل و حجت کی تعظیم کی، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی تعظیم کرے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1300]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2297
مردہ زمین آباد کرنے کا اجر و ثواب
ترقیم الباني: 568 ترقیم فقہی: -- 1301
-" من أحيا أرضا ميتة له بها أجر وما أكلت منه العافية فله به أجر".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین کو آباد کیا اسے اجر ملے گا اور روزی کے متلاشی وہاں سے جو کچھ کھائیں گے، اس کے بدلے بھی اسے اجر ملے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1301]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 568
زمین پر ناجائز قبضے کا انجام
ترقیم الباني: 242 ترقیم فقہی: -- 1302
-" من أخذ أرضا بغير حقها كلف أن يحمل ترابها إلى المحشر".
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے ناحق زمین غصب کر لی، اسے محشر تک اس کی مٹی اٹھا کر لے جانے کی تکلیف دی جائے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1302]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 242