سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
مہمان، میزبان سے اپنا حق وصول کر سکتا ہے
ترقیم الباني: 640 ترقیم فقہی: -- 1263
-" أيما ضيف نزل بقوم، فأصبح الضيف محروما، فله أن يأخذ بقدر قراه، ولا حرج عليه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی مہمان کسی قوم کے پاس اترے اور وہ صبح کے وقت اپنی میزبانی سے محروم رہے تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان سے اپنی میزبانی کے بقدر کوئی چیز لے لے، اس میں اس پر کوئی حرج نہیں ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1263]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 640
بلاد مشرکین میں سکونت اختیار کرنا منع ہے
ترقیم الباني: 2330 ترقیم فقہی: -- 1264
-" من جامع المشرك وسكن معه، فإنه مثله"..
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مشرک کا ساتھ دیا اور اس کے ساتھ رہا، وہ اسی کی طرح ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1264]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2330
ترقیم الباني: 768 ترقیم فقہی: -- 1265
-" برئت الذمة ممن أقام مع المشركين في بلادهم".
سیدنا جریر بن بجیلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ اور اس کا رسول) اس آدمی سے برئ الذمہ ہیں جو مشرکوں کے ممالک میں ان کے ساتھ اقامت پذیر ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1265]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 768
سوگ کی مدت تین دن ہے
ترقیم الباني: 3226 ترقیم فقہی: -- 1266
- (تسلّبي ثلاثاً، ثم اصنعي ما شئتِ. قاله لأسماء بنت عُميسٍ لما أصيب زوجُها جعفرُ بن أبي طالب) .
سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب سیدنا جعفر بن ابوطالب شہید ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ: ”تین دن سوگ والا لباس پہننے کا اہتمام کر، پھر جو مرضی کرنا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1266]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3226
مومنوں کی ارواح کا مقام
ترقیم الباني: 679 ترقیم فقہی: -- 1267
-" تكون النسم طيرا تعلق بالشجر، حتى إذا كانوا يوم القيامة دخلت كل نفس في جسدها".
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہم مرنے کے بعد ایک دوسرے کو ملیں اور دیکھں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (مرنے کے بعد) روح ایک پرندے کی شکل میں ہوتی ہے جو درختوں پر چگتا رہتا ہے، حتی کہ قیامت کا دن آ جائے گا اور ہر روح کو اس کے جسم میں داخل کر دیا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1267]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 679
بےصبری کا انجام
ترقیم الباني: 462 ترقیم فقہی: -- 1268
-" جرح رجل فيمن كان قبلكم جراحا، فجزع منه، فأخذ سكينا فخز بها يده، فما رقى الدم عنه حتى مات، فقال الله عز وجل: عبدي بادرني نفسه حرمت عليه الجنة".
سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے ایک آدمی زخمی ہو گیا تھا، وہ بہت بے تاب ہوا اور چھری سے اپنا بازو کاٹ دیا، پھر خون نہ تھما یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میرا بندہ مجھ سے سبقت لے گیا ہے۔“ (یعنی میری تقدیر پر راضی نہ ہوا اور خود فیصلہ کر دیا) میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1268]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 462
کنویں کا احاطہ
ترقیم الباني: 251 ترقیم فقہی: -- 1269
-" حريم البئر أربعون ذراعا من حواليها كلها لأعطان الإبل والغنم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنویں کا احاطہ اس کے اردگرد چالیس ہاتھ ہے، یہ ساری جگہ اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کے بیٹھنے کے لئے ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1269]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 251
جائز کھیل
ترقیم الباني: 1829 ترقیم فقہی: -- 1270
-" خذوا يا بني أرفدة! حتى تعلم اليهود والنصارى أن في ديننا فسحة".
امام شعبی، جو تابعی ہیں، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کا ایک (مخصوص حبشی) کھیل کھیلنے والوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ”اے بنو ارفدہ! (یعنی حبشہ والو!) کھیلتے رہو، تاکہ یہودیوں اور عیسائیوں کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دین میں وسعت ہے۔“ وہ کھیل رہے تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے، جب انہوں نے ان کو دیکھا تو سہم گئے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1270]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1829
زیادتی کرنے والے کا جواب کیسے دیا جائے؟
ترقیم الباني: 3247 ترقیم فقہی: -- 1271
- (ذَكِّرهُ بالله ثلات مرّاتٍ، فإن أبى فقاتِلهُ، فإن قتلك، فأنت في الجنة، وإن قتلتهُ؛ فإنَّه في النّارِ. يعني: العادي على الغير) .
سیدنا قہید غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک سائل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی زیادتی کرنے والا مجھ پر زیادتی کرے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین دفعہ اللہ کا واسطہ دے کر نصیحت کرو، اگر وہ انکار پر تلا رہے تو اس سے لڑائی کرو، اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو تم جنت میں جاؤ گے اور اگر تم نے اس کو قتل کر دیا تو وہ جہنم میں جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1271]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3247
ہر مسلمان پناہ دے سکتا ہے، خیانت اور دھوکہ بازی کا انجام
ترقیم الباني: 3948 ترقیم فقہی: -- 1272
- (ذمَّةُ المسلمينَ واحدةٌ، فإن جارَت عليهم جائرةٌ؛ فلا تُخفِرُوها؛ فإن لكل غادرٍ لواءً يُعرَفُ به يوم القيامة) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام مسلمانوں کی ضمانت (کا حکم) ایک ہے، اگر کوئی مسلمان عورت کسی کو پناہ دے دے، تو اس کا عہد مت توڑو۔ (یاد رہے کہ) ہر دھوکے باز پر ایک جھنڈا ہو گا جس کے ذریعے وہ قیامت کے روز پہچانا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1272]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3948