سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
نظر بد کا علاج
ترقیم الباني: 2521 ترقیم فقہی: -- 1598
-" كان يأمرها (يعني عائشة) أن تسترقي من العين".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نظر سے دم کروانے کا حکم دیتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1598]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2521
ترقیم الباني: 2522 ترقیم فقہی: -- 1599
-" كان يؤمر العائن فيتوضأ ثم يغتسل منه المعين".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نظر لگانے والے کو وضو کا حکم دیتے اور اس پانی سے اس آدمی کو غسل کا حکم دیتے جسے نظر بد لگی ہوتی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1599]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2522
ترقیم الباني: 1251 ترقیم فقہی: -- 1600
-" العين حق ولو كان شيء سابق القدر سبقته العين، وإذا استغسلتم فاغسلوا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر حق ہے، اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے سکتی ہوتی تو وہ نظر ہوتی، جب تم سے (نظر کے علاج کے لیے) غسل کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو تم غسل کر دیا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1600]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1251
طاعون بیماری اور اس کے احکام
ترقیم الباني: 2931 ترقیم فقہی: -- 1601
-" إذا سمعتم بالطاعون في أرض فلا تدخلوها، وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا منها [فرارا منه] . وفي رواية:" إن هذا الوجع أو السقم رجز عذب به بعض الأمم قبلكم، [أو طائفة من بني إسرائيل] ، ثم بقي بعد بالأرض، فيذهب المرة، ويأتي الأخرى، فمن سمع به في أرض فلا يقدمن عليه، ومن وقع بأرض وهو بها فلا يخرجنه الفرار منه".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں پتہ چلے کہ فلاں علاقے میں طاعون کی بیماری پھیل گئی ہے، تو اس کی طرف مت جاؤ اور نہ فرار اختیار کرتے ہوئے اس سے نکلو۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”اس تکلیف یا بیماری کے ذریعے سابقہ امتوں یا بنو اسرائیل کے ایک گروہ کو عذاب دیا گیا، پھر یہ کسی نہ کسی طرح زمین میں باقی رہی، کبھی ختم ہو جاتی تھی اور کبھی آ جاتی تھی۔ اب جس آدمی کو اس کے بارے میں پتہ چلے کہ فلاں علاقے میں یہ بیماری آ گئی ہے تو وہ وہاں نہ آئے اور جو اس علاقے میں (پہلے سے موجود) ہو، وہ وہاں سے فرار ہوتے ہوئے نہ نکلے۔“ یہ حدیث سیدنا اسامہ بن زید، سیدنا سعد بن ابو وقاص اور سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1601]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2931
ترقیم الباني: 1928 ترقیم فقہی: -- 1602
-" الطاعون شهادة لأمتي، وخز أعدائكم من الجن، غدة كغدة الإبل، تخرج بالآباط والمراق، من مات فيه مات شهيدا ومن أقام فيه (كان) كالمرابط في سبيل الله ومن فر منه كان كالفار من الزحف".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون میری امت کے لیے شہادت ہے اور جنوں میں سے تمہارے دشمنوں کے لیے ندامت و پشیمانی ہے۔ اس کا زخم اونٹ کی غدود کی طرح ہوتا ہے، جو بغل اور پیٹ کے نرم حصہ پر نکلتا ہے۔ جو اس بیماری کی وجہ سے مر جائے وہ شہید ہوتا ہے اور جو (اسی علاقے میں) ڈٹا رہا، وہ اللہ کے راستے میں سرحد پر مقیم رہنے والے کی طرح ہوتا ہے اور جس نے فرار اختیار کیا وہ جنگ سے بھاگ جانے والے کی طرح ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1602]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1928
ترقیم الباني: 1292 ترقیم فقہی: -- 1603
-" الفرار من الطاعون كالفرار من الزحف".
عمرہ بنت قیس عدویہ کہتی ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور طاعون سے فرار اختیار کرنے کے بارے میں سوال کیا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طاعون سے فرار اختیار کرنا جنگ سے بھاگ جانے کے مترادف ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1603]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1292
سینگی لگوانا
ترقیم الباني: 2747 ترقیم فقہی: -- 1604
-" إذا هاج بأحدكم الدم فليحتجم، فإن الدم إذا تبيغ بصاحبه يقتله".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا خون بھڑکنے لگ جائے (یعنی بلڈ پریشر بلند ہو جائے) تو وہ سینگی لگوائے، کیونکہ خون کے جوش مارنے سے آدمی کی موت واقع ہو سکتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1604]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2747
ترقیم الباني: 760 ترقیم فقہی: -- 1605
-" إن كان في شيء مما تداوون به خير ففي الحجامة".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن چیزوں کو تم بطور علاج استعمال کرتے ہو، اگر ان میں کوئی بہتری ہے تو وہ سینگی لگوانے میں ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1605]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 760
ترقیم الباني: 245 ترقیم فقہی: -- 1606
-" إن كان في شيء من أدويتكم خير ففي شرطة محجم، أو شربة من عسل أو لذعة بنار، وما أحب أن أكتوي".
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ مقنع کی بیمار پرسی کے لیے آئے اور کہا: میں یہیں بیٹھا رہوں گا جب تک تو پچھنے نہیں لگوائے گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اگر تمہاری دواؤں میں خیر ہے تو وہ سینگی لگوانے میں یا شہد پینے میں یا داغنے میں ہے، لیکن میں داغنے کو ناپسند کرتا ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1606]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 245
ترقیم الباني: 864 ترقیم فقہی: -- 1607
-" إن فيه (يعني الحجامة) شفاء".
بکیر کہتے ہیں کہ عاصم بن قتادہ نے انہیں بیان کیا کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ مقنع کی تیمارداری کرنے کے لیے گئے اور کہا: میں یہیں بیٹھا رہوں گا جب تک تو سینگی نہیں لگوائے گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بےشک اس میں شفا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1607]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 864