سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
سینگی لگوانا
ترقیم الباني: 4035 ترقیم فقہی: -- 1608
- (إن كان في شيءٍ شفاءٌ؛ ففي شرطةِ مِحْجَمٍ، أو شَرْبَةِ عَسَلٍ، أو كَيّةٍ تصيبُ ألماً، وأنا أكرهُ الكيَّ ولا أحبُّه)
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں شفا ہے تو وہ سینگی لگوانے میں، شہد پینے میں یا داغنے میں ہے، لیکن میں داغنے کو مکروہ سمجھتا ہوں اور اسے پسند نہیں کرتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1608]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 4035
ترقیم الباني: 766 ترقیم فقہی: -- 1609
-" الحجامة على الريق أمثل وفيه شفاء وبركة وتزيد في العقل وفي الحفظ، فاحتجموا على بركة الله يوم الخميس، واجتنبوا الحجامة يوم الأربعاء والجمعة والسبت ويوم الأحد تحريا، واحتجموا يوم الاثنين والثلاثاء، فإنه اليوم الذي عافى الله فيه أيوب من البلاء وضربه بالبلاء يوم الأربعاء، فإنه لا يبدو جذام ولا برص إلا يوم الأربعاء أو ليلة الأربعاء".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نافع! میرے خون میں حدت پیدا ہو گئی ہے، کوئی پچھنے لگانے والا آدمی تلاش کر کے لاؤ، کوشش کرنا کہ وہ نرمی والا ہو اور بوڑھا ہو نہ کہ بچہ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”نہار منہ سینگی لگوانا افضل ہے، اس میں شفا اور برکت ہوتی ہے اور عقل اور ضبط میں اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ کا نام لے کر جمعرات والے دن سینگی لگواؤ۔ بدھ، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو سینگی لگوانے سے گریز کرو، سوموار اور منگل کو پچھنے لگوایا کرو، کیونکہ اللہ تعالی نے اس دن میں ایوب علیہ السلام کو بیماری سے شفا دی تھی اور بدھ والے دن ان میں آزمائش میں مبتلا کیا تھا۔ کوڑھ پن اور پھلبہری بھی بدھ والے دن یا رات کو ہی ظاہر ہوتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1609]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 766
ترقیم الباني: 622 ترقیم فقہی: -- 1609M
-" من احتجم لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين كان شفاء من كل داء".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (چاند کی) سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو سینگی لگوائی تو یہ ہر بیماری سے شفا ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1609M]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 622
ترقیم الباني: 908 ترقیم فقہی: -- 1610
-" كان يحتجم على الأخدعين والكاهل وكان يحتجم لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب دو پوشیدہ رگوں اور پیٹھ کے بالائی حصے پر سینگی لگواتے تھے اور (چاند کی) سترھویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنے لگواتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1610]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 908
ترقیم الباني: 753 ترقیم فقہی: -- 1611
-" كان يحتجم في رأسه، ويسميه أم مغيث".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر میں سینگی لگواتے تھے اور اسے ام مغیث کہتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1611]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 753
ترقیم الباني: 1053 ترقیم فقہی: -- 1612
-" خير ما تداويتم به الحجامة".
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین چیز جس سے تم علاج کرتے ہو، وہ پچھنے لگوانا ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1612]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1053
ترقیم الباني: 1054 ترقیم فقہی: -- 1613
-" خير ما تداويتم به الحجامة والقسط البحري، ولا تعذبوا صبيانكم بالغمز".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین چیز جس سے تم علاج کرتے ہو، وہ سینگی لگوانا اور قسط بحری ہیں۔ اپنے بچوں کو چوکا دے کر تکلیف نہ دیا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1613]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1054
ترقیم الباني: 1847 ترقیم فقہی: -- 1614
-" خير يوم تحتجمون فيه سبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين، وما مررت بملأ من الملائكة ليلة أسري بي إلا قالوا: عليك بالحجامة يا محمد!".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دن جس میں تمہیں سینگی لگوانی چاہیے، وہ (چاند کا) سترھواں، انیسواں اور اکیسواں دن ہے۔ میں معراج والی رات فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے بھی گزرا، اس نے یہی کہا: اے محمد! سینگی لگوانے کا اہتمام ضرور کرنا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1614]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1847
علاج کرانا مسنون عمل ہے
ترقیم الباني: 2873 ترقیم فقہی: -- 1615
-" ألا تدعو له طبيبا".
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا: ”تم اس کے لیے کوئی ڈاکٹر کیوں نہیں بلواتے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی ہم کو یہ حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی نے جو بیماری اتاری ہے، اس کی دوا بھی نازل کی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1615]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2873
ترقیم الباني: 518 ترقیم فقہی: -- 1616
-" إن الله عز وجل لم ينزل داء إلا أنزل له شفاء إلا الهرم، فعليكم بألبان البقر، فإنها ترم من كل الشجر".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی نے بڑھاپے کے علاوہ ہر بیماری کا علاج نازل کیا ہے۔ گائیوں کا دودھ لازمی طور پر استعمال کیا کرو، کیونکہ یہ ہر قسم کا درخت چرتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1616]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 518