سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
اصل معالج اللہ تعالیٰ خود ہے
ترقیم الباني: 1537 ترقیم فقہی: -- 1637
-" الله الطبيب، بل أنت رجل رفيق، طبيبها الذي خلقها".
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ چیز (یعنی مہر نبوت) جو آپ کی کمر پر ہے، مجھے دکھائیے، میں طبیب ہوں (اس کا علاج کرتا ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ طبیب ہے، تو تو شفیق ہے، اس کا طبیب وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1637]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1537
گائے کا دودھ شفا، گھی دوا اور گوشت بیماری ہے
ترقیم الباني: 1533 ترقیم فقہی: -- 1638
-" ألبانها شفاء وسمنها دواء ولحومها داء. يعني البقر".
زہیر بن معاویہ اپنی بیوی سے روایت کرتے ہیں، اس نے ملیکہ بنت عمر سے سنا، راوی نے یہ بات بھی ذکر کی کہ اس نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں مالکوں کو ان کی بکریاں واپس کر دی تھیں۔ بہرحال ملیکہ نے اسے کسی تکلیف (کے علاج) کے لیے گائے کا گھی استعمال کرنے کی تجویز دی تھی اور کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گائیوں کا دودھ شفا ہے، ان کا گھی دوا ہے اور ان کا گوشت بیماری ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1638]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1533
ترقیم الباني: 518 ترقیم فقہی: -- 1639
-" إن الله عز وجل لم ينزل داء إلا أنزل له شفاء إلا الهرم، فعليكم بألبان البقر، فإنها ترم من كل الشجر".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے کے علاوہ ہر بیماری کا علاج نازل کیا ہے، گائیوں کا دودھ لازمی طور پر استعمال کیا کرو، کیونکہ یہ ہر قسم کا درخت چرتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1639]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 518
ترقیم الباني: 1943 ترقیم فقہی: -- 1640
-" عليكم بألبان البقر، فإنها ترم من كل شجر، وهو شفاء من كل داء".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گائیوں کا دودھ استعمال کیا کرو، کیونکہ یہ ہر قسم کا درخت کھاتی ہے، (اس کا دودھ) ہر بیماری سے شفا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1640]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1943
موت لاعلاج بیماری ہے
ترقیم الباني: 1650 ترقیم فقہی: -- 1641
-" إن الله لم ينزل داء أو لم يخلق داء إلا أنزل أو خلق له دواء، علمه من علمه وجهله من جهله إلا السام، قالوا: يا رسول الله وما السام؟ قال: الموت".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے جو بیماری نازل کی، بعض کو اس کا علم ہو گیا اور بعض کو نہ ہو سکا، ماسوائے «سام» کے۔“ انہوں نے کہا: «سام» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1641]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1650
آیا کوئی چیز منحوس ہے؟
ترقیم الباني: 442 ترقیم فقہی: -- 1642
-" إن يك من الشؤم شيء حق ففي المرأة والفرس والدار".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں نحوست کا ہونا درست ہوتا تو وہ بیوی، گھوڑے اور گھر میں ہوتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1642]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 442
ترقیم الباني: 1897 ترقیم فقہی: -- 1643
-" الشؤم في الدار والمرأة والفرس".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھر، بیوی اور گھوڑے میں نحوست ہوتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1643]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1897
ترقیم الباني: 1930 ترقیم فقہی: -- 1644
-" لا شؤم، وقد يكون اليمن في ثلاثة: في المرأة والفرس والدار".
سیدنا مخمر بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”کوئی نحوست نہیں، البتہ تین چیزوں میں خیر و برکت ہوتی ہے، یعنی بیوی، گھوڑے اور گھر میں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1644]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1930
زمزم کھانے کا کھانا ہے
ترقیم الباني: 3585 ترقیم فقہی: -- 1645
- (إنها مباركة، إنها طعامُ طُعْمٍ).
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ برکت والا ہے اور یہ کھانے کا کھانا ہے۔“ آپ رضی اللہ عنہ کی مراد زمزم کا پانی تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1645]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3585
عرق النسا اور اس کا علاج
ترقیم الباني: 1899 ترقیم فقہی: -- 1646
-" شفاء عرق النساء ألية شاة أعرابية، تذاب، ثم تقسم ثلاثة أجزاء، يشربه ثلاثة أيام على الريق، كل يوم جزء".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرق النسا سے شفا حاصل کرنے کے لیے جنگلی بکری کے چوتڑ کو پگھلایا جائے، پھر اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے اور مریض نہار منہ تین دن یعنی ہر روز ایک حصہ پیئے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1646]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1899