سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
بیماری کی وجہ سے منقطع ہونے والے اعمال کا اجر و ثواب ملتا رہتا ہے
ترقیم الباني: 1232 ترقیم فقہی: -- 1578
-" إذا اشتكى العبد المسلم قال الله تعالى للذين يكتبون: اكتبوا له أفضل ما كان يعمل إذا كان طلقا حتى أطلقه".
سیدنا ابوبکر بن عیاش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ابوحصین کے پاس ان کی تیمارداری کرنے کے لئے گئے، عاصم بھی ہمارے ہمراہ تھے۔ ابوحصین نے عاصم سے کہا: کوئی حدیث یاد ہے، جو ہمیں قاسم بن مخیمرہ نے بیان کی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان آدمی بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اعمال لکھنے والے فرشتوں سے کہتے ہیں: یہ بندہ اپنی صحت مندی میں جو بہترین اعمال کرتا تھا، ان کے مطابق (اس کا اجر و ثواب) لکھتے جاؤ، یہاں تک میں اسے شفا عطاء کر دوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1578]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1232
بیماری گناہوں کا کفارہ ہے
ترقیم الباني: 1257 ترقیم فقہی: -- 1579
-" إذا اشتكى المؤمن أخلصه الله كما يخلص الكير خبث الحديد".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مومن بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے (گناہوں سے) یوں صاف کر دیتا ہے، جیسے دھونکنی لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1579]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1257
ترقیم الباني: 1215 ترقیم فقہی: -- 1580
-" لا تسبي الحمى فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد".
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سائب یا ام مسیب کے پاس گئے اور فرمایا: ”تجھے کیا ہو گیا ہے؟ تو کانپ رہی ہے؟“ اس نے کہا: بخار ہے، اللہ اس میں برکت نہ کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار کو گالی نہ دیا کر، کیونکہ یہ بنو آدم کے گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے، جیسے دھونکنی لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1580]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1215
ترقیم الباني: 2503 ترقیم فقہی: -- 1581
-" ما يصيب المؤمن من وصب ولا نصب ولا سقم ولا حزن حتى الهم يهمه إلا كفر به من سيئاته".
سیدنا ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مسلمان کو جو بھی بیماری، تکان اور تکلیف اور غم پہنچتا ہے، حتی کہ وہ فکرمند ہوتا ہے، اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1581]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2503
بیماری کو برا بھلا نہ کہا جائے
ترقیم الباني: 1215 ترقیم فقہی: -- 1582
-" لا تسبي الحمى فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سائب یا ام مسیب کے پاس گئے اور فرمایا: ”تجھے کیا ہو گیا ہے؟ تو کانپ رہی ہے؟“ اس نے کہا: بخار ہے، اللہ اس میں برکت نہ کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار کو گالی نہ دیا کر، کیونکہ یہ بنو آدم کے گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے، جیسے دھونکنی لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1582]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1215
تیمارداری کرنے والا مریض کو کون سی دعا دے؟
ترقیم الباني: 1304 ترقیم فقہی: -- 1583
-" إذا جاء الرجل يعود مريضا فليقل: اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى صلاة، وفي رواية: إلى جنازة".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی مریض کی تیماداری کے لئے آئے تو ان الفاظ میں دعا کرے: اے اللہ اپنے بندے کو شفاء دے، تاکہ تیرے دشمن کا مقابلہ کرے یا تیری خشنودی کی خاطر نماز کے لئے جائے (ایک روایت میں ہے کہ نماز جنازہ کی طرف جائے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1583]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1304
بخار کے علاج کے لئے نہانا
ترقیم الباني: 1310 ترقیم فقہی: -- 1584
-" إذا حم أحدكم فليسن عليه الماء البارد ثلاث ليال من السحر".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی کو بخار ہو جائے تو تین رات سحری کو وقت اپنے جسم پر ٹھنڈا پانی بہائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1584]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1310
دم بھی ایک علاج ہے
ترقیم الباني: 1931 ترقیم فقہی: -- 1585
-" عالجيها بكتاب الله".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور ایک عورت میرا علاج کر رہی تھی یا دم کر رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب سے اس کا علاج کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1585]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1931
اچھی فال لینا
ترقیم الباني: 2949 ترقیم فقہی: -- 1586
-" لا شيء في الهام، والعين حق، وأصدق الطير الفأل".
حیہ بن حابس تیمی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الو میں کوئی نحوست نہیں ہے، نظر لگ جانا برحق ہے اور سب سے اچھا شگون فال لینا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1586]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2949
ترقیم الباني: 2576 ترقیم فقہی: -- 1587
-" أصدق الطيرة الفأل، والعين حق".
سیدنا محمد بن قیس سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: فال تو تین چیزوں میں: گھر، گھوڑے اور بیوی میں ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: (اگر میں ہاں میں جواب دوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ بات منسوب کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی۔ البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا تھا: ”سب سے بہترین شگون اچھی فال ہے اور نظر لگ جانا حق ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1587]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2576