سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
علاج کرانا مسنون عمل ہے
ترقیم الباني: 451 ترقیم فقہی: -- 1617
-" ما أنزل الله داء، إلا قد أنزل له شفاء، علمه من علمه، وجهله من جهله".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی نے جو بیماری نازل کی اس کی دوا بھی اتاری، کسی کو اس کا علم ہو گیا اور کسی کو نہ ہو سکا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1617]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 451
ترقیم الباني: 1650 ترقیم فقہی: -- 1618
-" إن الله لم ينزل داء أو لم يخلق داء إلا أنزل أو خلق له دواء، علمه من علمه وجهله من جهله إلا السام، قالوا: يا رسول الله وما السام؟ قال: الموت".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے جو بیماری نازل کی، اس کی دوا بھی پیدا کی، بعض کو اس کا علم ہو گیا اور بعض کو نہ ہو سکا، ماسوائے «سام» کے۔“ انہوں نے کہا: «سام» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1618]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1650
ترقیم الباني: 1633 ترقیم فقہی: -- 1619
-" إن الله خلق الداء والدواء، فتداووا، ولا تتداووا بحرام".
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے بیماری اور اس کی شفا دونوں چیزیں نازل کی ہیں، اس لیے تم علاج کیا کرو، لیکن حرام چیز کو بطور دوا استعمال نہ کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1619]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1633
ترقیم الباني: 517 ترقیم فقہی: -- 1620
-" سبحان الله! وهل أنزل الله من داء في الأرض إلا جعل له شفاء".
ایک انصاری صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک زخمی کی تیمارداری کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اس کے لیے فلاں قبیلے کا طبیب بلاؤ۔“ انہوں نے اسے بلایا، وہ آ گیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! کیا دوا بھی کفایت کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے زمین میں جو بیماری نازل کی ہے، اس سے شفا حاصل کرنے کے لیے (دوا بھی) نازل کی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1620]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 517
اہلیت کے بغیر علاج کرنا منع ہے
ترقیم الباني: 635 ترقیم فقہی: -- 1621
-" من تطبب ولا يعلم منه طب، فهو ضامن".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (ڈاکٹری کے کامل علم کے بغیر) علاج کیا اور اس کی طب معروف نہیں تھی تو وہ (نقصان ہونے کی صورت میں) خود ذمہ دار ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1621]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 635
حرام سے شفا حاصل کرنا
ترقیم الباني: 2881 ترقیم فقہی: -- 1622
-" من تداوى بحرام لم يجعل الله له فيه شفاء".
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حرام چیز کے ساتھ علاج کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس میں شفا نہیں بنائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1622]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2881
ترقیم الباني: 1633 ترقیم فقہی: -- 1623
-" إن الله خلق الداء والدواء، فتداووا، ولا تتداووا بحرام".
سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے بیماری اور اس کی شفا دونوں چیزیں نازل کی ہیں، اس لیے تم علاج کیا کرو، لیکن حرام چیز کو بطور دوا استعمال نہ کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1623]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1633
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک میں شفا تھی
ترقیم الباني: 2904 ترقیم فقہی: -- 1624
-" تفل صلى الله عليه وسلم في رجل عمرو بن معاذ حين قطعت رجله، فبرأت".
سیدنا عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ سیدنا عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ٹانگ کٹ گئی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تھوکا تو وہ شفایاب ہو گئی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1624]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2904
کلونجی میں شفا ہے
ترقیم الباني: 1819 ترقیم فقہی: -- 1625
-" الحبة السوداء شفاء من كل داء إلا السام".
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کالے دانے یعنی کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1625]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1819
ترقیم الباني: 859 ترقیم فقہی: -- 1626
-" في الحبة السوداء شفاء من كل داء إلا السام".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کالے دانے یعنی کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1626]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 859