سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
میت کے لیے چالیس مومنوں کی سفارش قبول ہوتی ہے
ترقیم الباني: 2267 ترقیم فقہی: -- 1769
-" ما من أربعين من مؤمن يشفعون لمؤمن، إلا شفعهم الله فيه".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام بیان کرتا ہے کہ عبداللہ کا بیٹا فوت ہو گیا، انہوں نے مجھے کہا: کریب! ذرا اٹھو اور دیکھ کر آؤ کہ کیا میرے بیٹے (کی نماز جنازہ) کے لیے کوئی آیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اوہو! تو ہلاک ہو جائے، وہ ہیں کتنے . . . چالیس ہیں؟ میں نے کہا: چالیس سے تو زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا: میرے بیٹے کی میت کو اٹھاؤ، میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اگر چالیس مومن کسی مومن (کی مغفرت) کی سفارش کریں تو اللہ تعالیٰ میت کے حق میں ان کی یہ سفارش قبول فرما لیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1769]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2267
تعزیت کرنے کا اجر و ثواب
ترقیم الباني: 195 ترقیم فقہی: -- 1770
-"ما من مؤمن يعزي اخاه بمصيبة إلا كساه الله سبحانه من حلل الكرامة يوم القيامة".
محمد بن عمرو بن حزم روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مومن اپنے بھائی کی مصیبت پر اس کی تعزیت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت و شرافعت کی عمدہ پوشاک پہنائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1770]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 195
فوت ہونے والے نابالغ بچے اپنے والدین کی بخشش کا سبب بنتے ہیں
ترقیم الباني: 2260 ترقیم فقہی: -- 1771
-" ما من مسلمين يموت لهما ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث إلا أدخلهما الله الجنة بفضل رحمته إياهم. وما من مسلم ينفق من زوجين من ماله في سبيل الله إلا ابتدره حجبة الجنة (كلهم يدعوه إلى ما قبله) ".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن مسلمان والدین کے تین بیٹے جو بالغ نہ ہوئے ہوں، فوت ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کرنے کی وجہ سے ایسے والدین کو جنت میں داخل کر دیتے ہیں اور جو مسلمان اللہ کے راستے میں مال کا جوڑا خرچ کرتا ہے، جنت کے دربان اس کی طرف لپک کر آتے ہیں اور اسے اپنی سمت والی نعمتوں کی طرف بلاتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1771]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2260
ترقیم الباني: 2296 ترقیم فقہی: -- 1772
-" من أثكل ثلاثة من صلبه فاحتسبهم على الله وجبت له الجنة".
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے تین بیٹے فوت ہو جائیں اور وہ اپنی اولاد کی وفات پر اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید کرتے ہوئے صبر کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1772]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2296
ترقیم الباني: 2302 ترقیم فقہی: -- 1773
-" من احتسب ثلاثة من صلبه دخل الجنة، فقالت امرأة: أو اثنان؟ قال: أو اثنان".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اپنے تین بیٹوں کے فوت ہو جانے پر ثواب کی توقع رکھتے ہوئے صبر کرتا ہے تو جنت میں داخل ہوگا۔“ ایک عورت نے کہا: آیا دو بیٹوں پر بھی(یہی خوشخبری ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں دو بیٹوں پر بھی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1773]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2302
آدمی کے مال، اہل اور عمل کی مثال
ترقیم الباني: 2481 ترقیم فقہی: -- 1774
-" مثل المؤمن ومثل الموت، كمثل رجل له ثلاثة أخلاء، أحدهم ماله، قال: خذ ما شئت، وقال الآخر: أنا معك فإذا مت أنزلتك. وقال الآخر: أن معك وأخرج معك، فأحدهم ماله والآخر أهله وولده والآخر عمله".
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن اور موت کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے تین دوست ہوں، ان میں سے پہلا دوست کہے: اپنی چاہت کے مطابق لے لے، دوسرا کہے: میں تیرے ساتھ ہوں لیکن جب تو مر جائے گا تو میں تجھے اتار دوں گا (اور تجھ سے علیحدہ ہو جاؤں گا)، تیسرا کہے: میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے ساتھ ہی نکلوں گا۔ پہلا دوست مال، دوسرا آل اولاد اور تیسرا عمل ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1774]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2481
سوتے وقت ہاتھوں کو صاف کرنا
ترقیم الباني: 2956 ترقیم فقہی: -- 1775
-" من بات وفي يده غمر (¬1) ، فأصابه شيء فلا يلومن إلا نفسه". هو من حديث ابن عباس رضي الله عنهما، وله عنه طريقان: ¬ (¬1) في" القاموس":" بالتحريك: زنخ اللحم". اهـ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی اس حال میں رات گزارے کہ اس کے ہاتھ پر گوشت کی چکناہٹ لگی ہے اور اسے اس وجہ سے کسی (جانور کے کاٹنے وغیرہ کی صورت میں) نقصان ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو ملامت کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1775]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2956
مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنا کیسا ہے؟
ترقیم الباني: 2351 ترقیم فقہی: -- 1776
-" من صلى على جنازة في المسجد، فليس له شيء".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مسجد میں نماز جنازہ ادا کی اسے کوئی اجر و ثواب نہیں ملے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1776]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2351
عورتوں کا نماز جنازہ میں شریک ہونا کیسا ہے؟
ترقیم الباني: 3012 ترقیم فقہی: -- 1777
- (نهى عنِ اتِّباعِ النساءِ الجنائزَ، وقال: ليسَ لَهُنَّ في ذلك أجرٌ) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو جنازوں کے پیچھے چلنے سے منع کیا اور فرمایا: ”اس چیز میں ان کے لیے کوئی اجر نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1777]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3012
مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے
ترقیم الباني: 2397 ترقیم فقہی: -- 1778
-" نهى عن سب الأموات".
زیادہ بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالى عنہ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: اے مغیرہ! کیا تو نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو گالی دینے سے منع فرمایا؟ اب تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ان کے فوت ہو چکنے کے بعد سب و شتم کیوں کرتا ہے؟ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1778]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2397