سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
معذب اقوام کی جائے عذاب سے کیسے گزرا جائے؟
ترقیم الباني: 19 ترقیم فقہی: -- 2294
-" لا تدخلوا على هؤلاء القوم المعذبين إلا أن تكونوا باكين، فإن لم تكونوا باكين فلا تدخلوا عليهم أن يصيبكم ما أصابهم".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر مقام کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”جن مقامات میں گزشتہ اقوام کو عذاب دیا گیا وہاں داخل نہ ہوا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی اسی عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔“ پھر آپ نے کجاوہ پر بیٹھے بیٹھے اپنی چادر اوپر اوڑھ لی۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2294]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 19
اگر اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے پیار ہے، تو جہنم کا کیا تُک ہے؟
ترقیم الباني: 2407 ترقیم فقہی: -- 2295
-" والله، لا يلقي الله حبيبه في النار".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض صحابہ کے پاس سے گزرے اور وہاں ایک بچہ راستے کے وسط میں کھڑا تھا۔ جب اس کی ماں نے چوپائیوں کو آتے دیکھا تو اسے یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ وہ بچے کو روند ڈالیں گے، اس لیے وہ بدحواسی کے عالم میں یہ کہتے ہوئے بھاگ پڑی: میرا بچہ! میرا بچہ! اتنے میں اس نے اپنا بچہ اٹھا لیا۔ صحابہ نے (یہ منظر دیکھ کر) کہا: اے اللہ کے نبی! کیا یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں پھینک سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اللہ کی قسم! نہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے کو آگ میں نہیں پھینکے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2295]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2407
عبادات کے باوجود ڈرنے کا کیا مفہوم ہے؟ کثرت عبادت مزید عبادت کا سبب بنتی ہے
ترقیم الباني: 162 ترقیم فقہی: -- 2296
-" لا يا بنت الصديق، ولكنهم الذين يصومون ويصلون ويتصدقون وهم يخافون أن لا يقبل منهم أولئك الذين يسارعون في الخيرات".
زوجہ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا: «وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ» ”اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں۔“ (۲۳-المؤمنون:۶۰) میں نے کہا: (اے اللہ کے رسول!) کیا اس آیت کا مصداق شراب پینے والے، چوری کرنے والے لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اے بنت صدیق! اس آیت سے مراد وہ لوگ ہیں جو روزے بھی رکھتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں اور صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اعمال قبول ہی نہ ہوں۔ «أُولَـئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ» یہی لوگ ہیں جو جلدی جلدی بھلائیاں حاصل کرتے ہیں۔“ (۲۳-المؤمنون:۶۱) [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2296]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 162
اللہ تعالیٰ نے دین حق کی کیسے حفاظت کی؟
ترقیم الباني: 2442 ترقیم فقہی: -- 2297
-" لا يزال الله يغرس في هذا الدين غرسا يستعملهم في طاعته".
سیدنا ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ اس دین میں ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا، جنہیں وہ اپنی اطاعت و فرمانبرداری کی توفیق دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2297]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2442
مومن اپنے آپ کو ذلیل کیسے کرتا ہے؟
ترقیم الباني: 613 ترقیم فقہی: -- 2298
-" لا ينبغي لمؤمن أن يذل نفسه، قالوا: وكيف يذل نفسه؟ قال: يتعرض من البلاء ما لا يطيق".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات مومن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرتا پھرے۔“ صحابہ نے عرض کی: آدمی اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ ایسی آزمائشوں کے درپے ہو جاتا ہے کہ جن کی اس میں طاقت نہیں ہوتی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2298]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 613
بخل مہلک ہے، ظلم کی تعریف اور اس کا انجام بد
ترقیم الباني: 858 ترقیم فقہی: -- 2299
-" اتقوا الظلم، فإن الظلم ظلمات يوم القيامة، واتقوا الشح، فإن الشح أهلك من كان قبلكم حملهم على أن سفكوا دماءهم واستحلوا محارمهم".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم کرنے سے بچو! اس لیے کہ ظلم قیامت والے دن (کئی) ظلمتوں کا باعث بنے گا اور بخل سے بچو! اس لیے کہ بخل نے ہی تم سے پہلے والے لوگوں کو ہلاک کیا۔ اس بخل نے انہیں اپنوں کا خون بہانے پر اور حرام چیزوں کو حلال سمجھنے پر آمادہ کیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2299]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 858
بخل کو کیسے دور کیا جائے؟ مال کے ذریعے عذاب سے چھٹکارا حاصل کرنا
ترقیم الباني: 377 ترقیم فقہی: -- 2300
-" يا أيها الناس ابتاعوا أنفسكم من الله من مال الله، فإن بخل أحدكم أن يعطي ماله للناس فليبدأ بنفسه وليتصدق على نفسه فليأكل وليكتس مما رزقه الله عز وجل".
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! اللہ تعالیٰ سے اس کے مال کے عوض اپنے نفس خرید لو، اگر کوئی آدمی لوگوں کو اپنا مال دینے کے معاملے میں کنجوسی کرے تو اپنے اوپر خرچ کرنا شروع کر دے اور اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے میں سے کھائے پئے اور ملبوسات زیب تن کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2300]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 377
جہاد، روزے اور صدقے کی فضیلت، اچھا بول غنیمت ہے، وگرنہ خاموشی سلامت ہے، زبان کے بول باعث جہنمم ہیں
ترقیم الباني: 412 ترقیم فقہی: -- 2301
-" يا معاذ ثكلتك أمك، وهل يكب الناس على مناخرهم في جهنم إلا ما نطقت به ألسنتهم، فمن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خير أو يسكت عن شر، قولوا خيرا تغنموا، واسكتوا عن شر تسلموا".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نکلے اور صحابہ کرام آپ کے آگے آگے چل رہے تھے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ مجھے برضا و رغبت اپنی طرف آنے کی اجازت دیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ سیدنا معاذ آپ کے قریب ہو گئے اور دونوں ایک ساتھ چلتے رہے۔ چلتے چلتے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ آپ پر قربان ہو، میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ میری موت کا وقت آپ کی وفات سے پہلے ہو۔ آپ کا کیا خیال کہ اگر (اس کے برعکس) کچھ ہوا تو ہمیں آپ کے بعد کون سے عمل کرنے چاہئیں؟ البتہ فی الحال کوئی علامت نظر تو نہیں آ رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں نے کہا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد تو بہترین عمل ہے، اور جو چیز لوگوں کے پاس ہے وہ اس سے بھی زیادہ نیکیوں کی حفاظت کرنے والی ہے۔“ میں نے کہا: وہ روزے اور صدقات ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”روزے اور صدقہ و خیرات بہترین اعمال ہیں۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ابن آدم کے ہر نیک عمل کا تذکرہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے بھی زیادہ اچھی چیز لوگوں کے پاس موجود ہے۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، کون سی چیز ان سب (اعمال) سے بہتر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً اپنے منہ مبارک کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خیر و بھلائی والے امور کے علاوہ (ہر چیز سے) خاموشی اختیار کرنا۔“ انہوں نے کہا: ہم اپنی زبانوں میں جو گفتگو کرتے ہیں، آیا اس پر ہمارا مؤاخذہ ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کی ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”تیری ماں تجھے گم پائے، یہ زبانوں کے بول ہی ہوں گے جو لوگوں کو ان کے نتھنوں کے بل جہنم میں گرا دیں گے۔ اس لیے جو آدمی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ خیر پر مشتمل بات کرے یا (پھر دوسری) بری باتوں سے خاموش رہے۔ (لوگو!) اچھی باتیں کیا کرو، غنیمت پاؤ گے اور بری باتوں سے رک جایا کرو، محفوظ رہو گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2301]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 412
ریاکاری اور خفیہ شہوت کے بارے میں فکر کرنا
ترقیم الباني: 508 ترقیم فقہی: -- 2302
-" يا نعايا العرب! يا نعايا العرب! ثلاثا، إن أخوف ما أخاف عليكم الرياء والشهوة الخفية".
عباد بن تمیم اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہائے عربوں کی اموات کی اخبار! ہائے عربوں کی اموات کی خبریں! (تین دفعہ یہ آواز دی) مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خوف ریاکاری اور خفیہ شہوت کا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2302]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 508
ادنیٰ مومن بھی پناہ دے سکتا ہے
ترقیم الباني: 2449 ترقیم فقہی: -- 2303
-" يجير على أمتي أدناهم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادنیٰ (مسلمان) بھی میری امت پر پناہ دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2303]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2449