🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
توکل علی اللہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 310 ترقیم فقہی: -- 2264
-" لو أنكم تتوكلون على الله حق توكله لرزقكم كما يرزق الطير، تغدو خماصا، وتروح بطانا".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جیسا کہ اس پر بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح روزی دے گا جیسے وہ پرندوں کو روزی عطا کرتا ہے، جو صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر ہو کر لوٹتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2264]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 310

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مختلف اسباب کی بنا پر ایمان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1965 ترقیم فقہی: -- 2265
-" لو تدومون على ما تكونون عندي في الخلاء لصافحتكم الملائكة حتى تظلكم بأجنحتها عيانا، ولكن ساعة وساعة".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ میں پسندیدہ صفات نظر آتی ہیں، لیکن جب ہم اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹتے ہیں اور ان میں مل جل کر رہتے ہیں تو خود کو گنہگار سمجھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اپنی خلوتوں میں اسی حالت پر قائم رہو جس پر میرے ہاں ہوتے ہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں گے اور اپنے پروں سے تم پر اس طرح سایہ کریں گے کہ ہر کوئی دیکھ سکے گا۔ (دراصل حالات بدلتے رہتے ہیں) کبھی یہ اور کبھی وہ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2265]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1965

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1976 ترقیم فقہی: -- 2266
-" لو تكونون كما تكونون عندي لأظلتكم الملائكة بأجنحتها".
سیدنا حنظلہ اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم لوگ (ایمان و ایقان کی اسی) حالت و کیفیت پر برقرار رہو جس پر میرے پاس ہوتے ہو تو فرشتے تم پر اپنے پروں سے سایہ کرنا شروع کر دیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2266]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1976

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1948 ترقیم فقہی: -- 2267
-" والذي نفسي بيده إن لو تدومون على ما تكونون عندي وفي الذكر، لصافحتكم الملائكة على فرشكم وفي طرقكم، ولكن يا حنظلة! ساعة وساعة، ثلاث مرات".
سیدنا حنظلہ اسدی رضی اللہ عنہ، جو آپ کے کاتبین میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھے کہا: حنظلہ! کیا حال ہے؟ میں نے کہا: حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہوا) کیا کہہ رہے ہو تم؟ میں نے کہا: (حقیقت یہ ہے کہ) جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں، آپ ہم کو جنت و جہنم کے موضوع پر وعظ و نصیحت کرتے ہیں (تو ایسے لگتا ہے کہ) ہم جنت و دوزخ کو روبرو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اپنی آل و اولاد اور مال و منال میں بیٹھتے ہیں تو ہمیں بہت سی چیزیں بھول جاتی ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ شکوہ تو ہمیں بھی ہے، سو میں اور ابوبکر چل پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! حنظلہ تو منافق ہو گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیسے؟“ میں نے کہا: جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہمیں جنت و دوزخ کا وعظ کرتے ہیں (تو ہماری روحانی رغبت و رہبت کی کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ) گویا کہ ہم جنت و جہنم کو دیکھ رہے ہیں، لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اہل و عیال اور ساز و سامان میں مشغول ہو جاتے ہیں تو (ایسی کیفیتوں کو) بھول جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم لوگ اسی حالت پر برقرار رہتے جس پر میرے پاس ہوتے ہو اور اللہ کے ذکر میں محو رہتے تو فرشتے تمہارے بچھونوں اور شاہراہوں پر تم سے مصافحہ کرنے کے لیے آتے۔ لیکن حنظلہ! (حالات بدلتے رہتے ہیں) کبھی یہ حالت ہوتی ہے اور کبھی وہ۔“ آپ نے یہ جملہ تین دفعہ دوہرایا۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2267]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1948

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دل کی کیفیت بدلتی رہتی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2268 ترقیم فقہی: -- 2268
-" ما من القلوب قلب إلا وله سحابة كسحابة القمر، بينا القمر مضيء إذ علته سحابة فأظلم، إذ تجلت عنه فأضاء".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند کے سامنے آ کر (چاند کی روشنی کو ختم یا مدھم کر دینے والی) بدلی کی طرح ہر دل پر (گناہوں کی) بدلی چھا جاتی ہے۔ (تم دیکھتے ہو کہ) چاند چمک رہا ہوتا ہے، اچانک اس کے سامنے بدلی آ جاتی ہے اور وہ تاریک ہو جاتا ہے، جب بدلی سامنے سے ہٹ جاتی ہے تو وہ روشن ہو جاتا ہے (یہی معاملہ دل کا ہے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2268]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2268

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کون سا مال بہتر ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2176 ترقیم فقہی: -- 2269
-" ليتخذ أحدكم قلبا شاكرا ولسانا ذاكرا وزوجة صالحة تعينه على أمر الآخرة".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر کوئی شکر کرنے والے دل، ذکر کرنے والی زبان اور امور آخرت پر تعاون کرنے والی نیک بیوی کا اہتمام کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2269]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2176

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ایک ہی دن میں روزہ رکھنے، مریض کی تیمارداری کرنے، جنازہ پڑھنے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 88 ترقیم فقہی: -- 2270
-" ما اجتمع هذه الخصال في رجل في يوم إلا دخل الجنة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آج تم میں سے کون روزہ دار ہے؟“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آج تم میں سے کس نے مریض کی بیمار پرسی کی ہے؟“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آج تم میں سے کس نے کوئی نماز جنازہ پڑھی ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آج کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ مروان کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں فرمایا: ”جس آدمی میں ایک دن میں یہ صفات جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2270]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 88

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امن، صحت اور بقدر کفایت رزق کى اہمیت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2318 ترقیم فقہی: -- 2271
-" من أصبح منكم آمنا في سربه معافى في جسده عنده قوت يومه، فكأنما حيزت له الدنيا بحذافيرها".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے اس حالت میں صبح کرے کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو، جسمانی لحاظ سے تندرست ہو اور ایک دن کی خوراک اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے دنیا، اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ جمع کر دی گئی ہے۔“ یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن محصن انصارى، سیدنا ابودردا، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا على رضی اللہ عنہم سے مروى ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2271]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2318

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہر آدمی کی اچھی یا بری شہرت کا آغاز آسمان پر ہوتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2275 ترقیم فقہی: -- 2272
-" ما من عبد إلا وله صيت في السماء، فإذا كان صيته في السماء حسنا وضع في الأرض حسنا، وإذا كان صيته في السماء سيئا وضع في الأرض سيئا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر آدمی کی آسمان میں مخصوص شہرت ہوتی ہے، اگر وہ شہرت اچھی ہو تو زمین میں بھی اچھی ہوتی ہے اور اگر آسمان والی شہرت ہی بری ہو تو زمین میں بھی بری ہوتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2272]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2275

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
امت محمدیہ کی مثال بارش کی سی کیوں؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2286 ترقیم فقہی: -- 2273
-" مثل أمتي مثل المطر لا يدرى أوله خير أم آخره؟".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی مثال بارش کی ہے، جس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی ابتدا میں خیر و بھلائی ہے یا انتہا میں؟“ ”یہ حدیث سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا علی بن ابوطالب اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2273]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2286

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں