سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
مومن آزمائشوں سے مفید تاثر لیتا ہے
ترقیم الباني: 2284 ترقیم فقہی: -- 2274
-" مثل المؤمن مثل السنبلة، تميل أحيانا وتقوم أحيانا".
نبى کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کى مثال اس بالى کى طرح ہے جو کبھی ادھر جھکتى ہے، کبھی ادھر جھکتى ہے .“ یہ حدیث سیدنا انس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروى ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2274]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2284
ترقیم الباني: 2283 ترقیم فقہی: -- 2275
-" مثل المؤمن كمثل الخامة من الزرع تميلها الريح مرة هكذا ومرة هكذا ومثل المنافق كمثل الأرزة المجذية (¬1) على الأرض حتى يكون انجعافها مرة".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال اس تروتازہ کھیتی کی مانند ہے جسے ہوائیں ادھر ادھر جھکاتی رہتی ہیں اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو زمین پر سیدھا کھڑا رہتا ہے، حتی کہ ایک ہی دفعہ اچانک اکھاڑ لیا جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2275]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2283
مومن کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے
ترقیم الباني: 2285 ترقیم فقہی: -- 2276
-" مثل المؤمن مثل النخلة، ما أخذت منها من شيء نفعك".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھجور کے درخت کی ہے۔ تم اس سے جو چیز لو گے، وہ تم کو فائدہ دے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2276]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2285
مومنوں کی گزرگاہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا باعث جنت ہے
ترقیم الباني: 2306 ترقیم فقہی: -- 2277
-" من أخرج من طريق المسلمين شيئا يؤذيهم، كتب الله له به حسنة، ومن كتب له عنده حسنة، أدخله الله بها الجنة".
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مسلمانوں کی گزرگاہ سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی لکھے گا اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ نیکی لکھ دیتا ہے اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل کر دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2277]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2306
اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنا مقام معلوم کرنے کا کلیہ
ترقیم الباني: 2310 ترقیم فقہی: -- 2278
-" من أراد أن يعلم ما له عند الله جل ذكره، فلينظر ما لله عز وجل عنده".
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو یہ جاننا چاہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے تو وہ یہ دیکھ کر (اندازہ کر لے) کہ اس کے ہاں اللہ تعالیٰ کا کتنا پاس و لحاظ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2278]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2310
لوگوں کی پروا کیے بغیر اللہ کو راضی کرنے کی برکت، اور اللہ کی پروا کیے بغیر لوگوں کو خوش کرنے کی نحوست
ترقیم الباني: 2311 ترقیم فقہی: -- 2279
-" من أرضى الله بسخط الناس، كفاه الله الناس، ومن أسخط الله برضى الناس، وكله الله إلى الناس".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کو ناراض کر کے اللہ کو راضی کیا، اللہ اسے لوگوں سے کافی ہو جاتا ہے، لیکن جس نے لوگوں کو راضی کرنے کی خاطر اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دیا تو اللہ اسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے (اور خود اس کی کوئی مدد نہیں کرتا)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2279]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2311
جنگل میں مقیم ہونے، شکار کے پیچھے پڑنے اور بادشاہوں کے دروازوں پر آنے کی نحوستیں
ترقیم الباني: 1272 ترقیم فقہی: -- 2280
-" من بدا جفا ومن اتبع الصيد غفل ومن أتى أبواب السطان افتتن وما ازداد أحد من السلطان قربا إلا ازداد من الله بعدا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جنگل میں اقامت اختیار کی، وہ سخت دل ہو گیا جو شکار کے پیچھے چل پڑا وہ غافل ہو گیا، جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنے میں پڑ گیا اور جو آدمی بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا وہ اللہ تعالیٰ سے اتنا ہی دور ہوتا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2280]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1272
باپ کے دوستوں سے تعلقات قائم کرنا نیکی ہے
ترقیم الباني: 2303 ترقیم فقہی: -- 2281
-" من البر أن تصل صديق أبيك".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے باپ کے دوست کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2281]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2303
جنت جیسى انتہائى قیمتى چیز کا حصول مشکل ہوتا ہے
ترقیم الباني: 2335 ترقیم فقہی: -- 2282
-" من خاف أدلج ومن أدلج بلغ المنزل ألا إن سلعة الله غالية ألا إن سلعة الله الجنة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (دشمن کے حملے سے) ڈرا اور رات کے ابتدئى حصے میں نکل گیا اور (یہ حقیقت ہے کہ) جو رات کے ابتدائى حصے میں نکل جاتا ہے، وہ منزل کو پہنچ جاتا ہے، اچھى طرح سن لو کہ اللہ تعالى کا سامان بیش قیمت ہے، خبردار! اللہ کا سامان جنت ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2282]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2335
ترقیم الباني: 954 ترقیم فقہی: -- 2283
-" من خاف أدلج ومن أدلج بلغ المنزل ألا إن سلعة الله تعالى غالية ألا إن سلعة الله الجنة جاءت الراجفة تتبعها الرادفة جاء الموت بما فيه".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (دشمن کے حملے سے) ڈرا اور (اس سے بچنے کے لیے) رات کے ابتدائی حصے میں نکل پڑا اور (حقیقت ہے کہ) جو شخص رات کی ابتدا میں نکل پڑتا ہے، وہ منزل (مقصود) تک پہنچ جاتا ہے، اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ کا سامان گراں قیمت ہے۔ خبردار! اللہ تعالیٰ کا سامان جنت ہے۔ (سنو! کہ) کانپنے والی آ گئی ہے، اس کے بعد آنے والی بھی آ گئی ہے۔ موت سارا کچھ لے کر پہنچ گئی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2283]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 954