سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
مسلمان کی پردہ پوشی کرنے کی فضیلت
ترقیم الباني: 2341 ترقیم فقہی: -- 2284
-" من ستر أخاه المسلم في الدنيا، ستره الله يوم القيامة".
ھبیب اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صحابی کو یہ بات پہنچی کہ فلاں صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتا ہے: ”جس نے دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کے (عیوب کی) پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی پردہ پوشی کرے گا۔“ (اس صحابی نے دوسرے صحابی سے براہ راست یہ حدیث سننے کے لیے) اس کی طرف سفر شروع کر دیا اور وہ مصر میں تھا، بالآخر وہ اس کے پاس پہنچا اور اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا، اس نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا: ”جو دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کے (معائب و نقائص کی) پردہ پوشی کرے گا۔ ”انہوں نے کہا: کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2284]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2341
دو رخے پن کا وبال
ترقیم الباني: 892 ترقیم فقہی: -- 2285
-" من كان له وجهان في الدنيا كان له يوم القيامة لسانان من نار".
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی دنیا میں دو رخا ہو گا، روز قیامت اس کی دو زبانیں آگ کی ہوں گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2285]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 892
اخروی فکر اور دنیوی فکر رکھنے والے سے اللہ تعالیٰ کا معاملہ
ترقیم الباني: 950 ترقیم فقہی: -- 2286
-" من كانت الدنيا همه فرق الله عليه أمره وجعل فقره بين عينيه ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له، ومن كانت الآخرة نيته جمع الله له أمره وجعل غناه في قلبه وأتته الدنيا وهي راغمة".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کا رنج و غم دنیا ہی دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو منتشر کر دیتا ہے، اس کی فقیری و محتاجی کو اس کی آنکھوں کے درمیان رکھ دیتا ہے اور اسے دنیا سے بھی وہی کچھ ملتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔ (لیکن اس کے برعکس) جس آدمی کی فکر آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کے امور کی شیرازہ بندی کر دیتا ہے، اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر (اس کے مقدر کے مطابق) اس کے پاس پہنچ جاتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2286]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 950
ترقیم الباني: 949 ترقیم فقہی: -- 2287
-" من كانت الآخرة همه جعل الله غناه في قلبه وجمع له شمله وأتته الدنيا وهي راغمة، ومن كانت الدنيا همه جعل الله فقره بين عينيه وفرق عليه شمله ولم يأته من الدنيا إلا ما قدر له".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی فکر آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کے دل کو بے نیاز اور غنی کر دیتا ہے، اس کے امور کی شرازہ بندی کرتا ہے اور دنیا عاجز و درماندہ ہو کر اس کے پاس آتی ہے۔ اور جس کی فکر صرف دنیا ہو اللہ تعالیٰ اس کے فقر و فاقہ کو اس کی پیشانی پر رکھ دیتا ہے، اس پر اس کے امور کو منتشر کر دیتا ہے اور اسے دنیا میں سے بھی وہی کچھ ملتا ہے جو اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2287]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 949
اجر و ثواب کا وعدہ تو پورا ہو کر رہے گا، لیکن عذاب و عقاب کا وعدہ . . .
ترقیم الباني: 2463 ترقیم فقہی: -- 2288
-" من وعده الله على عمل ثوابا، فهو منجزه له، ومن وعده على عمل عقابا فهو فيه بالخيار".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جس آدمی سے اس کے نیک عمل پر اجر و ثواب دینے کا وعدہ کیا، وہ اسے (بہرصورت) پورا کرے گا۔ اور جس آدمی سے اس کے برے عمل پر عذاب کا وعدہ کیا تو (اس کے بارے میں) اسے اختیار حاصل ہے (اگر چاہے تو عذاب دے کر وعدہ پورا کر دے اور چاہے تو سرے سے معاف کر دے)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2288]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2463
حرام امور اور زیادہ ہنسنے سے گریز کرنے کے فوائد
ترقیم الباني: 506 ترقیم فقہی: -- 2289
-" لا تكثروا الضحك، فإن كثرة الضحك تميت القلب".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیادہ نہ ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2289]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 506
ترقیم الباني: 930 ترقیم فقہی: -- 2290
-" من يأخذ عني هؤلاء الكلمات فيعمل بهن أو يعلم من يعمل بهن؟ فقال أبو هريرة فقلت: أنا يا رسول الله، فأخذ بيدي فعد خمسا فقال: اتق المحارم تكن أعبد الناس وارض بما قسم الله لك تكن أغنى الناس وأحسن إلى جارك تكن مؤمنا وأحب للناس ما تحب لنفسك تكن مسلما ولا تكثر الضحك، فإن كثرة الضحك تميت القلب".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو مجھ سے ان کلمات کی تعلیم حاصل کرے اور خود ان پر عمل کرے یا ان پر عمل کرنے والے کو سکھا دے؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور شمار کرتے ہوئے پانچ چیزیں بتلائیں، فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے بچو، لوگوں میں سب سے بڑا عبادت گزار بن جاؤ گے۔ اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہو جاؤ، سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے۔ اپنے پڑوسی سے حسن سلوک سے پیش آؤ، مومن بن جاؤ گے۔ لوگوں کے لئے وہی کچھ پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، مسلمان بن جاؤ گے اور کثرت سے ہنسنا ترک کردو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2290]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 930
بنوآدم خاکی ہیں
ترقیم الباني: 1009 ترقیم فقہی: -- 2291
-" الناس ولد آدم، وآدم من تراب".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم کو مٹی سے (پیدا کیا گیا)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2291]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1009
کون سا مومن راہ جنت پر چل رہا ہوتا ہے؟
ترقیم الباني: 2405 ترقیم فقہی: -- 2292
-" والذي نفس محمد بيده، ما من عبد يؤمن، ثم يسدد إلا سلك به في الجنة وأرجو أن لا يدخلوها حتى تبوءوا أنتم ومن صلح من زرياتكم مساكن في الجنة، ولقد وعدني ربي عز وجل أن يدخل الجنة من أمتي سبعين ألفا بغير حساب".
سیدنا رفاعہ بن عمران جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جو بندہ ایمان لاتا ہے اور راہ راست پر گامزن رہتا ہے، (اس کے بارے میں یہ سمجھنا چاہئے کہ) اس کو جنت کی طرف چلا دیا گیا ہے، اور مجھے امید ہے کہ تم اپنی نیک اولاد سمیت جنت میں داخل ہونے سے پہلے (اعمال کے ذریعے) وہاں اپنی رہائش گاہیں بنوا لو گے۔ میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل کرے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2292]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2405
معذب اقوام کی جائے عذاب سے کیسے گزرا جائے؟
ترقیم الباني: 3941 ترقیم فقہی: -- 2293
- (إذا مررتُم على أرضٍ قد أهلكت بها أمَّةٌ من الأمم؛ فأغِذُّوا السَّيْر) .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم ایسی زمین سے گزرو جہاں کوئی امت ہلاک ہوئی ہو، تو تیز چلا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/التوبة والمواعظ والرقائق/حدیث: 2293]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3941