🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
برتری کی بنیاد عمل صالح ہے، بدکلامی اور بخیلی، برے آدمی کی صفات ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1038 ترقیم فقہی: -- 2754
-" إن مسابكم هذه وليست بمساب على أحد وإنما أنتم ولد آدم طف الصاع لم تملئوه ليس لأحد على أحد فضل إلا بدين أو عمل صالح حسب الرجل أن يكون فاحشا بذيا بخيلا جبانا".
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(‏‏‏‏نسب کے بارے میں) تمہارا گالی گلوچ کرنا، کسی کے لیے کوئی عار و شنار والی بات نہیں ہے، کیونکہ تم سارے آدم کی اولاد ہو، اور بھرے ماپ سے کم ہو (‏‏‏‏ یعنی کوئی بھی تم میں پورا کامل نہیں، ہر ایک میں کچھ نہ کچھ نقص ہے) اور کسی کو کسی پر کوئی فضیلت و برتری حاصل نہیں، مگر دین اور عمل صالح کی بنا پر۔ آدمی کے (‏‏‏‏برا ہونے کے لیے) یہی کافی ہے کہ وہ فحش گو، بدکلام، بداخلاق، بخیل اور بزدل ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2754]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1038

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بیان، جادو کی طرح مؤثر ہو سکتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1731 ترقیم فقہی: -- 2755
-" إن من البيان سحرا وإن من الشعر حكما".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدو آیا اور انتہائی واضح انداز میں کلام کیا (مسند احمد کی روایت میں ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کرنے لگا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”‏‏‏‏بعض فصیحانہ کلام تو جادو کا اثر رکھتے ہیں اور بعض اشعار، ‏‏‏‏حکمت و دانائی سے لبریز ہوتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2755]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1731

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شعر، حکمت و دانائی پر مشتمل ہو سکتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2851 ترقیم فقہی: -- 2756
-" إن من الشعر حكمة".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض اشعار، حکمت و دانائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2756]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2851

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1731 ترقیم فقہی: -- 2757
-" إن من البيان سحرا وإن من الشعر حكما".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انتہائی واضح انداز میں کلام کیا (‏‏‏‏مسند احمد کی روایت میں ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کرنے لگا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض فصیحانہ کلام تو جادو کا اثر رکھتے ہیں اور بعض اشعار، حکمت و دانائی سے لبریز ہوتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2757]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1731

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شعر اور نثر میں فرق
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 447 ترقیم فقہی: -- 2758
-" الشعر بمنزلة الكلام حسنه كحسن الكلام وقبيحه كقبيح الكلام".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اشعار، عام (‏‏‏‏نثر) کلام کی طرح ہیں، یعنی اچھے اشعار، اچھے کلام کی طرح ہیں اور برے اشعار، برے کلام کی طرح ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2758]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 447

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
برے اشعار کی مذمت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 336 ترقیم فقہی: -- 2759
-" لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا حتى يريه، خير له من أن يمتلئ شعرا".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی کا پیٹ پیپ سے لبالب بھر جائے حتیٰ کہ اسے دکھائی دینے لگے، تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعروں سے بھرا ہوا ہو۔“ یہ حدیث کئی صحابہ کرام، مثلا سیدنا ابوہریرہ، سیدنا عبدالله بن عمر، سیدنا سعد بن ابو وقاص اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2759]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 336

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سلام اور آمین پر یہودیوں کا حسد کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 691 ترقیم فقہی: -- 2760
-" إن اليهود قوم حسد وإنهم لا يحسدوننا على شيء كما يحسدونا على السلام وعلى (آمين) ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور (السلام علیکم کے بجائے) کہا: اے محمد! «اَلسَّامُ عَلَيْكُم» (یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں جواب دیا: ” «وعليك» (‏‏‏‏اور تجھ پر بھی ہو)۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کریں گے، اس لیے میں خاموش رہی۔ دوسرا یہودی آیا اور کہا: «اَلسَّامُ عَلَيْكُم» (آپ پر موت اور ہلاکت پڑے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وعليك» (‏‏‏‏اور تجھ پر بھی ہو)۔“ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناپسند کرنے کی وجہ سے (‏‏‏‏خاموش رہی)۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا: «اَلسَّامُ عَلَيْكُم» ۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں بول اٹھی: بندرو اور خنزیرو! تم پر ہلاکت ہو، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ جس انداز میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام نہیں دیا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(‏‏‏‏عائشہ!) اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا، ان (‏‏‏‏یہودیوں نے «اَلسَّامُ عَلَيْكُم» کہا اور ہم نے بھی (‏‏‏‏بدگوئی سے بچتے ہوئے صرف «وعليك»، کہہ کر) جواب دے دیا۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور (‏‏‏‏ ‏‏‏‏ہماری کسی) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2760]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 691

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
صحابہ کا اپنی پسند و ناپسند پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ترجیح دینا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 293 ترقیم فقہی: -- 2761
-" أنا أكبر منك سنا، والعيال على الله ورسوله، وأما الغيرة، فأرجو الله أن يذهبها".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو (‏‏‏‏ ‏‏‏‏‏‏‏‏ان کی بیوی) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ مجھے کس کے سپرد کر کے جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے اللہ! بیشک تو ام سلمہ کے حق میں مجھ سے بہتر ہے۔ جب وہ فوت ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ کو پیغام نکاح بھیجا۔ انہوں نے جواباً کہا: میری عمر زیادہ ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھ سے بڑا ہوں، تیرے بچے اللہ اور اس کے رسول کے سپرد اور رہا مسئلہ جوش و ناگواری (‏‏‏‏اور غصے میں آ جانے کا) تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دے گا۔“ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کر لی اور ان کی طرف دو چکیاں اور پانی کا ایک گھڑا بھیجا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2761]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 293

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جھگڑا اور مذاق ترک کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 273 ترقیم فقہی: -- 2762
-" أنا زعيم بيت في ربض الجنة لمن ترك المراء وإن كان محقا، وبيت في وسط الجنة لمن ترك الكذب وإن كان مازحا، وبيت في أعلى الجنة لمن حسن خلق".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس شخص کو جنت کے اطراف میں ایک گھر کی ضمانت دوں گا، جس نے حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دیا (‏‏‏‏اور اپنے حق سے دستبردار ہو گیا) اور اس شخص کے لیے جنت کے درمیان میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس نے مزاح کے طور پر بھی جھوٹ نہیں بولا اور اس شخص کے لیے جنت کے بلند ترین حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس کا اخلاق اچھا ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2762]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 273

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بے پردگی منع ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1706 ترقیم فقہی: -- 2763
-" إنا نهينا أن ترى عوراتنا".
سیدنا جابر بن صخر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ہمارے قابل ستر اعضائے جسم کو دیکھا جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2763]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1706

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں