🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اہم شاہراہوں پر رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہئے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2433 ترقیم فقہی: -- 2734
-" لا تنزلوا على جواد الطرق، ولا تقضوا عليها الحاجات".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمدہ راستوں (‏‏‏‏اہم شاہراہوں) پر پڑاؤ مت ڈالو اور نہ ہی ان پر اپنی ضرورتیں پوری کرنا شروع کر دو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2734]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2433

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
دلوں کو نرم کرنے کا نبوی نسخہ
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 854 ترقیم فقہی: -- 2735
-" إن أردت تليين قلبك، فأطعم المسكين وامسح رأس اليتيم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سنگدلی کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ”‏‏‏‏اگر تو دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلایا کر اور یتیم پر دست شفقت رکھا کر۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2735]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 854

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ایک مجرم کی وجہ سے پورے قبیلے کی مذمت کرنا سنگین جرم ہے، حقیقی باپ سے نسبت کی نفی کرنا سنگین جرم ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 763 ترقیم فقہی: -- 2736
-" إن أعظم الناس جرما إنسان شاعر يهجو القبيلة من أسرها ورجل تنفى من أبيه".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں میں سب سے بڑا مجرم وہ شاعر ہے جو پورے قبیلے کی مذمت کرتا ہے اور وہ آدمی جو اپنے (‏‏‏‏حقیقی) باپ کا انکار کر دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2736]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 763

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1487 ترقیم فقہی: -- 2737
-" إن أعظم الناس فرية لرجل هجا رجلا، فهجا القبيلة بأسرها ورجل انتفى من أبيه وزنى أمه".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھوٹا الزام لگانے میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے، جو ایک آدمی کے عیوب بیان کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ اس کے پورے قبیلے کی مذمت کر دیتا ہے اور وہ آدمی بھی ہے جو اپنے (‏‏‏‏حقیقی) باپ کا انکار کر کے اپنی ماں کو زانیہ قرار دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2737]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1487

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تکلف وتصنع سے گفتگو کرنے والے لوگ ناپسندیدہ ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 880 ترقیم فقہی: -- 2738
-" إن الله عز وجل يبغض البليغ من الرجال، الذي يتخلل بلسانه تخلل الباقرة بلسانها".
سیدنا عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏بلاشبہ اللہ آدمیوں میں سے اس بلاغت جھاڑنے والے شخص کو سخت ناپسند کرتا ہے جو (‏‏‏‏منہ پھاڑ پهاڑ کر تکلف و تصنع سے گفتگو کرتے ہوئے) اپنی زبان کو گائے کے جگالی کرنے کی طرح باربار پهیرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2738]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 880

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بچے اور بچی کی طرف سے عقیقہ کرنا، اور لفظ عقیقہ کو مکروہ سمجھنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1655 ترقیم فقہی: -- 2739
-" إن الله لا يحب العقوق، وكأنه كره الاسم".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (‏‏‏‏جواباً) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ «عقوق» (‏‏‏‏یعنی بدسلوکی و نافرمانی) کو ناپسند کرتا ہے۔“ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ لفظ «عقيقه» آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب ہم میں سے کسی کا بچہ پیدا ہوتا ہے (‏‏‏‏تو اس کا عقیقہ ہونا چاہیئے یا نہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے بچے کی طرف سے جانور ذبح کرنا چاہتا ہے وہ کرے، بچے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں (‏‏‏‏یا بھیڑیں، مذکر ہوں یا مونث) اور بچی کی طرف سے ایک۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2739]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1655

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عظیم امور پسندیدہ اور گھٹیا امور ناپسندیدہ ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1627 ترقیم فقہی: -- 2740
-" إن الله يحب معالي الأمور وأشرافها ويكره سفسافها".
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ رفعت و عزت والے امور پسند کرتا ہے اور ذلت و ذلالت والے امور کو ناپسند کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2740]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1627

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1378 ترقیم فقہی: -- 2741
-" إن الله عز وجل كريم يحب الكرم ومعالي الأخلاق، ويبغض سفسافها".
سیدنا سھل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ «‏‏‏‏ صلی اللہ علیہ وسلم ‏‏‏‏» نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ مہربان ہے، مہربانی اور بلند اخلاق کو پسند کرتا ہے اور ردّی اخلاق سے نفرت کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2741]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1378

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کا انجام خیر
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1044 ترقیم فقہی: -- 2742
-" إن رجلا زار أخا له في قرية، فأرصد الله تعالى على مدرجته ملكا، فلما أتى عليه الملك قال: أين تريد؟ قال: أزور أخا لي في هذه القرية، قال: هل له عليك من نعمة (تربها) ؟ قال: لا، إلا أني أحببته في الله، قال: فإني رسول الله إليك أن الله عز وجل قد أحبك كما أحببته له".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کسی دوسری بستی میں اپنے بھائی کی زیارت کے لیے گیا، اللہ تعالیٰ راستے میں اس کے انتظار میں ایک فرشتہ بٹھا دیا، جب وہ شخص اس کے پاس سے گزرا، تو فرشتے نے پوچھا: تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا: اس بستی میں میں میرا بھائی رہتا ہے، اس کی زیارت کے لیے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے پوچھا: کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے؟ جس کی وجہ سے تم یہ تکلیف اٹھا رہے ہو اور اس کا بدلہ اتارنے جا رہے رہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ صرف اس لیے جا ر ہا ہوں کہ میں اس سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ فرشتے نے کہا: میں تیری طرف اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہوں (اور یہ بتانے کے لیے آیا ہوں کہ) اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے محبت کرتا ہے جیسے تو اس سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2742]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1044

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1256 ترقیم فقہی: -- 2743
-" ما أحب عبد عبدا لله إلا أكرمه الله عز وجل".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی کوئی بندہ کسی سے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عزت عطا کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2743]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1256

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں