سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
لعنت نہ کرنے کی نبوی وصیت
ترقیم الباني: 1729 ترقیم فقہی: -- 2774
-" أوصيك أن لا تكون لعانا".
سیدنا جرموز جہیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی وصیت فرما دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ لعن طعن کرنے والا نہ بن جانا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2774]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1729
ایسے امور سے، جن کی وجہ سے معذرت کرنا پڑے، اجتناب کرنے کی وصیت
ترقیم الباني: 354 ترقیم فقہی: -- 2775
-" إياك وكل ما يعتذر منه".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی بات پر اجتناب کر، جس پر معذرت کرنا پڑے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2775]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 354
ترقیم الباني: 401 ترقیم فقہی: -- 2776
-" إذا قمت في صلاتك فصل صلاة مودع، ولا تكلم بكلام تعتذر منه غدا، واجمع الإياس مما في أيدي الناس".
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے کوئی بلیغ و مختصر نصیحت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز ادا کرے تو (اپنی زندگی کی) آخری نماز سمجھ کر ادا کر اور ایسا کلام مت کر کہ جس سے بعد میں تجھے معذرت کرنا پڑے اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے ناامید (اور غنی) ہو جا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2776]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 401
تکبر اور نافرمانی کا عذاب دنیا میں بھی ملتا ہے
ترقیم الباني: 1120 ترقیم فقہی: -- 2777
-" بابان معجلان عقوبتهما في الدنيا: البغي والعقوق".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(گناہ کی) دو اقسام ایسی ہیں کہ دنیا میں جلد ہی ان کی سزا دے دی جاتی ہے: تکبر و بغاوت اور نافرمانی و بدسلوکی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2777]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1120
خوش خلقی، امر بالمعرف، نہی عن المنکر اور گزرگاہوں سے تکلیف دہ چیز دور کرنے جیسے امور خیر
ترقیم الباني: 572 ترقیم فقہی: -- 2778
-" تبسمك في وجه أخيك لك صدقة وأمرك بالمعروف ونهيك عن المنكر صدقة وإرشادك الرجل في أرض الضلال لك صدقة وبصرك الرجل الرديء البصر لك صدقة وإماطتك الحجر والشوكة والعظم عن الطريق لك صدقة وإفراغك من دلوك في دلو أخيك لك صدقة".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے، بےآباد زمین میں کسی آدمی کی راہنمائی کرنا صدقہ ہے، جہاں کوئی قائد نہیں ملتا، کمزور نظر والے آدمی کو دکھانا صدقہ ہے، راستے سے پتھر، کانٹا اور ہڈی (وغیرہ) دور کرنا صدقہ ہے اور اپنے ڈول کا پانی کسی بھائی کے ڈول میں ڈال دینا صدقہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2778]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 572
ٹھہراؤ اور سنجیدگی کی فضیلت اور عجلت کی مذمت
ترقیم الباني: 1794 ترقیم فقہی: -- 2779
-" التؤدة في كل شيء إلا في عمل الآخرة".
اعمش بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز میں متانت و سنجیدگی ( اور ٹھہراؤ) ہونا چاہیئے، سوائے آخرت کے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2779]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1794
ترقیم الباني: 1795 ترقیم فقہی: -- 2780
-" التأني من الله والعجلة من الشيطان".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہراؤ اور آہستگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی اور عجلت شیطان کی طرف سے ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2780]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1795
تکیہ، تیل اور دودھ رد نہ کیا جائے
ترقیم الباني: 619 ترقیم فقہی: -- 2781
-" ثلاث لا ترد: الوسائد والدهن واللبن".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں کو رد نہ کیا جائے: تکیہ، تیل اور دودھ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2781]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 619
اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت سے محروم لوگ
ترقیم الباني: 1397 ترقیم فقہی: -- 2782
-" ثلاثة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة: العاق لوالديه ومدمن الخمر والمنان عطاءه، وثلاثة لا يدخلون الجنة: العاق لوالديه والديوث والرجلة".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ روز قیامت تین قسم کے افراد کی طرف نہیں دیکھے گا: والدین کا نافرمان، دوام سے شراب پینے والا اور اپنے دیے پر احسان جتلانے والا اور تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے: والدین کا نافرمان، دیوث (جسے اپنے اہل و عیال کے سلسلے میں غیرت و حمیت نہ ہو) اور مردوں سے مشابہت رکھنے والی عورتیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2782]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1397
رات کو اور دوران سفر خلوت اختیار کرنا منع ہے
ترقیم الباني: 3134 ترقیم فقہی: -- 2783
- (خرجَ رجلٌ من (خيبرَ) ، فاتبَعه رجلان، وآخرُ يتلوهما يقول: ارجعا ارجعا، حتَّى ردَّهما، ثم لحق الأول، فقال: إنَّ هذينِ شيطانانِ، وإنِّي لمْ أزلْ بهما حتى رددتهما، فإذا أتيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فأَقرئه السلامَ، وأخبره أنَّا ههنا في جمع صدقاتنا، ولو كانت تصلحُ له لبَعَثْنَا بها إليه. قال: فلمَّا قدمَ الرجلُ المدينةَ أخبرَ النبيَّ - صلى الله عليه وسلم -، فعند ذلك نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن الخَلْوةِ) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک آدمی خیبر سے نکلا دو آدمی اس کے پیچھے اور ایک ان دو کے پیچھے چل پڑا وہ ان کو کہتا تھا: لوٹ آؤ، لوٹ آؤ۔ (یہاں تک کہ) انہیں لوٹا دیا، پھر وہ پہلے آدمی کو جا ملا اور اسے بتایا کہ یہ دو شیطان تھے، میں ان کے ساتھ لگا رہا، حتیٰ کہ انہیں لوٹا دیا۔ جب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کو میرا سلام عرض کرنا اور بتلا دینا کہ ہم یہاں صدقات جمع کر رہے ہیں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائق ہوں تو ہم بھیج دیں گے۔ وہ آدمی مدینہ پہنچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے معاملے کی خبر دی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلوت (تنہائی) سے منع کر دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2783]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3134