🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
روز قیامت لوگ ننگے ہوں گے، سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوشاک سبز رنگ کی ہو گی، آدمی انہی کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں مرتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1129 ترقیم فقہی: -- 3708
-" أول من يكسى خليل الله إبراهيم صلى الله عليه وسلم".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(‏‏‏‏روز محشر) سب سے پہلے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3708]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1129

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2370 ترقیم فقہی: -- 3709
-" يبعث الناس يوم القيامة، فأكون أنا وأمتي على تل، ويكسوني ربي حلة خضراء، ثم يؤذن لي، فأقول ما شاء الله أن أقول، فذاك المقام المحمود".
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا، میں اور میری امت ایک ٹیلے پر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ مجھے سبز رنگ کی پوشاک پہنائیں گے۔ پھر مجھے اجازت دی جائے گی اور میں کہوں گا جو اللہ تعالیٰ چاہیں گے، یہی مقام محمود ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3709]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2370

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1671 ترقیم فقہی: -- 3710
-" إن الميت يبعث في ثيابه التي يموت فيها".
جب سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے جدید کپڑے منگوا کر زیب تن کئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک میت کو ان کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں وہ فوت ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3710]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1671

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
روز قیامت ران اور ہتھیلی بھی کلام کریں گی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2713 ترقیم فقہی: -- 3711
-" إنكم مدعوون [يوم القيامة] مفدمة أفواهكم بالفدام، ثم إن أول ما يبين (وقال مرة: يترجم، وفي رواية: يعرب) عن أحدكم لفخذه وكفه".
بہز بن حکیم بن معاویہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تم سب کو روز قیامت اس حال میں بلایا جائے گا کہ تمہارے منہ، منہ بند کے ذریعے بند ہوں گے، پہلی چیز جو تمہاری طرف سے وضاحت یا ترجمانی کرے گی وہ تمہاری ران اور ہتھیلی ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3711]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2713

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آخر زمانہ میں دس فیصد عمل بھی باعث نجات ہو گا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2510 ترقیم فقہی: -- 3712
-" إنكم اليوم في زمان كثير علماؤه قليل خطباؤه من ترك عشر ما يعرف فقد هوى، ويأتي من بعد زمان كثير خطباؤه قليل علماؤه من استمسك بعشر ما يعرف فقد نجا".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تمہارے زمانے میں علماء زیادہ ہیں اور خطباء کم، ایسے میں اگر کسی نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل نہ کیا تو وہ گمراہ ہو جائے گا اور بعد میں ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ اس میں خطباء زیادہ ہوں گے اور علماء کم، اگر ا‏‏‏‏س زمانے میں کسی نے اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل کر لیا تو وہ نجات پا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3712]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2510

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
روز قیامت لوگوں کے وجود کا بھی وزن ہو گا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3581 ترقیم فقہی: -- 3713
- (إئه ليأتي الرّجل العظيمُ السّمين يومَ القيامة؛ لا يزنُ عندَ الله جناح بعوضة) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً قیامت والے دن موٹا تازہ بڑا آدمی آئے گا، اللہ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی اس کا وزن نہ ہو گا، اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: «فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا» (۱۸-الكهف:۱۰۵) ‏‏‏‏ ”پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے““۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3713]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3581

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بدعت اور خیانت کا وبال
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3944 ترقیم فقہی: -- 3714
- (إنِّي لكم فرَطٌ على الحوض، فإيّاي! لا يأتينّ أحدكم فيُذَبَّ عنِّي كما يُذبُّ البعير الضال، فأقول: فيم هذا؟ فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك؟! فأقول: سُحْقاً) .
زوجہ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ان کے غلام عبداللہ بن رافع بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میں لوگوں کو حوض کا تذکرہ کرتے ہوئے سنتی رہتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موضوع پر کوئی حدیث براہ راست نہیں سنی تھی، ایک دن میری لونڈی میری کنگھی کر رہی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آواز لگاتے سنا: ”لوگو!“ میں نے لونڈی سے کہا: پیچھے ہٹ جاؤ۔ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بلایا ہے، نہ کہ عورتوں کو۔ میں نے کہا: (‏‏‏‏آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا ہے اور) میں بھی ان میں سے ہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حوض پر تم لوگوں کا پیش رو ہوں گا۔ میری اطاعت کرتے رہنا! کہیں ایسا نہ ہو کہ تم وہاں میرے پاس پہنچو اور تمہیں بھٹکے ہوئے اونٹ کی طرح (‏‏‏‏مجھ سے دور) دھتکار دیا جائے۔ میں پوچھوں: ایسے کیوں ہو رہا ہے؟ مجھے جواباً کہا جائے: آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کون کون سی بدعات رائج کر دی تھیں۔ (‏‏‏‏یہ سن کر) میں کہوں گا: بربادی ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3714]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3944

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2865 ترقیم فقہی: -- 3715
-" إني ممسك بحجزكم عن النار وتقاحمون فيها تقاحم الفراش والجنادب ويوشك أن أرسل حجزكم، وأنا فرط لكم على الحوض، فتردون علي معا وأشتاتا، يقول جميعا، فأعرفكم بأسمائكم وبسيماكم كما يعرف الرجل الغريبة من الإبل في إبله، فيذهب بكم ذات الشمال، وأناشد فيكم رب العالمين، فأقول: يا رب أمتي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك، إنهم كانوا يمشون القهقرى بعدك. فلا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل شاة لها ثغاء ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت، ولا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل بعيرا له رغاء ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت، ولا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل فرسا له حمحمة ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت، ولا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل قشعا من أدم ينادي: يا محمد، يا محمد! فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو آگ سے بچانے کے لیے تمہیں کمروں سے پکڑ رہا ہوں، لیکن تم پتنگوں اور اچھلی اڑتی ٹڈیوں کی طرح اس میں زبردستی گھسنا چاہتے ہو، ممکن ہے کہ میں تمہاری کمروں کو چھوڑ دوں۔ (‏‏‏‏یاد رکھو کہ) میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، تم میرے پاس متحد ہو کر اور منتشر ہو کر (‏‏‏‏دونوں صورتوں میں) آؤ گے، میں تمہیں تمہارے ناموں اور علامتوں سے ایسے پہچان لوں گا جیسے کوئی آدمی اپنے اونٹوں میں گھسنے والے اجنبی اونٹ کو پہچان لیتا ہے، لیکن تمہیں بائیں طرف دھتکار دیا جائے گا اور میں تمہارے لیے جہانوں کے پالنہار سے اپیل کرتے ہوئے کہوں گا: اے میرے رب! میری امت (‏‏‏‏ ‏‏‏‏کو بچاؤ)۔ جواباً کہا جائے گا: تم نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے تمہارے بعد کون کون سی بدعات رائج کر دی تھیں، تیرے بعد انہوں نے الٹے پاؤں چلنا شروع کر دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ دیکھوں کہ اس نے ممیاتی ہوئی بکری اٹھا رکھی ہو اور یہ آواز دے رہا ہو: اے محمد! اے محمد! (‏‏‏‏میری معاونت کیجئیے) اور میں کہوں گا: میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں نے تو (‏‏‏‏تیرے تک) پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں کسی کو اس حال میں نہ پہچانوں کہ اس نے بلبلاتا ہو اونٹ اٹھا رکھا ہو اور آواز دے رہا ہو: اے محمد! اے محمد! (‏‏‏‏میرا سہارا بنو)۔ میں کہوں گا: میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں نے تو پیغام پہنچا دیا تھا (‏‏‏‏کہ ایسا نہ کرنا)۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کسی نے روز قیامت ہنہناتا ہوا گھوڑا اٹھا رکھا ہو اور آواز دے رہا ہو: اے محمد! اے محمد! میں جواباً کہوں: میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔ میں تم میں سے کسی کو قیامت والے دن اس حالت میں نہ دیکھوں کہ پرانی کھال کا ٹکڑا اٹھا رکھا ہو اور پکار رہا ہو: اے محمد! اے محمد! اور میں کہہ دوں: میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں نے تو (‏‏‏‏ اللہ کا پیغام) تیرے تک پہنچا دیا تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3715]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2865

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بحری جہاد میں شرکت کرنے والے پہلے لشکر کی فضیلت، مدینہ قیصر پر چڑھائی کرنے والے پہلے لشکر کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 268 ترقیم فقہی: -- 3716
-" أول جيش من أمتي يغزون البحر قد أوجبوا، ثم قال: أول جيش من أمتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم".
خالد بن معدان کہتے ہیں کہ عمیر بن اسود عنسی نے ان کو بیان کیا کہ وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ اس وقت سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سمیت حمص کے ساحل میں فروکش تھے۔ عمیر کہتے ہیں: ہمیں سیدہ ام حرام نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سمندری جہاد کرنے والا میری امت کا پہلا لشکر (‏‏‏‏اپنے حق میں جنت کو) واجب کر لے گا۔“ سیدہ ام حرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! آیا میں بھی ان لوگوں میں ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان میں ہو گی۔“ پھر فرمایا: ”قیصر کے شہر والوں سے جہاد کرنے والا میری امت کا پہلا لشکر بخشا ہوا ہو گا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آیا ان میں ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3716]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 268

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم میں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3307 ترقیم فقہی: -- 3717
- (أول من يدعى يوم القيامة: آدم، فتراءى ذريته، فيقال: هذا أبوكم آدم، فيقول: لبيك وسعديك! فيقول: أخرج بعث جهنم من ذريتك، فيقول؛ يا رب! كم أخرج؟ فيقول: أخرج من كل مئة تسعة وتسعين، فقالوا: يا رسول الله! إذا أخذ منا من كل مئة تسعة وتسعون؛ فماذا يبقى منّا؟! قال: إن أمتي في الأمم كالشعرة البيضاء في الثور الأسود) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت والے دن سب سے پہلے سیدنا آدم (‏‏‏‏علیہ السلام) کو بلایا جائے گا، وہ اپنی اولاد کو دیکھیں گے۔ انہیں بتلایا جائے گا کہ یہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام ہیں۔ (‏‏‏‏اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو آواز دے گا)۔ وہ کہیں گے میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اپنی اولاد میں سے جہنم میں داخل ہونے والے لوگوں کو علیحدہ کر دو۔“ وہ پوچھیں گے: اے میرے رب! کتنوں کو علیحدہ کروں؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: ایک سو کی نفری میں سے ننانوے کو (‏‏‏‏جہنم کے لیے علیحدہ کر دو)۔“ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہمارے سو میں سے ننانوے کو (‏‏‏‏ ‏‏‏‏دوزخ کے لیے) پکڑ لیا جائے گا، تو پیچھے بچے گا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (‏‏‏‏ ‏‏‏‏تسلی دیتے ہوئے) فرمایا: ”بقیہ امتوں میں میری امت کی تعداد سیاہ رنگ کے بیل کی پشت پر سفید بالوں جتنی ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3717]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3307

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں