🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
روز قیامت مظلوم حیوانات کو قصاص دلوایا جائے گا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1966 ترقیم فقہی: -- 3698
-" يقضي الله بين خلقه الجن والإنس والبهائم، وإنه ليقيد يومئذ الجماء من القرناء حتى إذا لم يبق تبعة عند واحدة لأخرى قال الله: كونوا ترابا، فعند ذلك يقول الكافر: * (يا ليتني كنت ترابا) *".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات یعنی جن و انس اور چوپائیوں کے مابین فیصلہ کریں گے اور سینگ کو سینگ والے جانور سے قصاص دلائیں گے، حتیٰ کہ کسی کا کسی پر کوئی مطالبہ باقی نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ (‏‏‏‏حیوانات کو) فرمائے گا کہ مٹی ہو جاؤ۔ اس وقت کافر کہے گا: ‏‏‏‏ ”ہائے کاش! میں (‏‏‏‏بھی) مٹی ہو جاتا“ (‏‏‏‏سورہ نبا: ۴۰)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3698]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1966

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1967 ترقیم فقہی: -- 3699
-" يقتص الخلق بعضهم من بعض، حتى الجماء من القرناء، وحتى الذرة من الذرة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(‏‏‏‏قیامت والے دن) مخلوقات کو ایک دوسرے سے قصاص دلایا جائے گا، حتیٰ کہ بے سینگ جانور کو سینگ والے جانور سے اور چیونٹی تک کو قصاص دلوایا جائے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3699]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1967

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
فتنوں سے بچ جانے والا اور آزمائشوں میں صبر کرنے والا سعادت مند ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 975 ترقیم فقہی: -- 3700
-" إن السعيد لمن جنب الفتن ولمن ابتلي فصبر".
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سعادت مند انسان وہ ہے جسے فتنوں سے بچا لیا گیا اور وہ جسے ابتلاء و آزمائش میں تو ڈال دیا گیا لیکن اس نے صبر کیا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3700]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 975

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ابتدائے حساب و کتاب کے لیے لوگوں کا انبیاء کے پاس جانا، مردوں کو مدد کے لیے پکارنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2460 ترقیم فقہی: -- 3701
-" إن الشمس تدنو حتى يبلغ العرق نصف الأذن، فبيناهم كذلك استغاثوا بآدم فيقول: لست صاحب ذلك، ثم بموسى، فيقول كذلك، ثم محمد صلى الله عليه وسلم، فيشفع بين الخلق، فيمشي حتى يأخذ بحلقة الجنة، فيومئذ يبعثه الله مقاما محمودا، يحمده أهل الجمع كلهم".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک سورج قریب ہو گا (‏‏‏‏اور اتنا قریب ہو گا کہ اس کی حرارت کی وجہ سے) بہنے والا پسینہ آدمی کے کان کے نصف تک پہنچ جائے گا، وہ اسی حالت میں آدم ‏‏‏‏علیہ السلام کو مدد کے لیے پکاریں گے۔ وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ پھر موسیٰ ‏‏‏‏علیہ السلام کو پکاریں گے، وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ پھر جب وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دیں گے، تو آپ مخلوق کے لیے سفارش کریں گے، آپ چلیں گے اور جنت کے کڑے کو پکڑ لیں گے، اس دن اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر اٹھائیں گے، تمام لوگ آپ کی تعریف کریں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3701]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2460

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس امت کا فتنہ مال ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 592 ترقیم فقہی: -- 3702
-" إن لكل أمة فتنة وفتنة أمتي المال".
سیدنا کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہر امت کے لیے ایک فتنہ ہوتا ہے (‏‏‏‏یعنی ایسی چیز جس کے ذریعے اس کو آزمایا جاتا ہے) اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3702]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 592

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض . . .، بدعتی لوگ حوض سے دور دھتکار دیے جائیں گے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3949 ترقیم فقہی: -- 3703
- (إن لي حوضاً ما بينَ الكعبةِ وبيتِ المقدِسِ، أبيضَ مثلَ اللّبن؛ آنِيَتُةُ عدَدَ النُّجُومِ، وإني لأكثرُ الأنبياءِ تبعاً يومَ القيامةِ) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے حوض کی وسعت کی مسافت کعبہ سے بیت المقدس کی مسافت جتنی ہے، اس کا پانی دودھ کی طرح سفید ہے، اس کے آبخورے ستاروں کی تعداد کے بقدر ہیں اور قیامت والے دن میرے پیروکار سب انبیاء کے امتیوں سے زیادہ ہوں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3703]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3949

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1082 ترقیم فقہی: -- 3704
-" حوضي ما بين عدن إلى عمان ماؤه أشد بياضا من الثلج وأحلى من العسل وأكثر الناس ورودا عليه فقراء المهاجرين الشعث رءوسا، الدنس ثيابا، الذين لا ينكحون المتنعمات ولا تفتح لهم أبواب السدد، الذين يعطون الحق الذي عليهم ولا يعطون الذي لهم".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے حوض (‏‏‏‏کی وسعت) عدن سے عمان تک ہے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، وہاں آنے والوں میں اکثریت مہاجرین کی ہو گی، جو اب پراگندہ بالوں والے اور میلے کپڑے والے ہیں، وہ آسودہ حال عورتوں سے شادی نہیں کر سکتے، بند دروازے ان کے لیے نہیں کھولے جاتے اور وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، لیکن ان کے حقوق پورے نہیں کئے جاتے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3704]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1082

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3952 ترقیم فقہی: -- 3705
- (تَرِدُ عليَّ أمتي الحوض، وأنا أذود الناس عنه؛ كما يذود الرجل إبل الرجل عن إبله، قالوا: يا نبي الله! أتعرفنا؟ قال: نعم، لكم سيما ليست لأحد غيركم، تردون علي غراً محجلين من آثار الوضوء. وليصدن عني طائفة منكم، فلا يَصِلُون، فأقول: يا رب! هؤلاء من أصحابي؟! فيجيبني ملكٌ فيقول: وهل تدري ما أحدثوا بعدك؟!) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت حوض پر میرے پاس آئے گی۔ میں کچھ لوگوں کو اس سے یوں دھتکاروں گا، جیسے کوئی آدمی دوسرے کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے دور دھتکارتا ہے۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمہاری ایک ایسی علامت ہو گی، جو دوسروں کی نہیں ہو گی، تم میرے پاس اس حال میں آؤ گے کہ وضو کے اثر کی وجہ سے تمہاری پیشانی، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں چمکتے ہوں گے۔ لیکن تم میں ایک گروہ کو مجھ سے روک لیا جائے گا، وہ (‏‏‏‏مجھ تک) نہ پہنچ پائیں گے۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھی ہیں؟ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا اور کیا آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد (‏‏‏‏دین میں) بدعتوں کو رواج دیا تھا؟!“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3705]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3952

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ایام صبر میں پابند شریعت رہنے کا اجر و ثواب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 494 ترقیم فقہی: -- 3706
-" إن من ورائكم أيام الصبر، للمتمسك فيهن يومئذ بما أنتم عليه أجر خمسين منكم قالوا: يا نبي الله أو منهم؟ قال: بل منكم".
بنو مازن بن صعصہ کے بھائی سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بعد والا زمانہ صبر آزما ہو گا، اس وقت (‏‏‏‏حق کو) تھامنے والے کو تمہارے پچاس آدمیوں کے اجر کے برابر ثواب ملے گا۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ا‏‏‏‏ن میں سے (‏‏‏‏پچاس آدمیوں کے اجر کے برابر) ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ (‏‏‏‏اس کا اجر) تم میں سے (‏‏‏‏پچاس آدمیوں کے اجر کے برابر) ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3706]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 494

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
روز قیامت لوگ ننگے ہوں گے، سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوشاک سبز رنگ کی ہو گی، آدمی انہی کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں مرتا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3469 ترقیم فقہی: -- 3707
ـ (يُبعَثُ الناسُ حفاةً عُراةً غُرْلاً، يُلْجِمُهم العَرَقُ، ويبلغُ شحمةَ الأُذنِ، قالتْ سَودةُ: قلت: يا رسولَ اللهِ! وا سوْءتاهُ! ينظرُ بعضُنا إلى بعْضٍ؟! قال: شُغِلَ الناسُ عن ذلكَ. وتلا" يومَ يفرُّ المرءُ من أخِيه *وأمِّه وأبيهِ *وصاحبتهِ وبنيهِ *لكلّ امْرئٍ منهم يوْمئذٍ شأْنٌ يغْنيهِ") .
زوجہ رسول سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(‏‏‏‏قیامت والے دن) جب لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو وہ ننگے بدن، ننگے پاؤں اور غیر مختون (‏‏‏‏بغیر ختنے کے) ہوں گے، (‏‏‏‏ان کا پسینہ) ان کو لگام ڈال لے گا اور وہ ان کے کانوں کی لو تک پہنچ جائے گا۔“ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہائے! شرمگاہیں نظر آئیں گی اور لوگ ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کام کرنے سے لوگ مشغول ہوں گے (‏‏‏‏یعنی موقف کی ہولناکی اور شدت انہیں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی مہلت ہی نہیں دے گی)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ ٭ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ ٭ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ ٭ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» ‏‏‏‏ ”اس دن آدمی اپنے بھائی سے اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر دامن گیر ہو گی، جو اس کے لیے کافی ہو گی۔“ (۸۰-عبس:۳۴، ۳۵، ۳۶، ۳۷) [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3707]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3469

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں