🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
آخر زمانہ میں پانی صرف شام میں ہو گا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3078 ترقیم فقہی: -- 3758
- (يُوشِكُ أن تطلبُوا في قُراكُم هذه طَسْتاً من ماءٍ فلا تَجدونَهُ، يَنْزَوِي كلُّ ماءٍ إلى عُنْصُرِهِ؛ فيكون في الشام بَقِيَّةُ المؤمنين والماءُ) .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قریب ہے کہ تم ان بستیوں میں ایک پیالہ پانی کا تلاش کرو، لیکن کامیاب نہ ہو سکو، یعنی سارے کا سارا پانی اپنی اصل کی طرف سکڑ جائے گا اور باقی ماندہ مومن اور پانی شام میں ہوں گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3758]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3078

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
گھٹیا اور کمینے لوگوں کی امارتوں کی پیشین گوئی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3424 ترقیم فقہی: -- 3759
- (يوشكُ أن يؤَمَّرَ عليهمُ الرُّوَيجل، فيجتمعُ إليه قومٌ محلّقةُ أقفيتُهم، بيضٌ قمُصُهم، فإذا أمَرهم بشيء حضَرُوا) .
عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن وزاج رضی اللہ عنہ قدیم صحابی تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ تم پر کسی کم اہمیت آدمی کو امیر بنا دیا جائے اور اس کے پاس ایسے لوگ جمع ہو جائیں جن کی گدیوں سے بال مونڈے ہوئے ہوں گے، ان کی قمیصیں سفید رنگ کی ہوں گیں، جب وہ ان کو کسی چیز کا حکم دینے لگے گا تو وہ حاضر ہو جائیں گے۔“ اللہ کا کرنا کہ سیدنا عبداللہ بن وزاج بعض شہروں کے گورنر بنا دیے گئے، جب ان کے پاس کسان لوگ آتے تھے، جن کی گدیاں مونڈی ہوتیں اور ان کی قمیصیں سفید ہوتیں اور وہ ان کے حکم پر وہ حاضر ہو جاتے۔ تو وہ کہتے تھے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3759]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3424

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1505 ترقیم فقہی: -- 3760
-" يوشك أن يغلب على الدنيا لكع بن لكع، وأفضل الناس مؤمن بين كريمين".
ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ممکن ہے کہ دنیا پر کوئی انتہائی کمینہ آدمی غالب آ جائے، اور اس وقت لوگوں میں افضل وہ مومن ہو گا، جو دو کریموں کے درمیان ہو گا۔ ‏‏‏‏“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3760]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1505

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تبوک کے چشمہ کے آس پاس باغات کی پیشن گوئی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1210 ترقیم فقہی: -- 3761
-" يوشك يا معاذ إن طالت بك حياة أن ترى ما ههنا قد ملئ جنانا. يعني تبوك".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک والے سال نکلے، آپ نمازیں جمع کر کے ادا کرتے تھے، یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی اکٹھی ادا کر لیتے تھے، ایک دن ایسا بھی آیا کہ نماز کو مؤخر کیا، پھر باہر تشریف لائے اور ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھیں، بعد ازاں اندر چلے گئے اور پھر جب تشریف لائے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں، پھر فرمایا: ”تم ان شاءاللہ کل تبوک کے چشمے پر پہنچ جاؤ گے، اور دن کے روشن ہونے کے بعد پہنچو گے۔ (‏‏‏‏یاد رکھنا کہ) جو بھی وہاں پہنچے، پانی کو میرے پہنچنے سے پہلے نہ چھوئے۔“ جب ہم اس چشمے کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ دو آدمی ہم سے بھی سبقت لے جا چکے تھے۔ (‏‏‏‏ ہم نے دیکھا کہ) تسمے کے بقدر چشمہ تھا اور تھوڑا تھوڑا پانی رس رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آدمیوں سے پوچھا: ”آیا تم نے اس پانی کو چھوا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے ان کو برا بھلا کہا، پھر صحابہ نے اس چشمے سے چلو بھر کر پانی ایک برتن میں جمع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ اور چہرہ دھویا، پھر اس پانی کو اس چشمے میں انڈیل دیا، چشمے کا پانی زور سے بہنا شروع ہو گیا، حتیٰ کہ لوگوں نے پانی پی لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏ معاذ! ممکن ہے کہ تیری زندگی لمبی ہو، (‏‏‏‏اگر ایسے ہوا تو) تو دیکھے گا کہ یہ جگہ باغات سے بھر جائے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3761]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1210

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اعمال کو تولنے کے لیے بڑا میزان، فرشتوں نے بھی عبادت کا حق ادا نہ کیا، پل صراط
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 941 ترقیم فقہی: -- 3762
-" يوضع الميزان يوم القيامة فلو وزن فيه السموات والأرض لوسعت، فتقول الملائكة: يا رب لمن يزن هذا؟ فيقول الله تعالى: لمن شئت من خلقي، فتقول الملائكة: سبحانك ما عبدناك حق عبادتك، ويوضع الصراط مثل حد الموسى، فتقول الملائكة: من تجيز على هذا؟ فيقول: من شئت من خلقي، فيقولون: سبحانك ما عبدناك حق عبادتك".
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت والے دن (‏‏‏‏اتنا بڑا) ترازو رکھا جائے گا کہ اس میں زمین و آسمان کا وزن بھی کیا جا سکے گا۔ فرشتے پوچھیں گے: یہ ترازو کس کے لیے وزن کرے گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں اپنی مخلوق میں سے جس کے لیے چاہوں گا۔ فرشتے کہیں گے: (‏‏‏‏اے اللہ!) تو پاک ہے، ہم تیری عبادت کا حق ادا نہ کر سکے۔ پھر پل صراط نصب کیا جائے گا، جو استرے کی دھار کی طرح ہو گا۔ فرشتے پوچھیں گے: (‏‏‏‏اے اللہ) تو کس کو یہ عبور کروائے گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہوں گا۔ وہ کہیں گے: تو پاک ہے، ہم کماحقہ تیری عبادت نہ کر سکے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3762]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 941

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
قیامت کے دن کی مقدار ظہر سے عصر کے وقت جتنی یا پچاس ہزار سال کے برابر؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2456 ترقیم فقہی: -- 3763
-" يوم القيامة كقدر ما بين الظهر والعصر".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر اور عصر کے درمیانے وقفے جتنا قیامت کا دن ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3763]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2456

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2817 ترقیم فقہی: -- 3764
-" كيف بكم إذا جمعكم الله كما يجمع النبل في الكنانة خمسين ألف سنة، ثم لا ينظر الله إليكم؟!".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ‏‏‏‏ ”جس دن سب لوگ ربّ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔“ (‏‏‏‏سورۂ مطففین: ۶) اور فرمایا: ”تمہارا کیا بنے گا جب اللہ تعالیٰ تمہیں ترکش میں تیر جمع کرنے کی طرح پچاس ہزار سال کے لیے (‏‏‏‏میدان محشر میں) جع کرے گا اور پھر تمہاری طرف دیکھے گا بھی نہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3764]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2817

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
آخرت کے واقعات کو یاد کرتے وقت کون سی دعا پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1079 ترقیم فقہی: -- 3765
-" كيف أنعم وقد التقم صاحب القرن القرن وحنى جبهته وأصغى سمعه ينتظر أن يؤمر أن ينفخ، فينفخ، قال المسلمون: فكيف نقول يا رسول الله؟ قال: قولوا: حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا على الله ربنا، - وربما قال سفيان: على الله توكلنا -".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں (‏‏‏‏دنیوی زندگی میں) کیسے خوش و خرم رہ سکوں ادھر صور پھونکنے والا فرشتہ اپنے منہ میں صور لے چکا ہے، اس نے پیشانی جھکا دی ہے، اپنا کان (‏‏‏‏اللہ کے حکم کے انتظار میں) لگا دیا ہے۔ اب وہ نفخ کے حکم کا انتظار کر رہا ہے، (‏‏‏‏حکم ہوتے ہوئے صور) پھونک دے گا۔ مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم (‏‏‏‏اس قلق و اضطراب کی اس کیفیت میں) کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہو: اللہ ہمیں کافی ہے، وہ بہترین کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر توکل کیا ہے۔“ یہ حدیث سیدنا ابوسعید خدری، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا زید بن ارقم، سیدنا انس بن مالک، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3765]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1079

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
بہترین موت کون سی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 697 ترقیم فقہی: -- 3766
-" نعم الميتة أن يموت الرجل دون حقه".
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بہترین موت یہ ہے کہ آدمی اپنا حق وصول کرتا ہوا مارا جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3766]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 697

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
چادروں کی پیشین گوئی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 4006 ترقیم فقہی: -- 3767
- (أمَا إنِّها ستكون لكمُ الأنماطُ) .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس چادریں (‏‏‏‏یا غالیچے) ہیں؟“، میں نے کہا: ہمارے پاس چادریں کہاں سے آئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ رہو! عنقریب تمہارے پاس ہوں گی۔“ سیدنا جابر کہتے ہیں: جب میں اپنی بیوی کو کہتا تھا کہ چادروں کو مجھ سے دور کر دے، تو وہ کہتی تھی: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: ”عنقریب تمہارے پاس چادریں ہوں گی۔“ میں یہ سن کر اس کو چھوڑ دیتا تھا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3767]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 4006

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں