سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سابقہ انبیا کے حق میں شہادت دیں گے
ترقیم الباني: 2448 ترقیم فقہی: -- 3748
-" يجيء النبي ومعه الرجلان ويجيء النبي ومعه الثلاثة وأكثر من ذلك وأقل، فيقال له: هل بلغت قومك؟ فيقول: نعم، فيدعى قومه، فيقال: هل بلغكم هذا؟ فيقولون: لا. فيقال: من شهد لك؟ فيقول: محمد وأمته، فتدعى أمة محمد، فيقال: هل بلغ هذا؟ فيقولون: نعم. فيقول: وما علمكم بذلك؟ فيقولون: أخبرنا نبينا بذلك أن الرسل قد بلغوا، فصدقناه، قال: فذلك قوله تعالى: * (وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا) * (¬1) ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روز قیامت کوئی نبی دو امتیوں کے ہمراہ آئے گا کوئی تین کے ہمراہ اور کسی کے ساتھ اس سے زیادہ یا اس سے کم افراد ہوں گے۔ نبی کو کہا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں۔ پھر اس کی امت کو بلا کر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تمہارے نبی نے تمہیں (اللہ کا) پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے نہیں۔ نبی سے کہا جائے گا تمہارے حق میں گواہی کون دے گا؟ وہ کہے گا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت۔ سو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو بلایا جائے گا اور اسے کہا جائے: کیا اس نبی نے اپنی قوم تک (اللہ کا) پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گی: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: تمہیں کیسے پتہ چلا؟ وہ کہے گی: ہمیں ہمارے نبی نے بتایا تھا کہ تمام رسولوں نے اپنی امتوں تک ( اللہ کا) پیغام پہنچا دیا تھا اور ہم نے آپ کی تصدیق کی۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مصداق ہے: ”اور ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول تم پر گواہ ہو جائیں۔“ ( سورۂ بقرہ: ۱۴۳)“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3748]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2448
حرم میں الحاد سنگین جرم ہے
ترقیم الباني: 2462 ترقیم فقہی: -- 3749
-" يحلها - يعني: مكة - ويحل به - يعني: الحرم المكي - رجل من قريش، لو وزنت ذنوبه بذنوب الثقلين لوزنتها".
سیدنا سعید بن عمر و رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا: ابن زبیر! اللہ کے حرم میں الحاد سے بچو، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ایک قریشی آدمی مکہ کو اور حرم مکی کو جائز و حلال سمجھے گا، اگر اس کے گناہوں کا جن و انس کے گناہوں سے وزن کیا جائے گا تو اس کے گناہ وزنی ہو جائیں گے۔“ اے ابن عمرو! تو غور و فکر کر، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ آدمی تو ہی ہو۔ تو نے قرآن پڑھا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا: میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میرا چہرہ شام کی طرف ہے، میں جہاد کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3749]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2462
تائید دین کے لیے عدن ابین کے بارہ ہزار افراد
ترقیم الباني: 2782 ترقیم فقہی: -- 3750
-" يخرج من (عدن أبين) اثنا عشر ألفا ينصرون الله ورسوله، هم خير من بيني وبينهم".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عدن ابین سے بارہ ہزار آدمی نکلیں گے، وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کریں گے، وہ میرے اور اپنے مابین (کی نسلوں) میں سب سے بہتر ہوں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3750]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2782
بالآخر ارکان اسلام مٹ جائیں گے، حتیٰ کہ حروف قرآن بھی
ترقیم الباني: 87 ترقیم فقہی: -- 3751
-" يدرس الإسلام كما يدرس وشي الثوب حتى لا يدرى ما صيام ولا صلاة ولا نسك ولا صدقة وليسرى على كتاب الله عز وجل في ليلة فلا يبقى في الأرض منه آية وتبقى طوائف من الناس: الشيخ الكبير والعجوز، يقولون: أدركنا آباءنا على هذه الكلمة:" لا إله إلا الله" فنحن نقولها".
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کپڑے کے بیل بوٹوں کی طرح اسلام (آہستہ آہستہ) مٹتا جائے گا، حتیٰ کہ (لوگوں کو) یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ ( وغیرہ) کسے کہتے ہیں، ایک رات میں اللہ تعالیٰ کی کتاب (کے حروف) کو مٹا دیا جائے گا، اور زمین میں ایک آیت بھی باقی نہیں رہے گی، لوگوں میں سے جو بوڑھے مرد اور بوڑھی خواتین بچیں گی، وہ کہیں گے ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو یہ کلمہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہتے سنا اور اب ہم بھی کہہ رہے ہیں۔“ صلہ بن زفر نے سیدنا حذیفہ سے کہا: «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» سے آپ کی کیا مراد ہے، حالانکہ وہ نماز، روزے، قربانی اور صدقہ سے تو ناواقف ہوں گے؟ سیدنا حذیفہ نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے تین دفعہ یہی سوال کیا ہر دفعہ سیدنا حذیفہ اعراض کرتے رہے۔ تیسری دفعہ کہا: صلہ! یہ کلمہ انہیں جہنم سے نجات دلائے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3751]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 87
قرآن پڑھنے والے لوگ بھی جہنمی؟ گھوڑوں کی سمندروں میں گھسنے کی پیشین گوئی
ترقیم الباني: 3230 ترقیم فقہی: -- 3752
- (يظهرُ هذا الدّين حتى يجاوز البحار، وحتى تُخاض بالخيل في سبيل الله، ثُمَّ يأتي أقوامٌ يقرأون القرآن، فإذا قرأوا قالوا: قد قرأنا القرآن، فمن أقرأُ منا؟ من أعلمُ منا؟! ثم التفت إلى أصحابه، فقال: هل ترون في أولئك من خير؟ قا لوا: لا. قال: فأولئك منكم، وأولئك من هذه الأمة، وأولئك هُم وقُودُ النار) . أخرجه ابن المبارك في"الزهد" (152/ 450) قال: أخبرنا موسى بن عُبيدة
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دین منظر عام پر آئے گا اور سمندروں سے تجاوز کر جائے گا، حتیٰ کہ اللہ کے راستے میں گھوڑے (سمندر) میں گھس جائیں گے، پھر ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے اور اس کی تلاوت کر چکنے کے بعد کہیں گے: ہم نے قرآن مجید پڑھ لیا ہے، ہم سے زیادہ پڑھنے والا کون ہے؟ ہم سے زیادہ علم والا کون ہے؟“ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: تمہارا کیا خیال ہے کہ ان میں کوئی خیر و بھلائی ہو گی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ تم میں سے ہوں گے، یہ لوگ اس امت میں سے ہوں گے اور یہ لوگ آگ کا ایندھن بنیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3752]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3230
کون لوگ روز قیامت سجدہ نہیں کر سکیں گے
ترقیم الباني: 583 ترقیم فقہی: -- 3753
-" يكشف ربنا عن ساقه، فيسجد له كل مؤمن ومؤمنة ويبقى من كان يسجد في الدنيا رياء وسمعة فيذهب ليسجد فيعود ظهره طبقا واحدا".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ہمارا رب اپنی پنڈلی سے پردہ ہٹائے گا تو ہر مومن مرد اور عورت اسے سجدہ کریں گے، جو لوگ دنیا میں ریاکاری اور شہرت کے لیے سجدہ کرتے تھے، وہ باقی رہ جائیں گے۔ ان میں سے ہر ایک سجدہ کرنے ( کے لئے جھکنے) کی کوشش تو کرے گا، لیکن اس کی کمر ایک تختہ ہو جائے گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3753]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 583
آخر زمانہ میں سخی خلیفہ۔ عراق، شام اور مصر کے وسائل، رزق کا روک لیا جانا
ترقیم الباني: 4001 ترقیم فقہی: -- 3754
- (يكون في آخر أمتي خليفةٌ؛ يحثي المال حثياً؛ لا يعدُّه عداً) .
ابونضرہ کہتے ہیں: ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، انہوں نے کہا: قریب ہے کہ اہل عراق کی طرف قفیز اور درہم کی درآمد رک جائے۔ ہم نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ انہوں نے کہا: عجم سے ( ایک وقت آئے گا کہ) وہ روک لیں گے پھر قریب ہے کہ اہل شام کی طرف سے دینار اور مد کی درآمد رک جائے۔ ہم نے کہا: یہ کیسے ہو گا؟ انہوں نے کہا: روم سے (ایک وقت آئے گا کہ) وہ روک لیں گے۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر کے لیے بات کرنے سے رک گئے اور پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے آخر میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو مال کے چلو بھربھر کے (لوگوں کو) دے گا اور اسے شمار نہیں کرے گا۔“ میں نے ابو نضرہ اور ابوعلاء سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ عمر بن عبدالعزیز ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3754]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 4001
لوگوں کی پٹائی کرنے والوں اور نیم برہنہ عورتوں کی پیشین گوئی اور ان کا انجام
ترقیم الباني: 1893 ترقیم فقہی: -- 3755
-" يكون في هذه الأمة في آخر الزمان رجال معهم سياط كأنها أذناب البقر، يغدون في سخط الله ويروحون في غضبه".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے آخری زمانے میں ایسے لوگ (منظر عام پر) آئیں گے کہ ان کے پاس گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے۔ وہ صبح بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں کریں گے اور شام بھی اس کے غیظ و غضب میں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3755]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1893
ترقیم الباني: 1326 ترقیم فقہی: -- 3756
-" صنفان من أهل النار لم أرهما، قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات رءوسهن كأسنمة البخت المائلة لا يدخلن
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جہنم میں جانے والے دو قسم کے لوگ ابھی تک نہیں دیکھے (۱) وہ لوگ جن کے پاس گائیوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوتے ہیں اور وہ ان سے لوگوں کی پٹائی کرتے ہیں۔ اور (۲) وہ عورتیں جو لباس میں ملبوس ہونے کے باوجود ننگی ہوتی ہیں، لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں اور خود ان کی طرف مائل ہوتی ہیں اس کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح ہوتے ہیں ایسی عورتیں جنت میں داخل ہوں گی نہ اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو بہت دور سے محسوس کی جاتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3756]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1326
دنیا کی محبت کا انجام مغلوبیت ہے
ترقیم الباني: 958 ترقیم فقہی: -- 3757
-" يوشك الأمم أن تداعى عليكم كما تدعى الأكلة إلى قصعتها، فقال قائل: ومن قلة نحن يومئذ؟ قال: بل أنتم يومئذ كثير ولكنكم غثاء كغثاء السيل ولينزعن الله من صدور عدوكم المهابة منكم وليقذفن الله في قلوبكم الوهن، فقال قائل: يا رسول الله وما الوهن؟ قال حب الدنيا وكراهية الموت".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب امتوں کے لوگ تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گے، جیسے بسیار خور (کھانے کے) پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔“ کہنے والے نے کہا: آیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری بہت زیادہ تعداد ہو گی، لیکن تم سیلاب کے کوڑا کرکٹ کی طرح (ہلکے پھلکے اور بے وقعت) ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں «وهن» ڈال دے گا۔“ کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! «وهن» کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت کی کراہیت کو «وهن» کہتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الفتن و اشراط الساعة والبعث/حدیث: 3757]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 958