صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً}:
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”مومنوں میں کچھ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو سچ کر دکھایا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا، پس ان میں کچھ تو ایسے ہیں جو (اللہ کے راستے میں شہید ہو کر) اپنا عہد پورا کر چکے اور کچھ ایسے ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور اپنے عہد سے وہ پھرے نہیں ہیں“۔
حدیث نمبر: 2807
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ أُرَاهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ نَسَخْتُ الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، فَفَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ كُنْتُ أَسْمَع رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ بِهَا فَلَمْ أَجِدْهَا إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ" وَهُوَ قَوْلُهُ" مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ" سورة الأحزاب آية 23.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے ‘ دوسری سند اور مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان نے ‘ میرا خیال ہے کہ محمد بن عتیق کے واسطہ سے ‘ ان سے ابن شہاب (زہری) نے اور ان سے خارجہ بن زید نے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب قرآن مجید کو ایک مصحف (کتابی) کی صورت میں جمع کیا جانے لگا تو میں نے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں پائی جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برابر آپ کی تلاوت کرتے ہوئے سنتا رہا تھا جب میں نے اسے تلاش کیا تو) صرف خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے یہاں وہ آیت مجھے ملی۔ یہ خزیمہ رضی اللہ عنہ وہی ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» (سورۃ الاحزاب: 23) ”مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2807]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں قرآن مجید کو مصاحف میں لکھ رہا تھا کہ میں نے اس دوران میں سورہ احزاب کی ایک آیت گم پائی جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ تلاشِ بسیار کے بعد وہ مجھے حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس مل گئی، جن کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”اہل ایمان میں سے کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
13. بَابُ عَمَلٌ صَالِحٌ قَبْلَ الْقِتَالِ:
باب: جنگ سے پہلے کوئی نیک عمل کرنا۔
حدیث نمبر: Q2808
وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ بِأَعْمَالِكُمْ وَقَوْلُهُ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ {2} كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لا تَفْعَلُونَ {3} إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ {4} سورة الصف آية 2-4.
اور ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ اپنے (نیک) اعمال کی بدولت جنگ کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ صف میں یہ) ارشاد «يا أيها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون * كبر مقتا عند الله أن تقولوا ما لا تفعلون * إن الله يحب الذين يقاتلون في سبيله صفا كأنهم بنيان مرصوص» ”اے لوگو! جو ایمان لا چکے ہو ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑے غصے کی بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو ‘ بیشک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستے میں صف بنا کر ایسے جم کر لڑتے ہیں جیسے سیسہ پلائی ہوئی ٹھوس دیوار ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2808]
حدیث نمبر: 2808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُ وَأُسْلِمُ، قَالَ:" أَسْلِمْ، ثُمَّ قَاتِلْ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَمِلَ قَلِيلًا، وَأُجِرَ كَثِيرًا".
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شبابہ بن سوار فزاری نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب زرہ پہنے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں پہلے جنگ میں شریک ہو جاؤں یا پہلے اسلام لاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اسلام لاؤ پھر جنگ میں شریک ہونا۔ چنانچہ وہ پہلے اسلام لائے اور اس کے بعد جنگ میں شہید ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کم کیا لیکن اجر بہت پایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2808]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جو زرہ پہنے ہوئے تھا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں پہلے جنگ لڑوں یا اسلام لے آؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے اسلام لاؤ، پھر جنگ لڑو۔“ چنانچہ وہ پہلے اسلام لے آیا اور اس کے بعد جنگ میں شریک ہوا، پھر شہید ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے عمل تھوڑا کیا مگر اجر زیادہ پایا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
14. بَابُ مَنْ أَتَاهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ:
باب: کسی کو اچانک نامعلوم تیر لگا اور اس تیر نے اسے مار دیا، اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أُمَّ الرُّبَيِّعِ بِنْتَ الْبَرَاءِ وَهِيَ أُمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَلَا تُحَدِّثُنِي عَنْ حَارِثَةَ وَكَانَ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ صَبَرْتُ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ فِي الْبُكَاءِ، قَالَ: يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى".
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حسین بن محمد ابواحمد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا قتادہ سے ‘ ان سے انس بن مالک نے بیان کیا کہ ام الربیع بنت براء رضی اللہ عنہا جو حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا، اے اللہ کے نبی! حارثہ کے بارے میں بھی آپ مجھے کچھ بتائیں۔ حارثہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے ‘ انہیں نامعلوم سمت سے ایک تیر آ کر لگا تھا۔ کہ اگر وہ جنت میں ہے تو صبر کر لوں اور اگر کہیں اور ہے تو اس کے لیے روؤں دھوؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام حارثہ! جنت کے بہت سے درجے ہیں اور تمہارے بیٹے کو فردوس اعلیٰ میں جگہ ملی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2809]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام ربیع رضی اللہ عنہا جو براء کی بیٹی اور حضرت حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کرنے لگیں: اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے حارثہ رضی اللہ عنہ کے متعلق نہیں بتائیں گے؟ وہ غزوہ بدر میں اچانک تیر لگنے سے شہید ہو گیا تھا۔ اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں، اگر کوئی دوسری بات ہے تو اس پر جی بھر کر رو لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام حارثہ رضی اللہ عنہا! جنت میں تو درجہ بدرجہ کئی باغ ہیں اور تیرا بیٹا فردوسِ اعلیٰ میں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
15. بَابُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا:
باب: جس شخص نے اس ارادہ سے جنگ کی کہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلمہ بلند رہے، اس کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2810
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ:" مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی (لاحق بن ضمیرہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے غنیمت حاصل کرنے کے لیے ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے ناموری کے لیے ‘ ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے تاکہ اس کی بہادری کی دھاک بیٹھ جائے تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون لڑتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس ارادہ سے جنگ میں شریک ہوتا ہے کہ اللہ ہی کا کلمہ بلند رہے ‘ صرف وہی اللہ کے راستہ میں لڑتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2810]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: کوئی آدمی غنیمت کے لیے لڑتا ہے اور کوئی ناموری کے لیے جہاد کرتا ہے، جبکہ کوئی شخص ذاتی بہادری دکھانے کے لیے میدانِ جنگ میں کود پڑتا ہے، تو ایسے حالات میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑے وہی مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2810]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
16. بَابُ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ:
باب: جس کے قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوئے اس کا ثواب۔
حدیث نمبر: Q2811
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ سورة التوبة آية 120.
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (سورۃ براۃ میں) «ما كان لأهل المدينة» سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إن الله لا يضيع أجر المحسنين» تک۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2811]
حدیث نمبر: 2811
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا عَبَايَةُ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْسٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَبْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَتَمَسَّهُ النَّارُ".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ انہیں عبایہ بن رافع بن خدیج نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے ابوعبس رضی اللہ عنہ نے خبر دی ‘ آپ کا نام عبدالرحمٰن بن جبیر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس بندے کے بھی قدم اللہ کے راستے میں غبار آلود ہو گئے ‘ انہیں (جہنم کی) آگ چھوئے؟ (یہ نا ممکن ہے)۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2811]
حضرت ابو عبس عبد الرحمن بن جبر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو گئے، اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2811]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
17. بَابُ مَسْحِ الْغُبَارِ عَنِ النَّاسِ فِي السَّبِيلِ:
باب: اللہ کے راستے میں جن لوگوں پر گرد پڑی ہو ان کی گرد پونچھنا۔
حدیث نمبر: 2812
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ، وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍفَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ فَأَتَيْنَاهُ، وَهُوَ وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ فَاحْتَبَى وَجَلَسَ، فَقَالَ: كُنَّا نَنْقُلُ لَبِنَ الْمَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فمر بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَسَحَ عَنْ رَأْسِهِ الْغُبَارَ، وَقَالَ:" وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی ‘ کہا ہم سے خالد نے بیان کیا عکرمہ سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور (اپنے صاحبزادے) علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے (رضاعی) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو (ہمارے پاس) تشریف لائے اور (چادر اوڑھ کر) گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں (ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی (اطاعت کی) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2812]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عکرمہ اور اپنے صاحبزادے علی بن عبداللہ سے فرمایا کہ تم دونوں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے حدیث سنو، چنانچہ وہ دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ وہ (حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) اور ان کے بھائی اپنے باغ کو پانی دے رہے تھے، جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو تشریف لائے اور اپنی چادر لپیٹ کر بیٹھ گئے، اس کے بعد فرمایا کہ ہم مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے ایک ایک اینٹ اٹھا کر لا رہے تھے جبکہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے۔ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر سے غبار جھاڑتے ہوئے فرمایا: ”افسوس! عمار (رضی اللہ عنہ) کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ عمار انہیں اللہ کی طرف دعوت دیں گے اور وہ انہیں آگ کی طرف بلائیں گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2812]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
18. بَابُ الْغَسْلِ بَعْدَ الْحَرْبِ وَالْغُبَارِ:
باب: جنگ اور گرد غبار کے بعد غسل کرنا۔
حدیث نمبر: 2813
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ الْغُبَارُ، فَقَالَ:" وَضَعْتَ السِّلَاحَ فَوَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ؟ قَالَ: هَا هُنَا وَأَوْمَأَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، قَالَتْ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی ہشام بن عروہ سے ‘ انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ خندق سے (فارغ ہو کر) واپس آئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کرنا چاہا تو جبرائیل علیہ السلام آئے ‘ ان کا سر غبار سے اٹا ہوا تھا۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ نے ہتھیار اتار دیئے ‘ اللہ کی قسم میں نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تو پھر اب کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے فرمایا ادھر اور بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے خلاف لشکر کشی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2813]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خندق سے واپس ہوئے تو آپ نے ہتھیار اتارے اور غسل فرمایا۔ اس وقت جبریل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے جبکہ ان کا سر گردوغبار سے اٹا ہوا تھا، انہوں نے کہا: آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں؟ لیکن اللہ کی قسم! میں نے تو ابھی تک نہیں اتارے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہارا کہاں کا پروگرام ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اس طرف اور بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت ان کی طرف روانہ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2813]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
19. بَابُ فَضْلِ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلاَ تَحْسِبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَنْ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ}:
باب: ان شہیدوں کی فضیلت جن کے بارے میں ان آیات کا نزول ہوا ”وہ لوگ جو اللہ کے راستے میں قتل کر دئیے گئے انہیں ہرگز مردہ مت خیال کرو بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں (وہ جنت میں) رزق پاتے رہتے ہیں، ان (نعمتوں) سے بےحد خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہیں اور جو لوگ ان کے بعد والوں میں سے ابھی ان سے نہیں جا ملے ان کی خوشیاں منا رہے ہیں کہ وہ بھی (شہید ہوتے ہی) بے ڈر اور بے غم ہو جائیں گے۔ وہ لوگ خوش ہو رہے ہیں اللہ کے انعام اور فضل پر اور اس پر کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا“۔
حدیث نمبر: 2814
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:"دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلَاثِينَ غَدَاةً عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ أَنَسٌ: أُنْزِلَ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنٌ قَرَأْنَاهُ، ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اصحاب بئرمعونہ (رضی اللہ عنہم) کو جن لوگوں نے قتل کیا تھا ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس دن تک صبح کی نماز میں بددعا کی تھی۔ یہ رعل ‘ ذکوان اور عصیہ قبائل کے لوگ تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو (70 قاری) صحابہ بئرمعونہ کے موقع پر شہید کر دئیے گئے تھے ‘ ان کے بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی تھی جسے ہم مدت تک پڑھتے رہے تھے بعد میں آیت منسوخ ہو گئی تھی (اس آیت کا ترجمہ یہ ہے) ”ہماری قوم کو پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے آ ملے ہیں ‘ ہمارا رب ہم سے راضی ہے اور ہم اس سے راضی ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2814]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں پر ایک مہینہ بددعا کی جنہوں نے بئر معونہ کے پاس (ستر) قاریوں کو قتل کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رعل، ذکوان اور عصیہ پر بددعا کی کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو لوگ بئر معونہ کے پاس قتل کیے گئے تھے ان کے متعلق قرآن نازل ہوا جو ہم پڑھا کرتے تھے، پھر وہ حصہ منسوخ ہو گیا اور وہ یہ ہے: ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کی ہے، وہ ہم سے خوش ہے، اور ہم اس سے راضی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2814]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة