صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ} إِلَى قَوْلِهِ: {غَفُورًا رَحِيمًا}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء میں) یہ فرمانا کہ ”مسلمانوں میں جو لوگ معذور نہیں ہیں اور جہاد سے بیٹھ رہیں وہ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے، اللہ نے ان لوگوں کو جو اپنے مال اور جان سے جہاد کریں، بیٹھے رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ کا اچھا وعدہ سب کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر بہت بڑی فضیلت دی ہے۔“ اللہ کے فرمان «غفوراً رحيما» تک۔
حدیث نمبر: 2832
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِت أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمْلَى عَلَيْهِ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة النساء آية 95، قَالَ: فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمِلُّهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ، وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي، فَثَقُلَتْ عَلَيَّ حَتَّى خِفْتُ أَنَّ تَرُضَّ فَخِذِي، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ابن شہاب سے ‘ انہوں نے سہل بن سعد زہری رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں مروان بن حکم (خلیفہ اور اس وقت کے امیر مدینہ) کو مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان کے قریب گیا اور پہلو میں بیٹھ گیا اور پھر انہوں نے ہمیں خبر دی کہ زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے آیت لکھوائی «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» انہوں نے بیان کیا پھر عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مجھ سے آیت مذکورہ لکھوا رہے تھے، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اگر مجھ میں جہاد کی طاقت ہوتی تو میں جہاد میں شریک ہوتا۔ وہ نابینا تھے ‘ اس پر اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر تھی میں نے آپ پر وحی کی شدت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کا اتنا بوجھ محسوس کیا کہ مجھے ڈر ہو گیا کہ کہیں میری ران پھٹ نہ جائے۔ اس کے بعد وہ کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ختم ہو گئی اور اللہ عزوجل نے فقط «غير أولي الضرر» نازل فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2832]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے حاکمِ مدینہ جناب مروان بن حکم کو مسجد میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں آ کر اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ اس نے ہمیں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ﴿لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ﴾ [سورة النساء: 95] لکھوا رہے تھے، اتنے میں حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر مجھ میں جہاد کی طاقت ہوتی تو میں بھی جہاد میں شریک ہوتا، وہ نابینا تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی بھیجی، جبکہ آپ کی ران میری ران پر تھی جو مجھ پر اس قدر گراں ہو گئی کہ مجھے میری ران ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا خطرہ محسوس ہوا۔ پھر وہ کیفیت آپ سے کھل گئی تو اللہ تعالیٰ نے ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] کے الفاظ نازل فرمائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2832]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
32. بَابُ الصَّبْرِ عِنْدَ الْقِتَالِ:
باب: کافروں سے لڑتے وقت صبر کرنا۔
حدیث نمبر: 2833
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى كَتَبَ فَقَرَأْتُهُ، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسحاق موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سالم بن ابی النضر نے کہ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے (عمر بن عبیداللہ کو) لکھا تو میں نے وہ تحریر پڑھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جب تمہاری کفار سے مڈبھیڑ ہو تو صبر سے کام لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2833]
حضرت ابو نضر سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے تحریر لکھی جسے میں نے خود پڑھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دشمن سے تمہاری مڈبھیڑ ہو جائے تو صبر سے کام لو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2833]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
33. بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى الْقِتَالِ:
باب: مسلمانوں کو (محارب) کافروں سے لڑنے کی رغبت دلانا۔
حدیث نمبر: Q2834
وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ}.
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان (سورۃ الانفال میں) «حرض المؤمنين على القتال» ”اے رسول! مسلمانوں کو کافروں سے لڑنے کا شوق دلاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2834]
حدیث نمبر: 2834
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَبِيدٌ يَعْمَلُونَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ النَّصَبِ وَالْجُوعِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ" فَقَالُوا: مُجِيبِينَ لَهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا.
سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے بیان کیا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان خندق کی طرف تشریف لے گئے (غزوہ خندق کے شروع ہونے سے کچھ پہلے جب خندق کی کھدائی ہو رہی تھی) ‘ آپ نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین سردی کی سختی کے باوجود صبح ہی صبح خندق کھودنے میں مصروف ہیں ‘ ان کے پاس غلام بھی نہیں تھے جو ان کی اس کھدائی میں مدد کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تھکن اور بھوک کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ”اے اللہ! زندگی تو پس آخرت ہی کی زندگی ہے پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔“ یعنی درحقیقت جو مزہ ہے آخرت کا ہے مزہ۔۔۔ بخش دے انصار اور پردیسیوں کو اے اللہ۔۔۔ صحابہ نے اس کے جواب میں کہا ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کرنے کا عہد کیا ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔“ اپنے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیعت ہم نے کی جب تلک ہے زندگی۔۔۔ لڑتے رہیں گے ہم سدا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2834]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (غزوہ خندق کے روز) خندق کی طرف نکلے تو دیکھا کہ مہاجرین اور انصار سخت سردی میں خندق کھود رہے ہیں جبکہ ان کے پاس کوئی نوکر وغیرہ نہیں تھے جو ان کا یہ کام کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی مشقت اور بھوک وغیرہ دیکھی تو فرمایا: «اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ» ”اے اللہ! عیش تو آخرت ہی کی ہے، لہٰذا تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے۔“ اس کے جواب میں مہاجرین اور انصار نے کہا: «نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا، عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا» ”ہم وہ ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2834]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
34. بَابُ حَفْرِ الْخَنْدَقِ:
باب: خندق کھودنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2835
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَعَلَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يحَفْرِوُنَ الْخَنْدَقِ حول المدينة، وينقلون التراب على متونهم، ويقولون: نحن الذين بايعوا محمدا على الإسلام ما بقينا أبدا والنبي صلى الله عليه وسلم يجيبهم، ويقول:" اللهم إنه لا خير إلا خير الآخره فبارك في الأنصار والمهاجره".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (جب تمام عرب کے مدینہ منورہ پر حملہ کا خطرہ ہوا تو) مدینہ کے اردگرد مہاجرین و انصار خندق کھودنے میں مشغول ہو گئے ‘ مٹی اپنی پشت پر لاد لاد کر اٹھاتے اور (یہ رجز) پڑھتے جاتے ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کے لیے بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رجز کے جواب میں یہ دعا فرماتے ”اے اللہ! آخرت کی خیر کے سوا اور کوئی خیر نہیں ‘ پس تو انصار اور مہاجرین کو برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2835]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مہاجرین اور انصار نے مدینہ طیبہ کے ارد گرد خندق کھودنا شروع کی تو وہ اپنی کمر پر مٹی اٹھا کر باہر لاتے اور یہ کہتے تھے: «نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا» ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کی ہے جب تک ہم خود زندہ ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواب میں فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» ”اے اللہ! آخرت کی بھلائی کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں، لہٰذا تو مہاجرین و انصار میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2835]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2836
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ، وَيَقُولُ:"لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خندق کھودتے ہوئے مٹی) اٹھا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ ”(اے اللہ!) اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی۔“ یعنی تو ہدایت گر نہ ہوتا تو نہ ملتی ہم کو راہ۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2836]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم (خندق کے دن) خود مٹی اٹھاتے اور یہ شعر پڑھتے تھے: ”اے اللہ! اگر تیرا کرم نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2836]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2837
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ التُّرَابَ وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ، يَقُولُ:" لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِل السَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی (خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے «لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا. فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا. إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا.» ”اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بے شک ان لوگوں نے ہم پر ظلم کیا ہے، جب یہ کوئی فساد کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات میں نہیں آتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2837]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب کے دن مٹی اٹھاتے دیکھا اور مٹی نے آپ کے پیٹ کا گورا رخ چھپا لیا تھا، اس وقت آپ یہ فرما رہے تھے: «وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا» ”تو ہدایت گر نہ کرتا تو کہاں ملتی نجات، کیسے پڑھتے ہم نمازیں کیسے دیتے ہم زکاۃ، اب اتار ہم پر تسلی اے شہِ عالی صفات، پاؤں جما دے ہمارے دے لڑائی میں ثبات، بے سبب ہم پر یہ کافر ظلم سے چڑھ آئے ہیں، جب وہ بہکائیں ہم سنتے نہیں ان کی بات۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2837]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
35. بَابُ مَنْ حَبَسَهُ الْعُذْرُ عَنِ الْغَزْوِ:
باب: جو شخص کسی معقول عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو سکا۔
حدیث نمبر: 2838
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، قَالَ:" رَجَعْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساتھ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2838]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2838]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2839
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ:" إِنَّ أَقْوَامًا بِالْمَدِينَةِ خَلْفَنَا مَا سَلَكْنَا شِعْبًا، وَلَا وَادِيًا إِلَّا وَهُمْ مَعَنَا فِيهِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ"، وَقَالَ: مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
امام بخاری رحمہ اللہ حدیث کی دوسری سند بیان کرتے ہیں کہ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ یہ زید کے بیٹے ہیں ‘ ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ (تبوک) پر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ لوگ مدینہ میں ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں لیکن ہم کسی بھی گھاٹی یا وادی میں (جہاد کے لیے) چلیں وہ ثواب میں ہمارے ساتھ ہیں کہ وہ صرف عذر کی وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں آ سکے۔ اور موسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے ‘ ان سے موسیٰ بن انس نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ پہلی سند زیادہ صحیح ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2839]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک لڑائی (تبوک) میں شریک تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ مدینہ طیبہ میں ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں، مگر ہم جس گھاٹی یا میدان میں جائیں گے وہ (ثواب میں) ضرور ہمارے ساتھ ہوں گے کیونکہ وہ کسی عذر کی وجہ سے رک گئے ہیں۔“ (راویِ حدیث) موسیٰ بن عقبہ نے کہا: ہم کو حماد نے حمید سے، انہوں نے موسیٰ بن انس سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا کہ پہلی سند زیادہ صحیح ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2839]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
36. بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ:
باب: جہاد میں روزے رکھنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2840
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَسُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ، وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے یحییٰ بن سعید اور سہیل بن ابی صالح نے خبر دی ‘ ان دونوں حضرات نے نعمان بن ابی عیاش سے سنا ‘ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ‘ آپ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ فرماتے تھے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں (جہاد کرتے ہوئے) ایک دن بھی روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت کی دوری تک دور کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2840]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو ستر سال کی مسافت کے برابر دوزخ کی آگ سے دور کردے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2840]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة