🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. بَابُ مَنْ حَدَّثَ بِمَشَاهِدِهِ فِي الْحَرْبِ:
باب: جو شخص اپنی لڑائی کے کارنامے بیان کرے، اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2824
قَالَهُ أَبُو عُثْمَانَ عَنْ سَعْدٍ.
‏‏‏‏ اس باب میں ابوعثمان نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2824]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2824
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: صَحِبْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وسَعْدًا والْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ وعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ طَلْحَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَوْمِ أُحُدٍ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا محمد بن یوسف سے ‘ ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں طلحہ بن عبیداللہ ‘ سعد بن ابی وقاص ‘ مقداد بن اسود اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم کی صحبت میں بیٹھا ہوں لیکن میں نے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ البتہ طلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ احد کی جنگ کے متعلق بیان کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2824]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں طلحہ بن عبیداللہ، سعد بن ابی وقاص، مقداد بن اسود اور حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہم کا ساتھی رہا ہوں۔ ان میں سے کسی کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا، البتہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا کہ وہ غزوہ احد کے حالات بیان کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2824]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ وُجُوبِ النَّفِيرِ وَمَا يَجِبُ مِنَ الْجِهَادِ وَالنِّيَّةِ:
باب: جہاد کے لیے نکل کھڑا ہونا واجب ہے اور جہاد کی نیت رکھنے کا واجب ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2825
وَقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ سورة التوبة آية 41 لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لاتَّبَعُوكَ وَلَكِنْ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ سورة التوبة آية 42 الْآيَةَ، وَقَوْلِهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الأَرْضِ أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الآخِرَةِ إِلَى قَوْلِهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سورة التوبة آية 38 - 39 يُذْكَرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ انْفِرُوا ثُبَاتٍ سَرَايَا مُتَفَرِّقِينَ يُقَالُ أَحَدُ الثُّبَاتِ ثُبَةٌ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (سورۃ التوبہ میں) کہ نکل پڑو ہلکے ہو یا بھاری اور اپنے مال سے اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو ‘ یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم جانو ‘ اگر کچھ مال آسانی سے مل جانے والا ہوتا اور سفر بھی معمولی ہوتا تو یہ لوگ (منافقین)، اے پیغمبر! ضرور آپ کے ساتھ ہو لیتے لیکن ان کو تو (تبوک) کا سفر ہی دور دراز معلوم ہوا اور یہ لوگ اب اللہ کی قسم کھائیں گے۔ کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو تمہارے ساتھ ضرور نکلتے وہ اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں۔ الآیۃ اور اللہ کا ارشاد اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے جب کہ تم سے کہا جاتا ہے نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے تو تم زمین پر ڈھیر ہو جاتے ہو ‘ کیا تم دنیا کی زندگی پر آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں راضی ہو گئے ہو؟ سو دنیا کی زندگی کا سامان تو آخرت کی زندگی کے سامنے بہت ہی تھوڑا ہے۔ اللہ کے ارشاد اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تک۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے (پہلی آیت کی تفسیر میں) منقول ہے کہ جدا جدا ٹکڑیاں بنا کر جہاد کے لیے نکلو، کہا جاتا ہے کہ «ثبات» (جمع) «ثبة‏» ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2825]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2825
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَوْمَ الْفَتْحِ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ‘ ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے منصور نے بیان کیا مجاہد سے ‘ انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا مکہ فتح ہونے کے بعد (اب مکہ سے مدینہ کے لیے) ہجرت باقی نہیں ہے ‘ لیکن خلوص نیت کے ساتھ جہاد اب بھی باقی ہے اس لیے تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2825]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا: فتح مکہ کے بعد اب (مکہ سے مدینہ کی طرف) ہجرت باقی نہیں رہی لیکن خلوص نیت کے ساتھ جہاد اب بھی باقی ہے، اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2825]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ الْكَافِرِ يَقْتُلُ الْمُسْلِمَ ثُمَّ يُسْلِمُ فَيُسَدِّدُ بَعْدُ وَيُقْتَلُ:
باب: کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے، اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2826
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُسْتَشْهَدُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر ہنس دے گا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا تھا اور پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہو گئے۔ پہلا وہ جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہ شہید ہو گیا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قاتل کو توبہ کی توفیق دی اور وہ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہوا۔ اس طرح دونوں قاتل و مقتول بالآخر جنت میں داخل ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2826]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر ہنس دے گا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا تھا، پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہو گئے۔ پہلا وہ جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور وہ شہید ہو گیا۔ دوسرا اس کا قاتل جسے اللہ تعالیٰ نے توبہ کی توفیق دی کہ وہ مسلمان ہو کر شہید ہو گیا۔ (اس طرح قاتل اور مقتول دونوں جنت میں داخل ہو گئے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2826]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2827
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا افْتَتَحُوهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْهِمْ لِي، فَقَالَ: بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لَا تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ، فَقَالَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ: وَاعَجَبًا لِوَبْرٍ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ يَنْعَى عَلَيَّ قَتْلَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ عَلَى يَدَيَّ، وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَسْهَمَ لَهُ أَمْ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ"، قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنِيهِ السَّعِيدِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:السَّعِيدِيُّ هُوَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عنبسہ بن سعید نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ٹھہرے ہوئے تھے اور خیبر فتح ہو چکا تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرا بھی (مال غنیمت میں) حصہ لگائیے۔ سعید بن العاص کے ایک لڑکے (ابان بن سعید رضی اللہ عنہ) نے کہا یا رسول اللہ! ان کا حصہ نہ لگائیے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ یہ شخص تو ابن قوتل (نعمان بن مالک رضی اللہ عنہ) کا قاتل ہے۔ ابان بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کتنی عجیب بات ہے کہ یہ جانور (یعنی ابوہریرہ ابھی تو پہاڑ کی چوٹی سے بکریاں چراتے چراتے یہاں آ گیا ہے اور ایک مسلمان کے قتل کا مجھ پر الزام لگاتا ہے۔ اس کو یہ خبر نہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے (شہادت) عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں سے ذلیل ہونے سے بچا لیا (اگر اس وقت میں مارا جاتا) تو دوزخی ہوتا ‘ عنبسہ نے بیان کیا کہ اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھی حصہ لگایا یا نہیں۔ سفیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سعیدی نے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ سعیدی سے مراد عمرو بن یحییٰ بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2827]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فتحِ خیبر کے بعد وہاں تشریف فرما تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بھی غنیمت سے حصہ دیں، تو اس پر سعید بن عاص کے ایک بیٹے (ابان بن سعید رضی اللہ عنہ) نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! انھیں مالِ غنیمت سے کچھ نہ دیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ابنِ قوقل کا قاتل ہے۔ سعید بن عاص کے بیٹے نے کہا: واہ! مجھے اس «وَبْر» (بلی نما ایک چھوٹے جانور) جیسے پست قد پر تعجب ہے جو ابھی ابھی اس پہاڑ کی چوٹی سے ہمارے پاس آیا ہے اور مجھ پر اس آدمی کی موت کا عیب لگاتا ہے جو مسلمان تھا اور اسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں عزت و تکریم سے نوازا (کہ وہ شہید ہوا) اور مجھے اس کے ہاتھوں ذلیل نہیں کیا (کہ میں اس کے ہاتھوں قتل نہیں ہوا)۔ راوی کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حصہ دیا یا نہ دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ مجھ سے سعیدی نے، اس نے اپنے دادا سے اور اس نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ (امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ) سعیدی عمرو بن یحییٰ بن سعید بن عمرو، سعید بن عاص کی اولاد سے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2827]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ مَنِ اخْتَارَ الْغَزْوَ عَلَى الصَّوْمِ:
باب: جہاد کو (نفلی روزوں پر) مقدم رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2828
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ أَبُو طَلْحَةَ لَا يَصُومُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ الْغَزْوِ، فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَرَهُ مُفْطِرًا إِلَّا يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ثابت بنانی نے ‘ کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ابوطلحہ زید بن سہیل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جہاد میں شرکت کے خیال سے (نفلی روزے نہیں رکھتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پھر میں نے انہیں عیدالفطر اور عید الاضحی کے سوا روزے کے بغیر نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2828]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں جہاد کی وجہ سے (نفلی) روزے نہیں رکھا کرتے تھے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو میں نے انہیں عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے علاوہ روزے کے بغیر نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2828]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ:
باب: اللہ کی راہ میں مارے جانے کے سوا شہادت کی اور بھی سات قسمیں ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2829
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں سمی نے ‘ انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہید پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔ طاعون میں ہلاک ہونے والا ‘ پیٹ کی بیماری میں ہلاک ہونے والا ‘ ڈوب کر مرنے والا ‘ دب کر مر جانے والا اور اللہ کے راستے میں شہادت پانے والا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2829]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہید پانچ قسم کے ہیں: طاعون میں مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، غرق ہو کر مرنے والا، دیوار کے نیچے دب کر مرنے والا اور پانچواں جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2829]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2830
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو عاصم نے خبر دی حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طاعون کی موت ہر مسلمان کے لیے شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2830]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاعون کی وبا ہر مسلمان کے لیے شہادت کا باعث ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2830]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ} إِلَى قَوْلِهِ: {غَفُورًا رَحِيمًا}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء میں) یہ فرمانا کہ ”مسلمانوں میں جو لوگ معذور نہیں ہیں اور جہاد سے بیٹھ رہیں وہ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے، اللہ نے ان لوگوں کو جو اپنے مال اور جان سے جہاد کریں، بیٹھے رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے۔ یوں اللہ تعالیٰ کا اچھا وعدہ سب کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر بہت بڑی فضیلت دی ہے۔“ اللہ کے فرمان «غفوراً رحيما» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2831
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَاءَ بِكَتِفٍ فَكَتَبَهَا وَشَكَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ فَنَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ابواسحاق سے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ کہتے تھے کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين‏» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ (جو کاتب وحی تھے) کو بلایا ‘ آپ ایک چوڑی ہڈی ساتھ لے کر حاضر ہوئے اور اس آیت کو لکھا اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے جب اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو آیت یوں نازل ہوئی «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر» ۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2831]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب یہ آیت ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة النساء: 95] اہل ایمان میں سے جو لوگ جہاد سے بیٹھ رہیں۔۔۔ آخر آیت تک نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا، تو وہ کندھے کی ہڈی لائے جس پر اس آیت کو لکھا، اتنے میں حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور شکوہ کیا کہ میں تو اندھا ہوں، اس وقت اللہ تعالیٰ نے ﴿غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ﴾ [سورة النساء: 95] یعنی بغیر کسی معذوری کے کے الفاظ نازل فرمائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2831]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں