🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. بَابُ فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ:
باب: اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2841
حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَاهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ، كُلُّ خَزَنَةِ بَابٍ أَيْ فُلُ هَلُمَّ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَاكَ الَّذِي لَا تَوَى عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ".
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا یحییٰ سے ‘ وہ ابوسلمہ سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں ایک جوڑا (کسی چیز کا) خرچ کیا تو اسے جنت کے داروغہ بلائیں گے۔ جنت کے ہر دروازے کا داروغہ (اپنی طرف) بلائے گا کہ اے فلاں! اس دروازے سے آ، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے۔ یا رسول اللہ! پھر اس شخص کو کوئی خوف نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہو گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2841]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں ایک جوڑا خرچ کرے گا اسے جنت کے خازن بلائیں گے۔ ہر دروازے کا خازن کہے گا: اے فلاں! تو میری طرف آ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے تو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوگا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلا شبہ میں امید رکھتا ہوں کہ تم انہی میں سے ہو گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2841]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2842
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" إِنَّمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَرَكَاتِ الْأَرْضِ، ثُمَّ ذَكَرَ زَهْرَةَ الدُّنْيَا فَبَدَأَ بِإِحْدَاهُمَا، وَثَنَّى بِالْأُخْرَى فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا يُوحَى إِلَيْهِ وَسَكَتَ النَّاسُ كَأَنَّ عَلَى رءُوسِهِمُ الطَّيْرَ، ثُمَّ إِنَّهُ مَسَحَ عَنْ وَجْهِهِ الرُّحَضَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا أَوَخَيْرٌ هُوَ ثَلَاثًا، إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ، وَإِنَّهُ كُلَّمَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ حَبَطًا، أَوْ يُلِمُّ، كُلَّمَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ رَتَعَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ لِمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ، فَجَعَلَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْيَتَامَى، وَالْمَسَاكِينِ، وَمَنْ لَمْ يَأْخُذْهُ بِحَقِّهِ فَهُوَ كَالْآكِلِ الَّذِي لَا يَشْبَعُ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا میرے بعد تم پر دنیا کی جو برکتیں کھول دی جائیں گی ‘ میں تمہارے بارے میں ان سے ڈر رہا ہوں کہ (کہیں تم ان میں مبتلا نہ ہو جاؤ) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی رنگینیوں کا ذکر فرمایا۔ پہلے دنیا کی برکات کا ذکر کیا پھر اس کی رنگینیوں کو بیان فرمایا ‘ اتنے میں ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا بھلائی، برائی پیدا کر دے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ سب لوگ خاموش ہو گئے جیسے ان کے سروں پر پرندے ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک سے پسینہ صاف کیا اور دریافت فرمایا سوال کرنے والا کہاں ہے؟ کیا یہ بھی (مال اور دنیا کی برکات) خیر ہے؟ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ دہرایا پھر فرمایا دیکھو بہار کے موسم میں جب ہری گھاس پیدا ہوتی ہے ‘ وہ جانور کو مار ڈالتی ہے یا مرنے کے قریب کر دیتی ہے مگر وہ جانور بچ جاتا ہے جو ہری ہری دوب چرتا ہے ‘ کوکھیں بھرتے ہی سورج کے سامنے جا کھڑا ہوتا ہے۔ لید ‘ گوبر ‘ پیشاب کرتا ہے پھر اس کے ہضم ہو جانے کے بعد اور چرتا ہے ‘ اسی طرح یہ مال بھی ہرا بھرا اور شیریں ہے اور مسلمان کا وہ مال کتنا عمدہ ہے جسے اس نے حلال طریقوں سے جمع کیا ہو اور پھر اسے اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) یتیموں کے لیے مسکینوں کے لیے وقف کر دیا ہو لیکن جو شخص ناجائز طریقوں سے جمع کرتا ہے تو وہ ایک ایسا کھانے والا ہے جو کبھی آسودہ نہیں ہوتا اور وہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ بن کر آئے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2842]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: مجھے تم پر اپنے بعد جس چیز کا خطرہ ہے، وہ صرف یہ کہ زمین کی برکتیں تم پر کھول دی جائیں گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی زیب و زینت اور رونق کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دنیا کی برکات کا ذکر کیا، پھر اس کی رونق کو بیان کیا۔ اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہو کر عرض کرنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا خیر کے ساتھ شر بھی آتا ہے؟ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ ہم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آ رہی ہے۔ لوگ بھی خاموش ہو گئے، گویا ان کے سروں پر پرندے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ صاف کیا اور دریافت فرمایا: ابھی ابھی سوال کرنے والا کہاں ہے جو کہتا تھا یہ مال خیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اسے دہرایا۔ پھر فرمایا: واقعی خیر، خیر ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ (خیر، خیر ہی لاتی ہے) دیکھو! موسمِ بہار میں جب ہری گھاس پیدا ہوتی ہے، وہ جانور کو مار دیتی ہے یا مارنے کے قریب کر دیتی ہے، مگر وہ جانور بچ جاتا ہے جو ہری گھاس چرتا ہے، جب اس کی کوکھیں بھر جائیں تو دھوپ کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے، لید اور پیشاب کرتا ہے، پھر ہضم ہونے کے بعد مزید چرنے لگتا ہے۔ اسی طرح دنیا کا یہ مال بھی ہرا بھرا اور شیریں ہے۔ مسلمان کا وہ مال کتنا عمدہ ہے جو حلال ذرائع سے کمایا ہو، پھر اسے اللہ کے راستے میں، یتیموں اور مسکینوں کے لیے وقف کر دیا، لیکن جس شخص نے ناجائز ذرائع سے مال جمع کیا تو اس کی مثال اس کھانے والے کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔ ایسا مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2842]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ فَضْلِ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ بِخَيْرٍ:
باب: جو شخص غازی کا سامان تیار کر دے یا اس کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خبرگیری کرے، اس کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2843
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ:حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ہم سے حسین نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے بسر بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والے کو ساز و سامان دیا تو وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا اور جس نے خیر خواہانہ طریقہ پر غازی کے گھر بار کی نگرانی کی تو وہ (گویا) خود غزوہ میں شریک ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2843]
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان تیار کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے خود جہاد کیا، اور جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے پیچھے اس کے گھر کی اچھی طرح نگرانی کرے تو اس نے گویا خود ہی جہاد کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2843]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2844
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ بَيْتًا بِالْمَدِينَةِ غَيْرَ بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِ، فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: إِنِّي أَرْحَمُهَا قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي".
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں اپنی بیویوں کے سوا اور کسی کے گھر نہیں جایا کرتے تھے مگر ام سلیم کے پاس جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس پر رحم آتا ہے، اس کا بھائی (حرام بن ملحان) میرے کام میں شہید کر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2844]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے علاوہ مدینہ طیبہ میں کسی کے گھر تشریف نہیں لے جاتے تھے۔ البتہ آپ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر چلے جاتے تھے۔ اس کے متعلق آپ سے عرض کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام سلیم رضی اللہ عنہا کا بھائی میرے ساتھ ایک غزوے میں شہید ہو گیا تھا، اس لیے میں اس سے ہمدردی کرنے کے لیے جاتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2844]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ التَّحَنُّطِ عِنْدَ الْقِتَالِ:
باب: جنگ کے موقع پر خوشبو ملنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2845
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: وَذَكَرَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ، قَالَ: أَتَى أَنَسٌ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ وَقَدْ حَسَرَ عَنْ فَخِذَيْهِ وَهُوَ يَتَحَنَّطُ، فَقَالَ: يَا عَمِّ مَا يَحْبِسُكَ أَنْ لَا تَجِيءَ قَالَ: الْآنَ يَا ابْنَ أَخِي وَجَعَلَ يَتَحَنَّطُ يَعْنِي مِنَ الْحَنُوطِ، ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ فَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ انْكِشَافًا مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: هَكَذَا عَنْ وُجُوهِنَا حَتَّى نُضَارِبَ الْقَوْمَ، مَا هَكَذَا كُنَّا نَفْعَلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ مَا عَوَّدْتُمْ أَقْرَانَكُمْ، رَوَاهُ حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن انس نے بیان کیا جنگ یمامہ کا وہ ذکر کر رہے تھے ‘ بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے ‘ انہوں نے اپنی ران کھول رکھی تھی اور خوشبو لگا رہے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا چچا! اب تک آپ جنگ میں کیوں تشریف نہیں لائے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بیٹے ابھی آتا ہوں اور وہ پھر خوشبو لگانے لگے پھر (کفن پہن کر تشریف لائے اور بیٹھ گئے) مراد صف میں شرکت سے ہے) انس رضی اللہ عنہ نے گفتگو کرتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے کچھ کمزوری کے آثار کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے سامنے سے ہٹ جاؤ تاکہ ہم کافروں سے دست بدست لڑیں ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایسا کبھی نہیں کرتے تھے۔ (یعنی پہلی صف کے لوگ ڈٹ کر لڑتے تھے کمزوری کا ہرگز مظاہرہ نہیں ہونے دیتے تھے) تم نے اپنے دشمنوں کو بہت بری چیز کا عادی بنا دیا ہے (تم جنگ کے موقع پر پیچھے ہٹ گئے) وہ حملہ کرنے لگے۔ اس حدیث کو حماد نے ثابت سے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2845]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جنگ یمامہ کے وقت حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ اپنی دونوں رانیں کھولے «الْحَنُوطُ» (خوشبو) لگا رہے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: چچا! تم جنگ میں کیوں نہیں آتے؟ انہوں نے کہا: بھتیجے! ابھی آتا ہوں، پھر خوشبو لگانے لگے، آخر کار (مجاہدین کی صف میں) آ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے لوگوں کے بھاگنے کا ذکر کیا، پھر اشارہ کیا کہ ہمارے سامنے سے ہٹ جاؤ تاکہ ہم دشمن سے لڑیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم ایسا نہیں کرتے تھے، تم نے اپنے مد مقابل لوگوں کو بری عادت ڈال دی ہے۔ حماد نے بھی «ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ» کے طریق سے یہ روایت بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2845]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. بَابُ فَضْلِ الطَّلِيعَةِ:
باب: دشمنوں کی خبر لانے والے دستہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2846
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، قَالَ: الزُّبَيْرُ أَنَا ثُمَّ، قَالَ: مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ، قَالَ: الزُّبَيْرُ أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دن فرمایا دشمن کے لشکر کی خبر میرے پاس کون لا سکتا ہے؟ (دشمن سے مراد یہاں بنو قریظہ تھے) زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پھر پوچھا دشمن کے لشکر کی خبریں کون لا سکے گا؟ اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری (سچے مددگار) ہوتے ہیں اور میرے حواری (زبیر) ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2846]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب، یعنی غزوہ خندق کے دن فرمایا: میرے پاس دشمن کی خبر کون لائے گا؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں لاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس دشمن کی خبر کون لائے گا؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ گویا ہوئے: میں لاؤں گا۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک مخلص مددگار ہوتا ہے اور میرا مخلص مدد گار زبیر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2846]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. بَابُ هَلْ يُبْعَثُ الطَّلِيعَةُ وَحْدَهُ:
باب: کیا جاسوسی کے لیے کسی ایک شخص کو بھیجا جا سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2847
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: نَدَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، قَالَ: صَدَقَةُ أَظُنُّهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ".
ہم سے صدقہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ابن منکدر نے بیان کیا ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو (بنی قریظہ کی طرف خبر لانے کے لیے) دعوت دی۔ صدقہ (امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد) نے کہا کہ میرا خیال ہے یہ غزوہ خندق کا واقعہ ہے۔ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اس پر لبیک کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور زبیر رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2847]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے لوگوں کو پکارا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق یہ غزوہ خندق کا واقعہ ہے، تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، پھر آواز دی تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہی نے جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تیسری مرتبہ) پکارا تو بھی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہی نے جواب دیا۔ بہر حال تینوں مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک خاص آدمی (مخلص ساتھی) ہوتا ہے، میرا خاص آدمی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2847]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ سَفَرِ الاِثْنَيْنِ:
باب: دو آدمیوں کا مل کر سفر کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2848
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: انْصَرَفْتُ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَنَا أَنَا وَصَاحِبٍ لِي أَذِّنَا وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے وطن کے لیے واپس لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ایک میں تھا اور دوسرے میرے ساتھی ‘ (ہر نماز کے وقت) اذان پکارنا اور اقامت کہنا اور تم دونوں میں جو بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2848]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس (اپنے گھر) آنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے ایک ساتھی سے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی بوقت ضرورت اذان دے سکتا ہے اور اقامت کہہ سکتا ہے لیکن امامت وہی کرائے جو تم میں بڑا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2848]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. بَابُ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ:
باب: قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی ہوئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2849
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت وابستہ رہے گی (کیونکہ اس سے جہاد میں کام لیا جاتا رہے گا)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2849]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت وابستہ رہے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2849]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2850
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ وَابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْجَعْدِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَ سُلَيْمَانُ: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، تَابَعَهُ مُسَدَّدٌ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حصین اور ابن ابی السفر نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عروہ بن جعد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی رہے گی۔ سلیمان نے شعبہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ ان سے عروہ بن ابی الجعد رضی اللہ عنہ نے اس روایت کی متابعت (جس میں بجائے ابن الجعد کے ابن ابی الجعد ہے) مسدد نے ہشیم سے کی، ان سے حصین نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عروہ ابن ابی الجعد نے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2850]
حضرت عروہ بن جعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر و برکت وابستہ ہے۔ سلیمان نے شعبہ سے، انہوں نے عروہ بن ابو جعد سے اس روایت کو بیان کیا ہے۔ مسدد نے ہشیم سے، انہوں نے حصین سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے عروہ بن ابو جعد سے روایت کرنے میں سلیمان کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2850]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں