🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. بَابُ مَنْ رَايَا بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَوْ تَأَكَّلَ بِهِ أَوْ فَخَرَ بِهِ:
باب: اس شخص کی برائی میں جس نے دکھاوے یا شکم پروری یا فخر کے لیے قرآن مجید کو پڑھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5058
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ، وَعَمَلَكُمْ مَعَ عَمَلِهِمْ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى شَيْئًا، وَيَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلَا يَرَى شَيْئًا، وَيَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلَا يَرَى شَيْئًا، وَيَتَمَارَى فِي الْفُوقِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہیں محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں ایک قوم ایسی پیدا ہو گی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے، ان کے روزوں کے مقابلہ میں تمہیں اپنے روزے اور ان کے عمل کے مقابلہ میں تمہیں اپنا عمل حقیر نظر آئے گا اور وہ قرآن مجید کی تلاوت بھی کریں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کرتے ہوئے نکل جاتا ہے اور وہ بھی اتنی صفائی کے ساتھ (کہ تیر چلانے والا) تیر کے پھل میں دیکھتا ہے تو اس میں بھی (شکار کے خون وغیرہ کا) کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ اس سے اوپر دیکھتا ہے وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ تیر کے پر کو دیکھتا ہے اور وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ بس سوفار میں کچھ شبہ گزرتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5058]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ایک ایسی قوم پیدا ہوگی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں حقیر خیال کرو گے۔ تمہیں اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں اور اپنے اعمال ان کے اعمال کے مقابلے میں معمولی نظر آئیں گے۔ وہ قرآن مجید کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کرتے ہوئے نکل جاتا ہے، شکاری اس کے پیکان کو دیکھتا ہے تو اس میں کچھ نہیں پاتا، وہ تیر کی لکڑی پر نظر کرتا ہے تو وہاں کچھ نہیں پاتا، وہ تیر کے پر کو دیکھتا ہے تو کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی، اس کے سوفار (چٹکی) میں شک کرتا ہے کہ شاید اس میں کوئی چیز ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5058]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5059
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالْأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَالْمُؤْمِنُ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالتَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ أَوْ خَبِيثٌ وَرِيحُهَا مُرٌّ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن مجید پڑھتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے میٹھے لیموں کی سی ہے جس کا مزا بھی لذت دار اور خوشبو بھی اچھی اور وہ مومن جو قرآن پڑھتا تو نہیں لیکن اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال کھجور کی ہے جس کا مزہ تو عمدہ ہے لیکن خوشبو کے بغیر اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن بھی نہیں پڑھتا اندرائن کے پھل کی سی ہے جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے (راوی کو شک ہے) کہ لفظ «مر» ہے یا «خبيث» اور اس کی بو بھی خراب ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5059]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا اور اس پر عمل بھی کرتا ہے سنگترے کی طرح ہے جس کا مزہ بھی لذیذ اور خوشبو بھی اچھی ہے، اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا مگر اس کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے اس کی مثال کھجور کی سی ہے جس کا ذائقہ تو اچھا ہے لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی، اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے گلِ بابونہ کی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن بھی نہیں پڑھتا اندرائن کی طرح ہے جس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور اس کی بو بھی خراب ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5059]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ:
باب: قرآن مجید اس وقت تک پڑھو جب تک دل لگا رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5060
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید اس وقت تک پڑھو جب تک اس میں دل لگے، جب جی اچاٹ ہونے لگے تو پڑھنا بند کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5060]
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قرآن مجید اس وقت تک پڑھو جب تک تمہارے دلوں میں الفت رہے، جب اس میں تمہیں اختلاف کا اندیشہ ہو تو اٹھ جاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5060]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5061
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ"، تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَ أَبَانُ، وَقَالَ غُنْدَرٌ: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، سَمِعْتُ جُنْدَبًا قَوْلَهُ، وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ: وجُنْدَبٌ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ.
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس قرآن کو جب ہی تک پڑھو جب تک تمہارے دل ملے جلے یا لگے رہیں۔ جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو۔ (قرآن مجید پڑھنا موقوف کر دو) سلام کے ساتھ اس حدیث کو حارث بن عبید اور سعید بن زید نے بھی ابوعمران جونی سے روایت کیا اور حماد بن سلمہ اور ابان نے اس کو مرفوع نہیں بلکہ موقوفاً روایت کیا ہے اور غندر محمد بن جعفر نے بھی شعبہ سے، انہوں نے ابوعمران سے یوں روایت کیا کہ میں نے جندب سے سنا، وہ کہتے تھے۔ (لیکن موقوفاً روایت کیا) اور عبداللہ بن عون نے اس کو ابوعمران سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا قول روایت کیا (مرفوعاً نہیں کیا) اور جندب کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5061]
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تمہارے دل جمے رہیں قرآن مجید پڑھتے رہو اور جب اختلاف کرنے لگو تو اٹھ جاؤ۔ حارث بن عبید اور سعید بن زید نے ابو عمران سے روایت کرنے میں سلام بن ابو مطیع کی متابعت کی ہے۔ مذکورہ حدیث کو حماد بن سلمہ اور ابان نے مرفوع ذکر نہیں کیا۔ غندر نے شعبہ کے ذریعے سے ابو عمران سے روایت کی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے ان کا قول سنا۔ اور ابن عون نے ابو عمران سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا ہے لیکن جندب کی روایت اصح اور اکثر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5061]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5062
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ آَيَةً سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ فَاقْرَءَا أَكْبَرُ عِلْمِي قَالَ: فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَأَهْلَكَهُمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے، ان سے نزال بن سبرہ نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) کو ایک آیت پڑھتے سنا، وہی آیت انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف سنی تھی۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں صحیح ہو (اس لیے اپنے اپنے طور پر پڑھو۔) (شعبہ کہتے ہیں کہ) میرا غالب گمان یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ (اختلاف و نزاع نہ کیا کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتوں نے اختلاف کیا اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5062]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک آدمی سے سنا جو ایک آیت ایسے طریقے سے پڑھ رہا تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف سنا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ٹھیک پڑھتے ہو۔ میرا غالب گمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: بلاشبہ تم سے پہلے لوگوں نے کتاب اللہ میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5062]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں