🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. بَابُ قَوْلِ الْمُقْرِئِ لِلْقَارِئِ حَسْبُكَ:
باب: قرآن مجید سننے والے کا پڑھنے والے سے کہنا کہ بس کر بس کر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5050
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَأَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ، قَالَ: نَعَمْ. فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41، قَالَ: حَسْبُكَ الْآنَ، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو پڑھ کر سناؤں، آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سناؤ۔ چنانچہ میں نے سورۃ نساء پڑھی جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا‏» پر پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بس کرو۔ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5050]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ! مجھے قرآن سناؤ۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کو قرآن سناؤں، حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل کیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں (تم مجھے قرآن سناؤ)، میں نے سورہ نساء پڑھنا شروع کی حتیٰ کہ میں اس آیت پر پہنچا: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] پھر اس وقت کیا کیفیت ہو گی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو (اے رسول!) ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس کرو، اب یہ کافی ہے۔ میں نے آپ کی طرف غور سے دیکھا تو آپ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5050]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. بَابٌ في كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ:
باب: کتنی مدت میں قرآن مجید ختم کرنا چاہئے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5051
وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ سورة المزمل آية 20.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «فاقرءوا ما تيسر منه‏» کہ پس پڑھو جو کچھ بھی اس میں سے تمہارے لیے آسان ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: Q5051]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5051
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ لِي ابْنُ شُبْرُمَةَ:" نَظَرْتُ كَمْ يَكْفِي الرَّجُلَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَلَمْ أَجِدْ سُورَةً أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ آيَاتٍ، فَقُلْتُ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقْرَأَ أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ آيَاتٍ". قَالَ عَلِيٌّ، قَالَ سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ عَلْقَمَةُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ وَلَقِيتُهُ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن شبرمہ نے بیان کیا (جو کوفہ کے قاضی تھے) کہ میں نے غور کیا کہ نماز میں کتنا قرآن پڑھنا کافی ہو سکتا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک سورت میں تین آیتوں سے کم نہیں ہے۔ اس لیے میں نے یہ رائے قائم کی کہ کسی کے لیے تین آیتوں سے کم پڑھنا مناسب نہیں۔ علی المدینی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم کو منصور نے خبر دی، انہیں ابراہیم نے، انہیں عبدالرحمٰن بن یزید نے، انہیں علقمہ نے خبر دی اور انہیں ابومسعود رضی اللہ عنہ نے (علقمہ نے بیان کیا کہ) میں نے ان سے ملاقات کی تو وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا) کہ جس نے سورۃ البقرہ کے آخری کی دو آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اس کے لیے کافی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5051]
حضرت سفیان بن عیینہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن شبرمہ نے بیان کیا: میں نے غور و فکر کیا کہ (نماز میں) آدمی کو کتنی آیات کافی ہیں، تو میں نے تین آیات سے کم کوئی سورت نہ پائی، اس لیے میں نے کہا: کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ (نماز میں) تین آیات سے کم تلاوت کرے۔ حضرت علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے اس حالت میں ملاقات کی کہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سورہ بقرہ کی آخری دو آیات رات کو پڑھ لے وہ اسے کافی ہو جائیں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5051]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5052
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ، فَكَانَ يَتَعَاهَدُ كَنَّتَهُ، فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا، فَتَقُولُ: نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا، وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" الْقَنِي بِهِ"، فَلَقِيتُهُ بَعْدُ، فَقَالَ:" كَيْفَ تَصُومُ؟" قَالَ: كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ:" وَكَيْفَ تَخْتِمُ؟" قَالَ: كُلَّ لَيْلَةٍ، قَالَ:" صُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةً، وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ"، قَالَ: قُلْتُ: أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْجُمُعَةِ"، قُلْتُ: أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ:" أَفْطِرْ يَوْمَيْنِ وَصُمْ يَوْمًا"، قَالَ: قُلْتُ: أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ، صَوْمَ دَاوُدَ، صِيَامَ يَوْمٍ وَإِفْطَارَ يَوْمٍ، وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً"، فَلَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَاكَ أَنِّي كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ، فَكَانَ يَقْرَأُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ السُّبْعَ مِنَ الْقُرْآنِ بِالنَّهَارِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ يَعْرِضُهُ مِنَ النَّهَارِ لِيَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَقَوَّى أَفْطَرَ أَيَّامًا وَأَحْصَى وَصَامَ مِثْلَهُنَّ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتْرُكَ شَيْئًا، فَارَقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فِي ثَلَاثٍ وَفِي خَمْسٍ وَأَكْثَرُهُمْ عَلَى سَبْعٍ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے مغیرہ بن مقسم نے، ان سے مجاہد بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے میرا نکاح ایک شریف خاندان کی عورت (ام محمد بنت محمیہ) سے کر دیا تھا اور ہمیشہ اس کی خبرگیری کرتے رہتے تھے اور ان سے باربار اس کے شوہر (یعنی خود ان) کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ میری بیوی کہتی کہ بہت اچھا مرد ہے۔ البتہ جب سے میں ان کے نکاح میں آئی ہوں انہوں نے اب تک ہمارے بستر پر قدم بھی نہیں رکھا نہ میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ ڈالا۔ جب بہت دن اسی طرح ہو گئے تو والد صاحب نے مجبور ہو کر اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے اس کی ملاقات کراؤ۔ چنانچہ میں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ روزہ کس طرح رکھتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ روزانہ پھر دریافت فرمایا قرآن مجید کس طرح ختم کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا ہر رات۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کرو۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بلا روزے کے رہو اور ایک دن روزے سے۔ میں نے عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ روزہ رکھو جو سب سے افضل ہے، یعنی داؤد علیہ السلام کا روزہ، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو اور قرآن مجید سات دن میں ختم کرو۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی کیونکہ اب میں بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں۔ حجاج نے کہا کہ آپ اپنے گھر کے کسی آدمی کو قرآن مجید کا ساتواں حصہ یعنی ایک منزل دن میں سنا دیتے تھے۔ جتنا قرآن مجید آپ رات کے وقت پڑھتے اسے پہلے دن میں سنا رکھتے تاکہ رات کے وقت آسانی سے پڑھ سکیں اور جب (قوت ختم ہو جاتی اور نڈھال ہو جاتے اور) قوت حاصل کرنا چاہتے تو کئی کئی دن روزہ نہ رکھتے کیونکہ آپ کو یہ پسند نہیں تھا کہ جس چیز کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے وعدہ کر لیا ہے (ایک دن روزہ رکھنا ایک دن افطار کرنا) اس میں سے کچھ بھی چھوڑیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے تین دن میں اور بعض نے پانچ دن میں۔ لیکن اکثر نے سات راتوں میں ختم کی حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5052]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے والد گرامی نے میرا نکاح ایک خاندانی عورت سے کر دیا اور وہ ہمیشہ اپنی بہو کی خبر گیری کرتے رہتے اور اس سے اس کے شوہر (اپنے بیٹے) کا حال دریافت کرتے رہتے تھے۔ وہ کہتی تھیں کہ میرا شوہر اچھا آدمی ہے البتہ جب سے میں اس کے نکاح میں آئی ہوں انہوں نے اب تک ہمارے بستر پر قدم نہیں رکھا اور کبھی میرے کپڑے ہی میں ہاتھ ڈالا ہے۔ جب بہت سے دن اسی طرح گزر گئے تو میرے والد گرامی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے اس کی ملاقات کراؤ۔ چنانچہ اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم روزے کیسے رکھتے ہو؟ میں نے عرض کی: ہر روز روزے سے ہوتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: قرآن مجید کس طرح ختم کرتے ہو؟ میں نے عرض کی: ہر رات قرآن مجید ختم کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو اور ہر مہینے میں ایک بار قرآن ختم کیا کرو۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ہفتے میں تین روزے رکھا کرو۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دن افطار کرو اور ایک دن روزہ رکھو۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ افضل روزے رکھو جو حضرت داود علیہ السلام کے روزے ہیں ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو اور سات دن میں ایک بار قرآن ختم کرو۔ (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے:) کاش! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت کو قبول کر لیتا کیونکہ اب میں بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں۔ بہرحال حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے کسی آدمی کو قرآن مجید کا ساتواں حصہ سنا دیتے تھے اور جو وہ پڑھتے دن کے وقت اس کا دور کر لیتے تھے تاکہ رات کو پڑھنے میں آسانی رہے اور جب قوت حاصل کرنا چاہتے تو چند روز افطار کر لیتے تھے اور افطار کے دن شمار کر لیتے پھر ان دنوں کے برابر روزے رکھ لیتے کیونکہ وہ اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ وہ ایسی شے ترک کر دیں جس پر پابندی کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مفارقت کی تھی، ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے تین دن میں بعض نے پانچ دن میں قرآن ختم کرنے کا ذکر کیا ہے، لیکن بیشتر روایات سات رات میں قرآن ختم کرنے کی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5052]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5053
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟".
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ قرآن مجید تم کتنے دن میں ختم کر لیتے ہو؟ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5053]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم قرآن مجید کتنے دنوں میں ختم کرلیتے ہو؟ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5053]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5054
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: وَأَحْسِبُنِي قَالَ: سَمِعْتُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، حَتَّى قَالَ: فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ".
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں شیبان نے، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں بنی زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، یحییٰ نے کہا اور میں خیال کرتا ہوں شاید میں نے یہ حدیث خود ابوسلمہ سے سنی ہے۔ بلاواسطہ (محمد بن عبدالرحمٰن کے) خیر ابوسلمہ نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ہر مہینے میں قرآن کا ایک ختم کیا کرو میں نے عرض کیا مجھ کو تو زیادہ پڑھنے کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا سات راتوں میں ختم کیا کرو اس سے زیادہ مت پڑھ۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5054]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ہر مہینے میں ایک بار قرآن مجید ختم کیا کرو۔ میں نے عرض کی: مجھ سے تو زیادہ پڑھنے کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم سات راتوں میں قرآن مجید ختم کیا کرو، اس سے زیادہ نہ پڑھو۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5054]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ الْبُكَاءِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ:
باب: قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت (خوف الٰہی سے) رونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5055
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ يَحْيَى: بَعْضُ الْحَدِيثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں سلیمان نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، انہیں عبیدہ سلمانی نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، یحییٰ بن قطان نے کہا اس حدیث کا کچھ ٹکڑا اعمش نے ابراہیم سے سنا ہے کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5055]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے سامنے قرآن کی تلاوت کرو۔ میں نے عرض کی: کیا میں آپ کو قرآن سناؤں، حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل کیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: بے شک میں چاہتا ہوں کہ کسی اور سے قرآن سنوں۔ انہوں نے کہا: پھر میں نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی۔ جب میں درج ذیل آیت ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [سورة النساء: 41] پھر اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ پر پہنچا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: رک جاؤ۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5055]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5055M
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،قَالَ الْأَعْمَشُ وَبَعْضُ الْحَدِيثِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَعَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ، قَالَ: إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي، قَالَ: فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41، قَالَ لِي: كُفَّ أَوْ أَمْسِكْ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ".
دوسری سند ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، اعمش نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کا ایک ٹکڑا تو خود ابراہیم سے سنا اور ایک ٹکڑا اس حدیث کا مجھ سے عمرو بن مرہ نے نقل کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوالضحیٰ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ میں نے عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میں کیا تلاوت کروں آپ پر تو قرآن مجید نازل ہی ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی اور سے سنوں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر میں نے سورۃ نساء پڑھی اور جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا‏» پر پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) «كف» فرمایا یا «أمسك» راوی کو شک ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5055M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5056
حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ، قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي".
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا: کیا میں سناؤں؟آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کسی سے سننا محبوب رکھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5056]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کی: کیا میں آپ کے سامنے قرآن پڑھوں، حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل کیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں کسی دوسرے سے سننا پسند کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5056]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ مَنْ رَايَا بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَوْ تَأَكَّلَ بِهِ أَوْ فَخَرَ بِهِ:
باب: اس شخص کی برائی میں جس نے دکھاوے یا شکم پروری یا فخر کے لیے قرآن مجید کو پڑھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5057
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے خیثمہ بن عبدالرحمٰن کوفی نے، ان سے سوید بن غفلہ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایک قوم پیدا ہو گی نوجوانوں اور کم عقلوں کی۔ یہ لوگ ایسا بہترین کلام پڑھیں گے جو بہترین خلق کا (پیغمبر کا) ہے یا ایسا کلام پڑھیں گے جو سارے خلق کے کلاموں سے افضل ہے۔ (یعنی حدیث یا آیت پڑھیں گے اس سے سند لائیں گے) لیکن اسلام سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کر کے نکل جاتا ہے ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو۔ کیونکہ ان کا قتل قیامت میں اس شخص کے لیے باعث اجر ہو گا جو انہیں قتل کر دے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5057]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر زمانے میں نوجوان مگر بے وقوف ظاہر ہوں گے، وہ مخلوق کی بہترین ذات کا قول ذکر کریں گے لیکن وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے تیر، شکار کو پار کر کے نکل جاتا ہے، ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، تم جہاں بھی انہیں پاؤ وہیں قتل کر دو، ان کو قتل کرنے کا قیامت کے دن اجر ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5057]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں